🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

417. بَيَانُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ مُفَصَّلًا
لیلة القدر کا مفصل بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4004
أخبرنا أبو زكريا العَنبرَي، حدَّثنا محمد بن عبد السلام، حدَّثنا إسحاق، أخبرنا أبو عامر العَقَدي، حدَّثنا عِكْرمة بن عمار اليَمَامي، عن أبي زُمَيل سِمَاك الحنفي قال: حدثني مالك بن مَرثَد، عن أبيه قال: قلتُ لأبي ذرٍّ: هل سمعتَ رسولَ الله ﷺ يذكرُ ليلةَ القَدْر؟ فقال: نعم، قلتُ: يا رسول الله، أخبِرْني عن ليلة القَدْر، أفي رمضان أم في غير رمضان؟ قال:"بل في رمضانَ" قلت: أخبرني يا رسول الله، أهي مع الأنبياء ما كانوا، فإذا قُبِضَ الأنبياءُ رُفِعَت، أم هي إلى يوم القيامة؟ قال:"لا، بل إلى يوم القيامة" قلت: يا رسول الله، أخبِرني في أيِّ رمضانَ هي؟ قال:"في العَشْر الأواخر، لا تَسأَلْني عن شيءٍ بعدَها" فقلت: أقسمتُ عليك بحقِّي عليك يا رسول الله في أيِّ عَشرٍ هي؟ قال: فغضبَ عليَّ غضبًا شديدًا ما غضبَ عليَّ قبلُ ولا بعدُ مثلَه، وقال:"لو شاء الله لأطلَعَكم عليها (1) ، التمِسوها في السَّبع الأواخر، لا تَسألْني عن شيءٍ بعدَها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3960 - صحيح
سیدنا مرثد کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی شب قدر کا تذکرہ کرتے سنا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے (ایک دفعہ) عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے شب قدر کے متعلق بتائیے کہ یہ رمضان المبارک میں ہوتی ہے یا غیر رمضان میں؟ آپ نے فرمایا: رمضان المبارک میں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ صرف انبیاء کرام کی ظاہری حیات تک ہی ہوتی ہے اور نبی کی وفات کے ساتھ اس کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے، یا قیامت تک کے لئے ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ یہ سلسلہ قیامت تک قائم رہے گا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ رمضان المبارک کے کن ایام میں ہوتی ہے؟ آپ نے فرمایا: آخری عشرہ میں اور اب اس کے بعد اس سلسلہ میں مجھ سے کوئی سوال مت کرنا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو آپ پر ہے۔ آخری عشرے کے کس دن میں ہوتی ہے؟ (ابوذر رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اس قدر شدید ناراض ہوئے کہ اس سے پہلے کبھی اتنے ناراض نہیں ہوئے تھے اور آپ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں اس کی بھی اطلاع دے دیتا اس کو آخری سات راتوں میں تلاش کرو، اس کے بعد اب مجھ سے کوئی سوال مت کرنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 4004]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں