المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
106. طَعْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ بِيَدِهِ حَتَّى مَاتَ مِنْهُ
رسول اللہ ﷺ نے اُبی بن خلف کو اپنے ہاتھ سے نیزہ مارا جس سے وہ ہلاک ہوا
حدیث نمبر: 3302
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حدثنا محمد بن فُلَيح، عن موسى بن عُقْبة، عن ابن شِهاب، عن سعيد بن المسيّب، عن أبيه قال: أقبَلَ أُبَيُّ بن خَلَف يومَ أُحد إلى النبي ﷺ يريده، فاعتَرَض له رجال من المؤمنين، فأَمَرهم رسول الله ﷺ فخَلَّوا سبيلَه، فاستَقبَله مصعبُ بن عُمير أخو بني عبد الدَّار ورأَى رسولُ الله ﷺ تَرقُوَةَ أُبيٍّ من فُرْجةٍ بين سابغةِ الدَّرْع والبَيْضة، فطَعَنه بحَرْبته، فسقط أُبيٌّ عن فرسه ولم يَخرُجُ من طَعْنته دم، فكَسَرَ ضِلَعًا من أضلاعه، فأتاه أصحابه وهو يَخُور خُوَارَ الثَّور، فقالوا له: ما أَعجَزَك! إنما هو خَدْشٌ، فَذَكَرَ لهم قولَ رسول الله ﷺ:"بل أنا أَقتُلُ أُبيًّا"، ثم قال: والذي نفسي بيده لو كان هذا الذي بي بأَهل ذي المَجَازِ لماتوا أجمعين؛ فمات أُبيٌّ إلى النار -فسُحقًا لأصحاب السَّعير- قبل أن يَقدَمَ مكةَ، فأنزل الله: ﴿وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ﴾ الآية [الأنفال: 17] (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3263 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3263 - على شرط البخاري ومسلم
سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن ابی بن خلف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف (حملہ کرنے کے ارادے سے) بڑھا، تو کچھ مومنین اس کے سامنے آڑے آئے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا، پھر اس کا سامنا بنو عبدالدار کے بھائی مصعب بن عمیر سے ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن خلف کی ہنسلی کی ہڈی کے پاس زرہ اور خود (ہیلمٹ) کے درمیان کچھ جگہ خالی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی برچھی سے مارا، جس سے ابی اپنے گھوڑے سے گر پڑا، اس کے زخم سے خون تو نہیں نکلا تھا مگر اس کی ایک پسلی ٹوٹ گئی تھی، اس کے ساتھی اس کے پاس آئے تو وہ بیل کی طرح ڈکار رہا تھا، انہوں نے اس سے کہا: تم اتنے کمزور تو نہ بنو! یہ تو محض ایک خراش ہے، تو اس نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان یاد دلایا (جس میں آپ نے فرمایا تھا): ”بلکہ میں ہی ابی کو قتل کروں گا“، پھر اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر یہ (تکلیف) جو مجھے پہنچی ہے، ذو المجاز کے تمام رہنے والوں کو پہنچتی تو وہ سب کے سب مر جاتے، چنانچہ ابی مکہ پہنچنے سے پہلے ہی مر کر واصلِ جہنم ہوا، پس دوزخیوں کے لیے ہلاکت ہو، تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ﴾ ”اور (اے حبیب!) آپ نے نہیں پھینکا تھا جب آپ نے پھینکا تھا“ [سورة الأنفال: 17]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3302]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3302]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي.» [ترقيم الرساله 3302] [ترقيم الشركة 3282] [ترقيم العلميه 3263]
الحكم على الحديث: إسناده قوي.