🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

26. كَرَاهِيَةُ النِّيَاحَةِ عَلَى الْمَوْتَى
میت پر نوحہ کرنے کی کراہت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4401
حدَّثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدَّثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدَّثنا سعيد بن عمرو الأَشعَثِي، حدَّثنا عَبْثَر، عن حُصَين، عن الشَّعْبي، عن النُّعمان بن بَشير قال: أُغمي على عبد الله بن رَوَاحة فجعلتْ أختُه عَمْرةُ تَبكي: وا أُخيّاهُ، وا كذا وا كذا، تَعُدُّ عليه، فقال حينَ أفاقَ: ما قُلتِ شيئًا إِلَّا قيل لي: آنتَ كذلكَ؟ (2) صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4353 - صحيح
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر غشی طاری ہوئی تو ان کی بہن بین کرتے ہوئے واویلا کرنے لگ گئی، جب ان کو افاقہ ہوا تو فرمایا: تو نے جو جو کچھ بولا، اس سب کے متعلق مجھ سے پوچھا گیا کہ تو واقعی ایسا ہے؟ کیا تو واقعی ایسا ہے؟ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4401]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4402
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: سمعتُ خالد بن الوليد يقول: لقد اندقَّ في يَدِي يومَ مؤتة تسعةُ (1) أسيافٍ، ما بقيَ في يَدِي إلَّا صَفِيحةٌ يَمانِيَةٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد اتّفق الشيخانِ (3) على حديث حُميد بن هِلال عن أنس بن مالك عن رسول الله ﷺ في غزوة مُؤتَة:"أخَذَ الرايةَ زيدُ بن حارثة أخَذَها فأُصِيبَ، ثم أَخَذَها جعفرٌ فأُصِيبَ، ثم أخَذَها عبدُ الله بن رَواحة فأُصِيبَ"، ثم إنَّ رسول الله ﷺ بعثَ خالد بن الوليد إلى مؤتة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4354 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ ذات السلاسل میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو (امیر بنا کر) بھیجا، اس مہم میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شریک تھے، جب یہ لوگ جنگ کے میدان تک پہنچے تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ آگ نہ جلائیں، اس بات پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا اور وہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ الجھنے لگے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ایسا کرنے سے روکا اور انہیں سمجھایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تمہارا امیر اسی لیے مقرر کیا ہے کیونکہ وہ جنگ کے بارے میں (زیادہ بہتر) جانتے ہیں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رک گئے۔ یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے تاہم شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4402]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4403
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق قال: حدّثني عبد الله بن أبي بكر بن عمرو بن حَزْم، عن عامر بن عبد الله بن الزُّبير، عن أم سلمة: أنها قالت لامرأةِ سلمة بن هِشام بن المُغيرة: ما لي لا أرى سلمةَ يَحضُر الصلاةَ مع رسول الله ﷺ ومع المسلمين؟ قالت: والله ما يستطيعُ أن يَخرُجَ، كلّما خَرَجَ صاحَ به الناسُ يا فُرّارُ، أفَرَرتُم في سبيل الله؟! حتى قعدَ في بيتِه فما يَخرُج، وكان في غزوة مُؤتةَ مع خالدِ بن الوليد (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4355 - على شرط مسلم
عامر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں، سیّدہ ام سلمہ نے سیدنا سلمہ بن ہشام بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سے دریافت کیا: کیا وجہ ہے کہ میں نے سلمہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو اس خاتون نے جواب دیا: اللہ کہ قسم! وہ اس وجہ سے (گھر سے) باہر نہیں نکلتے کہ وہ جب بھی باہر آتے ہیں تو لوگ انہیں بلند آواز میں کہتے ہیں: اے فرار ہونے والے! کیا تم اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے) سے فرار ہوئے تھے، تو وہ اپنے گھر میں ہی بیٹھے ہوئے ہیں اور باہر نہیں نکلتے۔ (راوی کہتے ہیں:) انہوں نے غزوہ موتہ میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ شرکت کی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4403]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4404
أخبرنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدَّثنا الحسن بن الجَهم، حدَّثنا الحسين بن الفَرَج، حدَّثنا الواقِديّ، حدَّثنا خالد بن إلياسَ عن الأعرج، عن أبي هريرة قال: لقد كان بيني وبين ابن عَمٍّ لي كلامٌ فقال: ألا فِرارَك يومَ مُؤتةَ، فما دَريتُ أيَّ شيءٍ أقولُ له (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے چچا زاد بھائی اور میرے درمیان کچھ ناراضگی تھی۔ اس نے کہا: مگر تیرا جنگ موتہ سے بھاگنا (کیا معنی رکھتا ہے؟) تو مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں اس کو کیا جواب دوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4404]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں