المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
250. تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَلَائِكَةِ - إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ
سورۂ الملائکہ کی تفسیر: پاکیزہ کلام اسی کی طرف چڑھتا ہے اور نیک عمل اسے بلند کرتا ہے
حدیث نمبر: 3631
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا إسحاق بن سليمان، أخبرنا عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي، عن عبد الله بن المُخارِق بن سُلَيم، عن أبيه، عن عبد الله بن مسعود قال: إذا حدَّثناكم بحديثٍ أَتيناكم بتصديق ذلك في كتاب الله، إنَّ العبد إذا قال: سبحانَ الله، والحمدُ لله، ولا إلهَ إلَّا الله، واللهُ أكبر، وتباركَ الله، قَبَضَ عليهنَّ ملكٌ فضمَّهنَّ تحت جناحه وصَعَدَ بهنَّ، لا يمرُّ بهنَّ على جَمْع من الملائكة إِلَّا استَغفَروا لقائلهنَّ، حتى يُحيَّا (2) بهنَّ وجهُ الرَّحمن. ثم تلا عبدُ الله: ﴿إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ﴾ [فاطر: 10] (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3589 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3589 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب ہم آپ کو کوئی حدیث بیان کرتے ہیں تو اللہ کی کتاب سے اس کی تصدیق بھی پیش کرتے ہیں، بے شک جب بندہ «سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَتَبَارَكَ اللهُ» کہتا ہے تو ایک فرشتہ ان کلمات کو تھام کر اپنے پروں کے نیچے سمیٹ لیتا ہے اور انہیں لے کر اوپر کی جانب پرواز کرتا ہے، وہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرتا ہے تو وہ فرشتے ان کلمات کو کہنے والے کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، یہاں تک کہ ان کلمات کے ذریعے رحمٰن کے حضور باریابی ہوتی ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ﴾ ”پاکیزہ کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل اسے بلند کرتا ہے۔“ [فاطر: 10]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3631]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3631]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل عبد الله بن المخارق وأبيه، وقد ذكرهما ابن حبان في "ثقاته"، ومخارق مختلف في صحبته.» [ترقيم الرساله 3631] [ترقيم الشركة 3610] [ترقيم العلميه 3589]
الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين من أجل عبد الله بن المخارق وأبيه
حدیث نمبر: 3632
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو الوليد، حدثنا عبيد الله بن إياد بن لَقِيط، حدثني إياد بن لَقِيط، عن أبي رِمْثةَ قال: انطلقتُ مع أَبي نحوَ رسول الله ﷺ فَسَلَّمَ عليه أَبي، وجلسنا ساعةً فتحدَّثنا، فقال رسول الله ﷺ لأَبي:"ابنُكَ هذا؟" قال: إي وربِّ الكعبة، قال:"حقًّا؟" قال: أَشْهَدُ به، قال: فتبسَّمَ رسولُ الله ﷺ ضاحكًا من ثَبَتِ شَبَهي بأبي ومن حَلِفِ أَبي على ذلك، قال: ثم قال:"أمَا إنَّ ابنَك هذا لا يَجْني عليك ولا تَجْني عليه"، قال: وقرأ رسولُ الله ﷺ: ﴿وَلَا (1) تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ إلى قوله: ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى﴾ (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3590 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3590 - صحيح
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور ہم کچھ دیر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد سے دریافت فرمایا: ”کیا یہ تمہارا بیٹا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، ربِ کعبہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”کیا واقعی؟“ انہوں نے عرض کیا: میں اس پر گواہی دیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور میرے والد کے درمیان مشابہت کی پختگی اور میرے والد کے اس پر پختہ قسم کھانے کی وجہ سے مسکرا دیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگاہ رہو! تمہارا یہ بیٹا تمہارے کسی جرم کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا اور نہ ہی تم اس کے کسی جرم کے ذمہ دار ٹھہرائے جاؤ گے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ ”اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ [سورة الأنعام: 164] سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان تک: ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى﴾ ”یہ (رسول) بھی پہلے ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والا ہے۔“ [سورة النجم: 56]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3632]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3632]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطَّيالسي.» [ترقيم الرساله 3632] [ترقيم الشركة 3611] [ترقيم العلميه 3590]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3633
حدثنا أبو أحمد الحسين بن علي التميمي، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة، حدثنا نَصْر بن علي، حدثنا المعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن عطاء بن السائب، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس قال: لما نَزَلَت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، قال:"كلُّها في صُحُف إبراهيم" فلما نزلت: ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾ فَبلغ ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى﴾ [النجم: 1 - 37] ، قال:"وَفَّى"، ﴿أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ إلى قوله: ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى﴾ [النجم: 38 - 56] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3591 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3591 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب سورت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمام (تعلیمات) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفوں میں بھی موجود ہیں۔“ پھر جب سورت ﴿وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى﴾ نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر پہنچے ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى﴾ ”اور ابراہیم (علیہ السلام) جس نے (وفاداری کا) حق پورا کر دیا۔“ [النجم: 37] تو فرمایا: ”اس نے حق پورا کر دیا“ کہ ﴿أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ ”کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ سے لے کر اس فرمان ﴿هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى﴾ ”یہ (رسول) بھی پہلے ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والا ہے“ [النجم: 38 - 56] تک کی تمام ذمہ داریاں ادا کر دیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3633]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3633]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وقد سلف برقم (2967).» [ترقيم الرساله 3633] [ترقيم الشركة 3612] [ترقيم العلميه 3591]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح