🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

162. سَلُوا اللَّهَ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهَا سُرَّةُ الْجَنَّةِ
اللہ سے جنت الفردوس مانگو کیونکہ وہ جنت کا سب سے اعلیٰ حصہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3442
أخبرني أبو أحمد محمد بن محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طَلْحة، قولَ الله ﷿: ﴿كَانَتْ (2) لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا﴾ [الكهف: 107] ، قال عمرو: أخبرنا إسرائيل بن يونس، عن جعفر بن الزُّبير، عن القاسم، عن أبي أُمامة قال: قال رسول الله ﷺ:"سَلُوا اللهَ الفِردَوسَ، فإنها سُرَّةُ الجنَّة" (3) .
هذا حديث لم نَكتُبه إلَّا بهذا الإسناد، ولم نَجِدْ بُدًّا من إخراجه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3402 - جعفر هالك
سیدنا عمرو بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: کَانَتْ لَھُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا (الکھف: 107) فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے ۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سے فردوس مانگا کرو کیونکہ یہ جنت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث ہم نے صرف اسی سند کے ہمراہ نقل کی ہے اور اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3442]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3443
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا النَّضْر بن شُمَيل، حدثني أبو قُرَّة الأَسَدي قال: سمعت سعيدَ بن المسيّب يحدِّث عن عمر بن الخطَّاب قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّه قد أُوحِيَ إليَّ أنه (1) ﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ [الكهف: 110] كان له نُورًا من أَبيَنَ إلى مكة حَشْوُهُ (2) الملائكةُ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3403 - أبو قرة فيه جهالة ولم يضعف
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جو شخص اپنے رب کی ملاقات چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، اس کے لیے (مقام) ابین سے مکہ تک (کی مسافت کے برابر) نور ہو گا جہاں فرشتے ہی فرشتے ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3443]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3444
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المَحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، أخبرنا يزيد بن هارون، وتلا ﴿فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾، فقال: أخبرنا ابن أبي ذِئْب، عن بُكَير بن عبد الله بن الأَشجِّ، عن الوليد بن سَرْح (4) ، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، الرجلُ يجاهدُ في سبيل الله وهو يَبتَغي مِن عَرَضِ الدنيا! فقال رسول الله ﷺ:"لا أَجْرَ له"، فأعظَمَ الناسُ ذلك، فعاد الرجلُ، فقال:"لا أَجْرَ له" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [19 - ومن تفسير سورة مريم]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3404 - صحيح
سیدنا سعید بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یزید بن ہارون نے اس آیت کی تلاوت کی: فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا (الکھف: 110) اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے ۔ پھر اپنی سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو شخص حصول دنیا کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کرے (کیا اس کو اجر و ثواب ملے گا؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو کوئی اجر نہیں ملے گا۔ لوگوں کو یہ حکم بہت سخت محسوس ہوا۔ پھر ایک شخص نے دوبارہ یہی بات دہرائی، آپ نے (اسے بھی) فرمایا: ایسے شخص کے لیے اجر نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3444]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں