🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
55. باب الملتزم
باب: ملتزم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1900
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ عَمْرٍو الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ،عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُودُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَيُقِيمُهُ عِنْدَ الشُّقَّةِ الثَّالِثَةِ مِمَّا يَلِي الرُّكْنَ الَّذِي يَلِي الْحَجَرَ مِمَّا يَلِي الْبَابَ، فَيَقُولُ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي هَا هُنَا، فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُومُ فَيُصَلِّي".
عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لے کر جاتے (جب ان کی بینائی ختم ہو گئی) اور ان کو اس تیسرے کونے کے پاس کھڑا کر دیتے جو اس رکن کعبہ کے قریب ہے جو حجر اسود کے قریب ہے اور دروازے سے ملا ہوا ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما ان سے کہتے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ نماز پڑھتے تھے؟ وہ کہتے: ہاں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1900]
جناب محمد بن عبداللہ بن سائب اپنے والد (عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑ کر چلتے تھے (جبکہ وہ نابینا ہو چکے تھے) اور انہیں تیسرے کونے کے پاس کھڑا کر دیتے تھے جو کہ حجر اسود کے ساتھ دروازہ کعبہ کے پاس ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اسے کہتے: کیا خبر دی گئی ہے تمہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں نماز پڑھا کرتے تھے؟ تو وہ کہتے کہ: ہاں! پھر وہ کھڑے ہو جاتے اور نماز پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الحج 133 (2921)، (تحفة الأشراف: 5317)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/410) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی محمد بن عبداللہ بن سائب مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2921)
محمد بن عبد اللّٰه بن السائب : مجهول (تق : 6022)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبد الله بن السائب المخزومي، أبو السائب، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن السائب المخزومي ← عبد الله بن العباس القرشي
صحابي
👤←👥محمد بن عبد الله القرشي
Newمحمد بن عبد الله القرشي ← عبد الله بن السائب المخزومي
مجهول
👤←👥السائب بن عمر القرشي
Newالسائب بن عمر القرشي ← محمد بن عبد الله القرشي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← السائب بن عمر القرشي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥عبيد الله بن عمر الجشمي، أبو سعيد
Newعبيد الله بن عمر الجشمي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1900
يصلي ها هنا فيقول نعم فيقوم فيصلي
سنن النسائى الصغرى
2921
يصلي هاهنا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1900 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1900
1900. اردو حاشیہ: سند اس روایت کی بھی ضعیف ہے۔ مگر دیگر روایات کی روشنی میں صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین سے یہ عمل ثابت ہے۔اورصحیح ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1900]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2921
کعبہ میں نماز پڑھنے کی جگہ کا بیان؟
عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو (جب بڑھاپے سے ان کی بینائی جاتی رہی تھی) سہارا دے کر لے جاتے اور لے کر خانہ کعبہ کے انہیں تیسرے کونے میں جو اس رکن کے قریب ہے جو حجر اسود سے متصل ہے اور بیت اللہ کے دروازے سے بھی قریب ہے کھڑا کر دیتے تھے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے: کیا تمہیں نہیں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہیں نماز پڑھتے تھے، وہ کہتے: جی ہاں، بتایا گیا، تو وہ آگے بڑھتے اور نماز پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2921]
اردو حاشہ:
تیسرے حصے کے پاس یعنی بیت اللہ کی مشرقی دیوار کا رکن یمانی والا حصہ۔ یہ دروازے کے سامنے والی جگہ بنتی ہے۔ باقی دیوار دو حصے ہے۔ ممکن ہے اس دور میں فرش یا دیوار پر حصوں کے نشان لگائے گئے ہوں۔ یا ممکن ہے وہ اندازہ لگاتے ہوں۔ واللہ أعلم یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2921]

Sunan Abi Dawud Hadith 1900 in Urdu