🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
55. باب الملتزم
باب: ملتزم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1899
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" طُفْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، فَلَمَّا جِئْنَا دُبُرَ الْكَعْبَةِ، قُلْتُ: أَلَا تَتَعَوَّذُ؟ قَالَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَأَقَامَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ فَوَضَعَ صَدْرَهُ وَوَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَكَفَّيْهِ هَكَذَا وَبَسَطَهُمَا بَسْطًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ".
شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا، جب ہم لوگ کعبہ کے پیچھے آئے تو میں نے کہا: کیا آپ پناہ نہیں مانگیں گے؟ اس پر انہوں نے کہا: ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی آگ سے، پھر وہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، اور حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان کھڑے رہے اور اپنا سینہ، اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیاں اس طرح رکھیں اور انہوں نے انہیں پوری طرح پھیلایا، پھر بولے: اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المناسک 35 (2962)، (تحفة الأشراف: 8776) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی مثنی ضعیف ہیں، لیکن شواہد اور متابعات کی وجہ سے تقویت پا کر یہ حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملتزم سے چمٹے ہوئے تھے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2962)
المثني بن الصباح :’’ ضعيف،اختلط بأخرة،وكان عابدًا ‘‘ (تق : 6471) وقال الھيثمي: وضعفه ا لجمھور (مجمع الزوائد 2/5) وقال: وھو متروك عند الجمھور(مجمع الزوائد 297/4 وانظر 70/5،123،157/4)
ولأصل الحديث شواھد موقوفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 73

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥المثنى بن الصباح، أبو يحيى، أبو عبد الله
Newالمثنى بن الصباح ← عمرو بن شعيب القرشي
ضعيف اختلط بآخرة
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← المثنى بن الصباح
ثقة مأمون
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1899
وضع صدره ووجهه وذراعيه وكفيه هكذا وبسطهما بسطا ثم قال هكذا رأيت رسول الله يفعله
سنن ابن ماجه
2962
أعوذ بالله من النار قال ثم مضى فاستلم الركن ثم قام بين الحجر والباب فألصق صدره ويديه وخده إليه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1899 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1899
1899. اردو حاشیہ: یہ سند ضعیف ہے۔مگر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ عروہ بن زبیر اوردیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے عمل سے صحیح ثابت ہے۔اس طرح یہ روایت درجہ حسن تک پہنچ جاتی ہے۔(مناسک الحج والعمرۃ ص 22 ازعلامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ ]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1899]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2962
ملتزم کا بیان۔
شعیب کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے دادا) عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا، جب ہم سات پھیروں سے فارغ ہوئے، تو ہم نے کعبہ کے پیچھے طواف کی دو رکعتیں ادا کیں، میں نے کہا: کیا ہم جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ نہ چاہیں؟ انہوں نے کہا: میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، شعیب کہتے ہیں: پھر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے چل کر حجر اسود کا استلام کیا، پھر حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے، اور اپنا سینہ، دونوں ہاتھ اور چہرے کو اس سے چمٹا دیا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2962]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے مگر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ عروہ بن زبیر اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے عمل سے صحیح ثابت ہے۔
شیخ البانی ؒ نے غالباً اسی وجہ سے مذکورہ روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة رقم: 2138 ومناسك الحج والعمرة للألباني ص: 22)

(2)
طواف کی دو رکعتیں پڑھ کر اپنے لیے اور اپنے عزیزوں دوستوں کے لیے کوئی مناسب دعا مانگی جا سکتی ہے جیسے حضرت شعیب بن محمد ؒ اور حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ نے جہنم سے محفوظ رہنے کی دعا مانگی۔

(3)
حجر اسود اور کعبہ کے درمیان کی جگہ ملتزم کہلاتی ہے۔
اس جگہ کعبہ شریف کی عمارت سے سینہ اور چہرہ لگانا مسنون ہے تاہم بھیڑ کے وقت دھکم پیل سے پرہیز کرنا چاہیے۔

(4)
کعبہ شریف کی عمارت سے اس طرح لپٹنا صرف ملتزم کے مقام پر مسنون ہے۔
کعبہ کے دوسرے حصوں سے اس طرح لپٹنا مسنون نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2962]