🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

250. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَلَائِكَةِ - إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ
سورۂ الملائکہ کی تفسیر: پاکیزہ کلام اسی کی طرف چڑھتا ہے اور نیک عمل اسے بلند کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3631
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا إسحاق بن سليمان، أخبرنا عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي، عن عبد الله بن المُخارِق بن سُلَيم، عن أبيه، عن عبد الله بن مسعود قال: إذا حدَّثناكم بحديثٍ أَتيناكم بتصديق ذلك في كتاب الله، إنَّ العبد إذا قال: سبحانَ الله، والحمدُ لله، ولا إلهَ إلَّا الله، واللهُ أكبر، وتباركَ الله، قَبَضَ عليهنَّ ملكٌ فضمَّهنَّ تحت جناحه وصَعَدَ بهنَّ، لا يمرُّ بهنَّ على جَمْع من الملائكة إِلَّا استَغفَروا لقائلهنَّ، حتى يُحيَّا (2) بهنَّ وجهُ الرَّحمن. ثم تلا عبدُ الله: ﴿إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ﴾ [فاطر: 10] (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3589 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم جب بھی تمہیں کوئی حدیث بیان کریں تو اس کی تصدیق کتاب اللہ سے پیش کریں گے۔ بندہ جب کہتا ہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَ تَبَارَکَ اللّٰہ تو ایک فرشتہ اپنے پر پھیلا کر ان کو اپنے پروں میں لپیٹ لیتا ہے اور ان کو اپنے ساتھ لے کر اوپر کی طرف چڑھتا ہے یہ ملائکہ کی جس جماعت کے بھی قریب سے گزرتا ہے، وہ تمام فرشتے اس کے پڑھنے والے کے لیے استغفار کرتے ہیں حتیٰ کہ ان کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ (فاطر: 10) اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام اور جو نیک کام ہے وہ اسے بلند کرتا ہے ۔ (،) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3631]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3632
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو الوليد، حدثنا عبيد الله بن إياد بن لَقِيط، حدثني إياد بن لَقِيط، عن أبي رِمْثةَ قال: انطلقتُ مع أَبي نحوَ رسول الله ﷺ فَسَلَّمَ عليه أَبي، وجلسنا ساعةً فتحدَّثنا، فقال رسول الله ﷺ لأَبي:"ابنُكَ هذا؟" قال: إي وربِّ الكعبة، قال:"حقًّا؟" قال: أَشْهَدُ به، قال: فتبسَّمَ رسولُ الله ﷺ ضاحكًا من ثَبَتِ شَبَهي بأبي ومن حَلِفِ أَبي على ذلك، قال: ثم قال:"أمَا إنَّ ابنَك هذا لا يَجْني عليك ولا تَجْني عليه"، قال: وقرأ رسولُ الله ﷺ: ﴿وَلَا (1) تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ إلى قوله: ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى﴾ (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3590 - صحيح
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنے والد کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میرے والد نے آپ کو سلام کیا، پھر ہم کچھ دیر آپ کے پاس بیٹھے، آپ ہمارے ساتھ گفتگو کرتے رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد سے کہا: یہ تیرا بیٹا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، رب کعبہ کی قسم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واقعی؟ اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کی اس گفتگو پر مسکرا دیئے۔ پھر فرمایا: تیرا یہ بیٹا تجھے کوئی نقصان نہیں دے سکتا اور تو اس کو کوئی نقصان نہیں دے سکتا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: اَلاَّ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی (النجم: 38) کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی ۔، ھٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰی (النجم: 56) تک ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3632]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3633
حدثنا أبو أحمد الحسين بن علي التميمي، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا نَصْر بن علي، حدثنا المعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن عطاء بن السائب، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس قال: لما نَزَلَت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، قال:"كلُّها في صُحُف إبراهيم" فلما نزلت: ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾ فَبلغ ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى﴾ [النجم: 1 - 37] ، قال:"وَفَّى"، ﴿أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ إلى قوله: ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى﴾ [النجم: 38 - 56] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3591 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی (الاعلیٰ: 1) اپنے رب کے نام کی پاکی بولو جو سب سے بلند ہے ۔ آپ نے فرمایا: یہ تمام سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں ہیں۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: وَ النَّجْمِ اِذَا ھَوٰی (النجم: 1) تو وَ اِبْرَاھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰٓی (النجم: 37) اور ابراہیم کے جو پورے احکام بجا لایا ۔ (،) تک پہنچے۔ آپ نے فرمایا: بجا لایا۔ پھر پڑھا: اَلاَّ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی (النجم: 38) کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی ۔ ھٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰی (النجم: 56) یہ ایک ڈر سنانے والے ہیں اگلے ڈرانے والوں کی طرح ۔ تک۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3633]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں