🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. خلاص أسارى المسلمين بمعاوضة امرأة جميلة من الكفار
کافروں کی ایک خوبصورت عورت کے بدلے مسلمانوں کے قیدیوں کی رہائی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4383
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدَّثنا عبد الرحمن بن محمد الحارثي، حدَّثنا يحيى بن سعيد القَطّان، حدَّثنا محمد بن أبي يحيى الأسلَمي، حدّثنى أبي، أنَّ أبا سعيد الخُدْري أخبره أنَّ رسول الله ﷺ كان بالحُدَيْبِيَّة، فقال:"لا تُوقِدُوا نارًا بلَيلٍ" فلما كان بعدَ ذلك قال:"أوقِدُوا واصطَنِعُوا، أما إنه لا يُدرِكُ قومٌ بعدَكم صاعَكُم ولا مدَّكُم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4336 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں تھے، تو آپ نے فرمایا: رات کے وقت آگ مت جلانا۔ اور جب معاہدہ ہو چکا تو فرمایا: اب آگ بھی جلا سکتے ہو اور (جو کچھ پکانا چاہو) پکا سکتے ہو، لیکن اس بات کا خیال رکھنا کہ تمہارے بعدکوئی قوم تمہارے صاع اور تمہارے مد کو جان نہ سکے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4383]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4383 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث قوي، أبو يحيى الأسلمي - واسمه سمعان - لا بأس به، وعبد الرحمن بن محمد الحارثي متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / جرح و تعدیل: ابو یحییٰ الاسلمی (جن کا نام سمعان ہے) میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہ)، اور عبدالرحمن بن محمد الحارثی ان کے "متابع" ہیں۔
وأخرجه أحمد 17 (11208)، والنسائي (8804) عن يعقوب بن إبراهيم الدورقي، عن يحيى بن سعيد القطان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (17/ 11208) اور نسائی (8804) نے یعقوب بن ابراہیم الدورقی سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید القطان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اصطنِعُوا: معناه اتخِذوا صَنيعًا، يعني طعامًا تنفقونه في سبيل الله.
📝 نوٹ / توضیح: "اِصْطَنِعُوا": اس کا معنی ہے "کوئی نیکی کا کام (صنیعًا) کرو"، یعنی ایسا کھانا تیار کرو جسے تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔