🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

355. شَرْحُ مَعْنَى آيَةِ: وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ
آیتِ ومن یوق شح نفسہ کی وضاحت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3857
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان، عن جامع بن شدَّاد، عن الأسود بن هلال قال: جاء رجلٌ إلى عبد الله بن مسعود فسأله عن هذه الآية: ﴿وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ [التغابن: 16] ، وإني امْرُؤٌ ما قَدَرتُ، ولا يخرجُ من يدي شيءٌ، وقد خَشِيتُ أن يكون قد أصابتني هذه الآيةُ، فقال عبد الله: ذكرتَ البخلَ وبِئسَ الشيءُ البخلُ، وأمّا ما ذَكَرَ اللهُ في القرآن، فليس كما قلت، ذاك أن تَعمِدَ إلى مال غيرِك أو مالِ أخيك فتأكلَه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3815 - على شرط البخاري ومسلم
اسود بن ہلال سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس آیت کے بارے میں سوال کیا: ﴿وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ [التغابن: 16] اور کہنے لگا کہ میں ایسا شخص ہوں کہ مجھ سے سخاوت نہیں ہو پاتی اور میرے ہاتھ سے کچھ نکلتا نہیں ہے، مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ آیت مجھ پر صادق نہ آتی ہو؟ تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: تم نے بخل کا ذکر کیا ہے اور بخل بہت ہی بری چیز ہے، لیکن اللہ نے قرآن میں جس «شُحّ» (نفس کے لالچ) کا ذکر کیا ہے وہ یہ نہیں ہے (جو تم سمجھ رہے ہو)، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم اپنے بھائی یا کسی دوسرے کے مال پر نظر رکھو اور اسے ناحق ہڑپ کر جاؤ۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3857]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العنبري، ومحمد بن كثير: هو العبدي، وسفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3857] [ترقيم الشركة 3836] [ترقيم العلميه 3815]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3858
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا محمد بن مسلمة (2) ، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يقولُ الله ﷿: استَقرَضتُ عبدي فَأَبَى أن يُقرِضَني، ولا يدري (3) يقولُ: وادَهراهْ، وادَهْراهْ، وأنا (4) الدَّهرُ". ثم تلا أبو هريرة قولَ الله ﷿: ﴿إِنْ تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ﴾ [التغابن: 17] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه [65 - ومن تفسير سورة الطلاق]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3816 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں نے اپنے بندے سے قرض مانگا مگر اس نے مجھے قرض دینے سے انکار کر دیا، اور وہ نادانی میں کہتا ہے: ہائے زمانہ! ہائے زمانہ! حالانکہ میں ہی زمانہ (کا خالق و مالک) ہوں۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان تلاوت فرمایا: ﴿إِنْ تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ﴾ [التغابن: 17] ۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3858]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، محمد بن مسلمة» [ترقيم الرساله 3858] [ترقيم الشركة 3837] [ترقيم العلميه 3816]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں