🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

106. طَعْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ بِيَدِهِ حَتَّى مَاتَ مِنْهُ
رسول اللہ ﷺ نے اُبی بن خلف کو اپنے ہاتھ سے نیزہ مارا جس سے وہ ہلاک ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3302
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حدثنا محمد بن فُلَيح، عن موسى بن عُقْبة، عن ابن شِهاب، عن سعيد بن المسيّب، عن أبيه قال: أقبَلَ أُبَيُّ بن خَلَف يومَ أُحد إلى النبي ﷺ يريده، فاعتَرَض له رجال من المؤمنين، فأَمَرهم رسول الله ﷺ فخَلَّوا سبيلَه، فاستَقبَله مصعبُ بن عُمير أخو بني عبد الدَّار ورأَى رسولُ الله ﷺ تَرقُوَةَ أُبيٍّ من فُرْجةٍ بين سابغةِ الدَّرْع والبَيْضة، فطَعَنه بحَرْبته، فسقط أُبيٌّ عن فرسه ولم يَخرُجُ من طَعْنته دم، فكَسَرَ ضِلَعًا من أضلاعه، فأتاه أصحابه وهو يَخُور خُوَارَ الثَّور، فقالوا له: ما أَعجَزَك! إنما هو خَدْشٌ، فَذَكَرَ لهم قولَ رسول الله ﷺ:"بل أنا أَقتُلُ أُبيًّا"، ثم قال: والذي نفسي بيده لو كان هذا الذي بي بأَهل ذي المَجَازِ لماتوا أجمعين؛ فمات أُبيٌّ إلى النار -فسُحقًا لأصحاب السَّعير- قبل أن يَقدَمَ مكةَ، فأنزل الله: ﴿وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ﴾ الآية [الأنفال: 17] (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3263 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں: جنگ احد کے دن ابی بن خلف ناپاک ارادہ لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بڑھا۔ لیکن کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے آڑے آ گئے۔ آپ نے ان کو حکم دیا کہ اس کا راستہ چھوڑ دیں تو بنی عبدالدار کے بھائی سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ آپ کی جانب رخ کر کے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن خلف کی زرہ اور خود کے درمیان کچھ خالی جگہ دیکھی آپ نے وہیں پر تیر کا نشانہ لگایا (جو اس کو لگا اور) وہ گھوڑے سے نیچے آ گرا، لیکن اس کے زخم سے خون کا ایک قطرہ تک نہ نکلا اس نے اس کا ایک پر توڑ دیا پھر وہ اپنے ساتھیوں میں آیا تو وہ بھینسے کی طرح آواز نکال رہا تھا، لوگوں نے اس سے کہا: تجھے اتنا عاجز کس چیز نے کر دیا ہے؟ یہ ایک ہلکی سی خراش ہی تو آئی ہے پھر اس نے اپنے ساتھیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بتایا (کہ آپ نے فرمایا ہے) ابی کو میں قتل کروں گا پھر اس نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے جو تکلیف مجھے ہو رہی ہے اگر یہ ذی المجاز (علاقے) کے لوگوں کو ہوتی تو سب مر جاتے، پھر ابی بن خلف مکہ آنے سے پہلے واصل جہنم ہو گیا اور بربادی ہے جہنم والوں کے لیے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی: وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَٰلکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی (الانفال: 17) اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3302]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں