🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

89. أُحِلَّتْ ذَبَائِحُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى
یہودیوں اور عیسائیوں کے ذبیحے حلال کیے گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3252
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامري، حدثنا يحيى بن فَصِيل (2) ، حدثنا الحسن بن صالح، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: إنما أُحِلَّت ذبائحُ اليهود والنصارى من أجل أنهم آمنوا بالتَّوراة والإنجيل (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3213 - صحيح
قبیصہ بن ذوئیب سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ایسی دو بہنوں کے متعلق پوچھا جو ایک آدمی کی ملکیت میں ہوں، کیا وہ ان دونوں سے صحبت کر سکتا ہے؟ تو عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آیت نے ان دونوں کو حلال کیا ہے جبکہ دوسری آیت نے دونوں کو حرام کیا ہے، اور رہی میری بات تو میں یہ کام کرنا پسند نہیں کرتا۔ قبیصہ نے کہا کہ وہ آدمی ان کے پاس سے نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی سے ملا تو اس نے کہا: اگر مجھے اس معاملے کا کچھ بھی اختیار ہوتا، پھر میں کسی آدمی کو پاتا جس نے یہ کام کیا ہوتا تو میں اس کو عبرت بنا دیتا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ابن شہاب نے کہا کہ میرے خیال میں وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی اسی طرح اطلاع ملی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3252]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله.» [ترقيم الرساله 3252] [ترقيم الشركة 3232] [ترقيم العلميه 3213]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3253
حدثنا أبو الحسن علي بن محمد القُرشي بالكوفة، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامري، حدثنا مُصعَب بن المقدام، حدثنا سفيان بن سعيد، عن الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ﴾ قال: جعل منكم (1) أنبياء ﴿وَجَعَلَكُمْ مُلُوكًا﴾ قال: المرأةُ والخادمُ ﴿وَآتَاكُمْ مَا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ﴾ [المائدة: 20] قال: الذين هم بين ظَهرانَيهِم يومئذٍ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3214 - على شرط البخاري ومسلم
عبید اللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک عورت اور اس کی بیٹی، جو ایک ہی آدمی کی لونڈیاں ہوں، کے متعلق سوال کیا گیا: کیا آدمی ان دونوں میں سے ایک سے وطی کرنے کے بعد دوسری سے کر سکتا ہے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں پسند نہیں کرتا کہ ان دونوں سے بیک وقت وطی کو جائز قرار دوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3253]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي. سفيان بن سعيد: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3253] [ترقيم الشركة 3233] [ترقيم العلميه 3214]

الحكم على الحديث: إسناده قوي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3254
حدثنا علي بن محمد القرشي، حدثنا الحسن بن علي، حدثنا مُصعَب ابن المِقدام، حدثنا سفيان، عن سَلَمة بن كُهيل، عن مالك بن حُصَين، عن أبيه، عن عليٍّ في قوله تعالى: ﴿رَبَّنَا أَرِنَا اللَّذَيْنِ أَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ أَقْدَامِنَا﴾ [فصلت:29] ، قال: إبليسُ، وابنُ آدمَ الذي قَتَل أخاه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3215 - صحيح
عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ سے ماں اور اس کی بیٹی جو ایک ہی شخص کی ملکیت میں ہوں، کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: میں پسند نہیں کرتا کہ ہم ان دونوں کو جائز قرار دیں، عبید اللہ نے کہا کہ میرے باپ نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ عمر رضی اللہ عنہ اس معاملے میں اس سے بھی زیادہ سخت ہوتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3254]
تخریج الحدیث: «خبر حسنٌ إن شاء الله بمجموع طرقه، وهذا إسناد ليِّن، فمالك بن حصين» [ترقيم الرساله 3254] [ترقيم الشركة 3234] [ترقيم العلميه 3215]

الحكم على الحديث: خبر حسنٌ إن شاء الله بمجموع طرقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں