🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. باب الْمُلْتَزَمِ
باب: ملتزم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1898
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، قَالَ:" لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قُلْتُ: لَأَلْبَسَنَّ ثِيَابِي، وَكَانَتْ دَارِي عَلَى الطَّرِيقِ، فَلَأَنْظُرَنَّ كَيْفَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ مِنْ الْكَعْبَةِ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَقَدِ اسْتَلَمُوا الْبَيْتَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الْحَطِيمِ، وَقَدْ وَضَعُوا خُدُودَهُمْ عَلَى الْبَيْتِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَهُمْ".
عبدالرحمٰن بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو میں نے کہا: میں اپنے کپڑے پہنوں گا (میرا گھر راستے میں تھا) پھر میں دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں، تو میں گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کعبۃ اللہ کے اندر سے نکل چکے ہیں اور سب لوگ بیت اللہ کے دروازے سے لے کر حطیم تک کعبہ سے چمٹے ہوئے ہیں، انہوں نے اپنے رخسار بیت اللہ سے لگا دئیے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے بیچ میں ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1898]
سیدنا عبد الرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو میں نے کہا: میں اپنے کپڑے ضرور پہنوں گا، میرا گھر راستے ہی پر تھا اور بالضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کرتے ہیں۔ چنانچہ میں چلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کعبہ کے اندر سے نکل چکے تھے اور دروازے سے حطیم تک بیت اللہ کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے، انہوں نے اپنے رخسار کعبے کے ساتھ لگائے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان میں تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1898]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9703)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/430، 431) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ 2138)
وضاحت: ۱؎: ملتزم: کعبہ کا وہ حصہ جو حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان واقع ہے، لوگ اس سے چمٹ کر دعا مانگتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يزيد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1899
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" طُفْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، فَلَمَّا جِئْنَا دُبُرَ الْكَعْبَةِ، قُلْتُ: أَلَا تَتَعَوَّذُ؟ قَالَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَأَقَامَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ فَوَضَعَ صَدْرَهُ وَوَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَكَفَّيْهِ هَكَذَا وَبَسَطَهُمَا بَسْطًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ".
شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا، جب ہم لوگ کعبہ کے پیچھے آئے تو میں نے کہا: کیا آپ پناہ نہیں مانگیں گے؟ اس پر انہوں نے کہا: ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی آگ سے، پھر وہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، اور حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان کھڑے رہے اور اپنا سینہ، اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیاں اس طرح رکھیں اور انہوں نے انہیں پوری طرح پھیلایا، پھر بولے: اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1899]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو) سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا۔ جب ہم کعبہ کے پیچھے کی جانب آئے تو میں نے کہا: کیا آپ تعوذ نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا: «نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں دوزخ سے۔ پھر چلتے آئے حتیٰ کہ حجر اسود کا استلام کیا اور حجر اسود اور دروازے کے درمیان رک گئے پھر اپنا سینہ اور چہرہ اس پر رکھا، اپنی کلائیوں اور ہاتھوں کو اس طرح کیا اور انہیں خوب پھیلایا (یعنی پھیلا کر دکھایا) پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المناسک 35 (2962)، (تحفة الأشراف: 8776) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی مثنی ضعیف ہیں، لیکن شواہد اور متابعات کی وجہ سے تقویت پا کر یہ حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملتزم سے چمٹے ہوئے تھے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2962)
المثني بن الصباح :’’ ضعيف،اختلط بأخرة،وكان عابدًا ‘‘ (تق : 6471) وقال الھيثمي: وضعفه ا لجمھور (مجمع الزوائد 2/5) وقال: وھو متروك عند الجمھور(مجمع الزوائد 297/4 وانظر 70/5،123،157/4)
ولأصل الحديث شواھد موقوفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1900
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ عَمْرٍو الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ،عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُودُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَيُقِيمُهُ عِنْدَ الشُّقَّةِ الثَّالِثَةِ مِمَّا يَلِي الرُّكْنَ الَّذِي يَلِي الْحَجَرَ مِمَّا يَلِي الْبَابَ، فَيَقُولُ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي هَا هُنَا، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُومُ فَيُصَلِّي".
عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لے کر جاتے (جب ان کی بینائی ختم ہو گئی) اور ان کو اس تیسرے کونے کے پاس کھڑا کر دیتے جو اس رکن کعبہ کے قریب ہے جو حجر اسود کے قریب ہے اور دروازے سے ملا ہوا ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما ان سے کہتے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ نماز پڑھتے تھے؟ وہ کہتے: ہاں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1900]
جناب محمد بن عبداللہ بن سائب اپنے والد (عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑ کر چلتے تھے (جبکہ وہ نابینا ہو چکے تھے) اور انہیں تیسرے کونے کے پاس کھڑا کر دیتے تھے جو کہ حجر اسود کے ساتھ دروازہ کعبہ کے پاس ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اسے کہتے: کیا خبر دی گئی ہے تمہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں نماز پڑھا کرتے تھے؟ تو وہ کہتے کہ: ہاں! پھر وہ کھڑے ہو جاتے اور نماز پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الحج 133 (2921)، (تحفة الأشراف: 5317)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/410) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی محمد بن عبداللہ بن سائب مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2921)
محمد بن عبد اللّٰه بن السائب : مجهول (تق : 6022)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں