المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. خَلَاصُ أُسَارَى الْمُسْلِمِينَ بِمُعَاوَضَةِ امْرَأَةٍ جَمِيلَةٍ مِنَ الْكُفَّارِ
کافروں کی ایک خوبصورت عورت کے بدلے مسلمانوں کے قیدیوں کی رہائی
حدیث نمبر: 4382
أخبرني أحمد بن محمد بن سلمة العَنَزي، حدَّثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدَّثنا أبو الوليد، حدَّثنا عِكْرمة بن عمّار. وحدثنا محمد بن إبراهيم بن الفضل الهاشمي - واللفظ له - حدَّثنا أحمد بن سَلَمة، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا أبو عامر، حدَّثنا عِكْرمة بن عمّار، عن إياس بن سَلَمة، عن أبيه، قال: أمَّر رسول الله ﷺ أبا بكر فغَزَونا ناسًا من بني فَزَارة، فلما دَنَونا من الماء أمَرَنا أبو بكر فَعَرَّسْنا، فلما صلَّينا الصبحَ أمرنا أبو بكر فشَنَنّا الغارَةَ، قال: فورَدْنا الماءَ فقتَلْنا به مَن قَتلْنا، قال: فانصرف عُنُقٌ من الناس، وفيهم الذَّراريُّ والنساء قد كادُوا يَسبِقُون إلى الجبل، فطرَحْنا سهمًا بينهم وبين الجبل، فلما رأَوا السهمَ وقَفُوا، فجئتُ بهم أسُوقهم إلى أبي بكر، وفيهم امرأةٌ من بني فَزَارة عليها قَشْعٌ من أَدَمٍ معها ابنةٌ لها من أحسنِ العرَبِ، قال: فنفَّلَني أبو بكر ابنتَها، قال: فقدِمْتُ المدينةَ، فلقِيَني رسولُ الله ﷺ بالسُّوق، فقال لي:"يا سلمةُ، لله أبوكَ هَبْ لي المرأةَ" فقلت: والله يا رسول الله ما كشفتُ لها ثَوبًا، وهى لكَ يا رسولَ الله، فبعثَ بها رسولُ الله ﷺ إلى مكةَ، ففادَى بها أُسارى من المسلمين كانوا في أيدي المُشركين (1) . قد أخرجه مسلم بغير هذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4335 - خرجه مسلم بفظ آخر
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4335 - خرجه مسلم بفظ آخر
سیدنا ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر فرما دیا۔ ہم نے بنی فزارہ کے چند لوگوں کے ساتھ جہاد کیا، جب ہم ان کے قریب پہنچے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم پر ہم نے وہیں پڑاؤ ڈالا، اور نماز فجر پڑھنے کے بعد ہم نے چاروں جانب سے ان پر حملہ کر دیا۔ پھر پانی پر آ ٹھہرے اور جتنے لوگوں کو قتل کیا، کر دیا۔ کچھ لوگ وہاں سے پہاڑ کی جانب نکل گئے۔ ان میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں۔ ہم نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان تیر برسائے، جب انہوں نے تیر دیکھے تو وہیں رک گئے پھر میں ان کے پاس گیا اور ان سب کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، ان میں بنی فزارہ کی ایک خاتون بھی تھی۔ اس پر چمڑے کی پرانی پوستین تھی، اس کے ہمراہ اس کی ایک بیٹی بھی تھی۔ جو کہ عرب کی حسین ترین لڑکی تھی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ لڑکی مجھے دے دی، پھر میں مدینہ میں آ گیا۔ بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوسلمہ! اللہ آپ پر رحم فرمائے، یہ عورت مجھے تحفہ دے دو، میں نے کہا: خدا کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اس کا کوئی کپڑا نہیں اتارا، میں نے یہ آپ کو دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مکہ میں بھیج دیا تو مشرکین کی قید میں جو مسلمان تھے اس کو ان کے بدلے میں دے دیا۔ ٭٭ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا ہے لیکن یہ سند بیان نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4382]
حدیث نمبر: 4383
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدَّثنا عبد الرحمن بن محمد الحارثي، حدَّثنا يحيى بن سعيد القَطّان، حدَّثنا محمد بن أبي يحيى الأسلَمي، حدّثنى أبي، أنَّ أبا سعيد الخُدْري أخبره أنَّ رسول الله ﷺ كان بالحُدَيْبِيَّة، فقال:"لا تُوقِدُوا نارًا بلَيلٍ" فلما كان بعدَ ذلك قال:"أوقِدُوا واصطَنِعُوا، أما إنه لا يُدرِكُ قومٌ بعدَكم صاعَكُم ولا مدَّكُم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4336 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4336 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں تھے، تو آپ نے فرمایا: رات کے وقت آگ مت جلانا۔ اور جب معاہدہ ہو چکا تو فرمایا: اب آگ بھی جلا سکتے ہو اور (جو کچھ پکانا چاہو) پکا سکتے ہو، لیکن اس بات کا خیال رکھنا کہ تمہارے بعدکوئی قوم تمہارے صاع اور تمہارے مد کو جان نہ سکے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4383]