🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

243. فَضَائِلُ الصَّلَاةِ على النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
نبی ﷺ پر درود بھیجنے کی فضیلتیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3617
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفَضْل البَجَلي، حدثنا عفَّان بن مُسلِم، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا ثابت البُنَاني: أنه تَلَا قول الله ﷿: ﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [الأحزاب: 56] ، فقال ثابت: قَدِمَ علينا سليمانُ مولى الحسن بن علي، فحدَّثَنا عن عبد الله بن أبي طَلْحة الأنصاري، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ جاء ذات يومٍ والبِشْرُ يُرَى في وجهه، فقلنا: يا رسول الله، إنا لنَرى البِشرَ في وجهك، فقال:"إنَّه أتاني الملَكُ، فقال: يا محمدُ، إنَّ ربك يقول: أمَا تَرضَى ما أحدٌ من أمَّتِك صلَّى عليك إلَّا صلَّيتُ عليه عشرَ صَلَوَاتٍ، ولا سَلَّم عليك أحدٌ من أمَّتِك إلَّا رَدَدتُ عليه عشرَ مرَّاتٍ؟ فقال: بَلَى" (1) .
هذا حديث صحيح (2) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3575 - صحيح
سیدنا ثابت البنانی رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: (اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (الاحزاب: 56) بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر، اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو ۔ پھر کہا: ہمارے پاس حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے غلام سلیمان رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ان کے والد کے حوالے سے روایت کیا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ کا چہرہ بہت ہشاش بشاش تھا۔ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آج آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار نظر آ رہے ہیں (اس کی کیا وجہ ہے؟) آپ نے فرمایا: میرے پاس فرشتہ آیا تھا، اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا رب فرماتا ہے: کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کا جو امتی آپ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا، میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں گا اور جو آپ کا امتی ایک مرتبہ مجھ پر سلام بھیجے گا میں اس پر دس مرتبہ سلام بھیجوں گا آپ نے کہا: جی ہاں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3617]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3618
أخبرنا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو صالح محبوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأعمش وسفيان، عن عبد الله بن السائب، عن زاذانَ، عن ابن مسعود، عن النبي ﷺ قال:"إنَّ لله ملائكة سيَّاحِينَ في الأرض يُبلِّغوني عن أمَّتي السلامَ" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد عَلَوْنا في حديث الثَّوري، فإنه مشهور عنه، فأما حديث الأعمش عن عبد الله بن السائب، فإنا لم نَكتُبه إلَّا بهذا الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3576 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو زمین پر گھومتے رہتے ہیں اور میری امت کی جانب سے ان کے سلام مجھے پیش کرتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو روایت نہیں کیا اور حدیث ثوری میں ہماری سند عالی ہے کیونکہ وہ ان کے حوالے سے مشہور ہے اور اعمش کی عبداللہ بن سائب سے روایت کردہ حدیث میں نے صرف اسی سند کے ہمراہ لکھی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3618]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں