المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
155. ذِكْرُ أُوَيْسٍ الْقَرَنِيِّ وَمَوَاعِظِهِ وَشَهَادَةِ أُوَيْسٍ الْقَرَنِيِّ فِي عَسْكَرِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
سیدنا اویس قرنی کا ذکر، ان کی نصیحتیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں ان کی شہادت
حدیث نمبر: 3426
أخبرني الحسن بن حَلِيم المروَزي، حدثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا جعفر بن سليمان [عن الجُرَيري] (1) عن أبي نَضْرة العَبْدي، عن أُسَير بن جابر، قال: قال لي صاحبٌ لي وأنا بالكوفة: هل لك في رجلٍ تَنظُر إليه؟ قلت: نعم، قال: هذه مَدرَجَتُه - وأُريدَ أُوَيسٌ القَرَني - قال: وأظنه سيَمرُّ الآن، قال: فجلسنا له، فمَرَّ، فإذا رجلٌ عليه سَمَلُ (2) قَطِيفةٍ، قال: والناس يَطَؤُونَ عَقِبَه، قال: وهو يُقبِلُ فيُغلِظُ لهم ويكلِّمُهم في ذلك فلا يَنتهُون عنه، قال: فمَضَينا مع الناس حتى دخل مسجدَ الكوفة ودخلنا معه، فتنحَّى إلى سارية فصلَّى ركعتين، ثم أَقبلَ إلينا بوجهه، ثم قال: يا أيُّها الناس، ما لي ولكم تطؤون عَقِبي في كل سِكَّة، وأنا إنسان ضعيف تكون لي الحاجةُ فلا أَقدِرُ عليها معكم، لا تفعلوا رَحِمَكم اللهُ، مَن كانت له إليَّ حاجةٌ فليلْقني ها هنا. قال: وكان عمر بن الخطَّاب سأل وَفْدًا قَدِمُوا عليه: هل سَقَطَ إليكم رجلٌ من قَرَنٍ من أمرِه كَيْتَ وكَيْتَ؟ فقال الرجل لأُوَيسٍ: ذَكَرَك أمير المؤمنين، ولم يَذكُر ذلك لنا، فقال (3) : ما كان ذلك من ذِكْره ما أتبلَّغُ إليكم به، قال: وكان أُويسٌ أَخَذَ على الرجل عهدًا ومِيثاقًا أن لا يُحدِّثَ به غيرَه. قال: ثم قال أُويس: إنَّ هذا المجلس يَغشاهُ ثلاثةُ نَفرٍ: مؤمنٌ فقيه، ومؤمنٌ لم يَفقَهْ، ومنافقٌ، وذلك في الدنيا مِثلُ الغيثِ يَنزِلُ من السماءِ إلى الأرضِ فيصيبُ الشجرةَ المُورِقةَ المُونِعةَ (1) المثمِرةَ، فيزيد ورقَها حُسْنًا ويزيدُها إيناعًا، وكذلك يزيد ثمرتَها طِيبًا، ويصيبُ الشجرةَ المُورِقةَ المُونِعةَ التي ليس لها ثمرةٌ فيزيدها إيناعًا ويزيدها وَرَقًا وحُسنًا، ويكون لها ثمرةٌ فتَلحَقُ بأُختها، ويصيب الهَشِيمَ من الشجر فيَحطِمُه فيذهب به، قال: ثم قرأ الآية: ﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا﴾ [الإسراء: 82] ، لم يُجالِسْ هذا القرآنَ أحدٌ إِلَّا قام عنه بزيادةٍ أو نُقْصان، فقضاءُ الله الذي قَضَى شِفاءٌ ورحمةٌ للمؤمنين، ولا يزيدُ الظالمين إلَّا خَسَارًا، اللهمَّ ارزُقْني شهادةً تسبق كِشْرتُها (2) أَذاها وأمْنُها فَزَعَها، تُوجِب الحياةَ والرِّزق، ثم سكت. قال أُسير: فقال لي صاحبي: كيف رأيتَ الرجل؟ قلت: ما ازددتُ فيه إِلَّا رَغْبةً، وما أنا بالذي أفارقُه. فَلَزِمْناه، فلم نَلبَثْ إِلَّا يسيرًا حتى ضُرِبَ على الناس بَعْثُ أميرِ المؤمنين عليٍّ، فخرج صاحبُ القَطِيفة أُويسٌ فيه وخرجنا معه فيه، وكنّا نسيرُ معه ونَنزِل معه حتى نَزَلْنا بحَضْرة العدوِّ. قال ابن المبارك: فأخبرني حمَّادُ بن سَلَمة، عن الجُريري، عن أبي نَضْرة، عن أُسير بن جابر قال: فنادى منادي علي: يا خيلَ الله اركَبي وأَبشِري، قال: فصَفَّ الثُّلثين لهم، فانتَضَى صاحبُ القَطيفة أُويسٌ سيفَه (3) حتى كَسَرَ جَفْنَه فألقاه، ثم جعل يقول: يا أيها الناس، تِمُّوا تِمُّوا لتَتِمَّنَّ وجوهٌ ثم لا تَنصرِفُ حتى تَرَى الجنة، يا أيها الناس، تِمُّوا تِمُّوا، جعل يقول ذلك ويمشي وهو يقول ذلك ويمشي، إذ جاءته رَمْيةٌ فأصابت فؤادَه، فبَرَدَ مكانَه كأنما مات منذُ دَهْرٍ. قال حماد في حديثه: فوارَيْناه في التُّراب (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وأُسير بن جابر من المُخضرَمِين، وُلِدَ في حياة رسول الله ﷺ، وهو من كِبَار أصحاب عمر ﵁.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3386 - صحيح وعلى شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وأُسير بن جابر من المُخضرَمِين، وُلِدَ في حياة رسول الله ﷺ، وهو من كِبَار أصحاب عمر ﵁.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3386 - صحيح وعلى شرط مسلم
سیدنا اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں کوفہ میں تھا۔ مجھے میرے ساتھی نے کہا: ایک آدمی ہے، کیا تم اس کی زیارت پسند کرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: یہ اسی کے گزرنے کی جگہ ہے اور وہ سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ ہے اور میرا غالب گمان ہے کہ ابھی وہ ادھر سے گزریں گے۔ تو وہ اِدھر سے گزرے۔ وہ ایک ایسا شخص تھا جس پر ایک کھردری بوسیدہ چادر تھی اور لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلے آ رہے تھے۔ وہ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر انہیں سخت سست بھی کہتا اور اپنے پیچھے آنے سے منع بھی کرتا، لیکن لوگ اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے۔ ہم بھی لوگوں کے ہمراہ ہو لیے۔ وہ کوفہ کی جامع مسجد میں داخل ہوئے، ہم بھی ان کے ساتھ مسجد میں چلے گئے۔ وہ ایک ستون کی طرف الگ جا کر کھڑے ہوئے اور دو رکعت نوافل ادا کیے پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر بولے: اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم گلی گلی میرے پیچھے پیچھے آ رہے ہو، میں ایک کمزور انسان ہوں، مجھے ایک ضروری کام تھا جو آپ لوگوں کے اس رویہ کی وجہ سے مجھے پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، ایسا مت کرو، اگر کسی کو میرے ساتھ کوئی کام ہے تو وہ یہیں پر مجھ سے ملاقات کر لے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہر وفد سے دریافت کیا کرتے تھے کہ تم میں سے کوئی شخص فلاں آدمی کو جانتا ہے جس کی یہ یہ علامات ہیں۔ ایک آدمی نے سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات بتائی کہ امیرالمومنین رضی اللہ عنہما آپ کو یاد کیا کرتے ہیں اور ان کے یاد کرنے کی کیفیت کو میں تمہیں من و عن بیان نہیں کر سکتا ہوں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: یہ بھی اس کے ذکر میں سے ہے جو آپ تک بات پہنچی ہے۔ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے یہ وعدہ لیا کہ وہ یہ بات کسی اور کو نہیں بتائیں گے۔ پھر سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس مجلس میں تین طرح کے لوگ موجود ہیں کچھ تو مومن فقیہ ہیں اور کچھ مومن تو ہیں لیکن فقیہ نہیں ہیں اور کچھ منافق اور یہ دنیا میں اس بارش کی طرح ہیں جو آسمان سے زمین پر نازل ہوتی ہے، یہ بارش پکے ہوئے پھلوں والے گنجان درخت پر پڑتی ہے تو اس سے اس کے پتوں میں اور بھی نکھار آ جاتا ہے اور پھلوں کی مٹھاس بھی بڑھ جاتی ہے اور اس کے پھل مزید عمدہ ہو جاتے ہیں اور یہی بارش ایسے درخت پر بھی پڑتی ہے جو گنجان اور پھل والا تو ہوتا ہے لیکن اس میں ابھی پھل نہیں آئے ہوتے تو یہ بارش اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے اور اس میں پھل آ جاتے ہیں۔ تو یہ بھی اسی درخت کے ساتھ شامل ہے اور یہی بارش ٹوٹے ہوئے درخت پر بھی پڑتی ہے لیکن اس کو مزید توڑ کر ضائع کر دیتی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ھُوَ شِفَآئٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَلَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا (الاسراء: 82) ” اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کو نقصان ہی بڑھتا ہے “۔ یہ قرآن جس کی بھی صحبت میں ہوتا ہے جب وہاں سے اٹھتا ہے تو کوئی نہ کوئی کمی یا زیادتی ضرور کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا فیصلہ وہی ہے جو اس نے کر دیا ہے کہ یہ مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا نقصان بڑھتا ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسی شہادت عطا فرما جس کی شکست پر اس کی تکلیف سبقت کرے اور اس کی گھبراہٹ اس کے امن پر سابق ہو، جو زندگی اور رزق کا باعث ہو، پھر آپ خاموش ہو گئے۔ سیدنا اسیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر میرے ساتھی نے کہا: تم نے اس شخص کو کیسا دیکھا؟ میں نے کہا: اس کو دیکھ کر میری اس میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے اور اب میں کبھی بھی اس سے جدا نہیں ہوں گا۔ پھر ہم ان کے ہمراہ زیادہ دیر نہیں رہے تھے کہ امیرالمومنین رضی اللہ عنہما سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی روانگی کا اعلان ہو گیا تو وہ گدڑی والے سیدنا اویس اس میں نکل پڑے، ہم بھی ان کے ہمراہ نکل پڑے، ہم ان کے ساتھ ہی سفر کرتے اور ان کے ہمراہ ہی پڑاؤ ڈالتے۔ حتیٰ کہ ہم دشمن کے مدمقابل جا پہنچے۔ سیدنا اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ایک منادی نے اعلان کیا: اے اللہ تعالیٰ کے لشکر! سوار ہو جاؤ اور تمہیں خوشخبری ہو اس لشکر کی 30 صفیں بنیں۔ صاحب قطیفہ (گدڑی والے) سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار نیام سے نکال کر سونت لی اور انہوں نے اپنا کھانے والا پیالا توڑ کر پھینک دیا۔ پھر آپ یوں کہنے لگے: اے لوگو! ثابت قدم رہو، ثابت قدم رہو، جب میدان جنگ میں آؤ تو منہ مت پھیرو حتیٰ کہ تم جنت کو دیکھ لو، اے لوگو! ثابت قدم رہو، ثابت قدم رہو، یہ مسلسل کہہ رہے تھے اور آگے بڑھ رہے تھے، یہ کہہ رہے تھے اور پیش قدمی کر رہے تھے حتیٰ کہ ایک تیر آ کر آپ کے سینے میں لگا، جس سے آپ وہیں پر ٹھنڈے ہو گئے اور یوں لگتا تھا کہ آپ بہت عرصے سے فوت ہوئے پڑے ہیں۔ نوٹ: حماد نے اپنی روایت میں یہ بھی نقل کیا ہے: ہم نے ان کو مٹی میں دفن کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ مخضرمین میں شمار ہوتے ہیں، ان کی پیدائش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاۃ طیبہ میں ہی ہو گئی تھی یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کبار ساتھیوں میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3426]