المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
39. ذِكْرُ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ وَادِّعَائِهِ النُّبُوَّةَ
مسیلمہ کذاب اور اس کے جھوٹے دعوائے نبوت کا ذکر
حدیث نمبر: 4426
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدَّثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَوْن، حدَّثنا عبد الرحمن بن عبد الله المسعُودي، عن القاسم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، قال: جاء رجلٌ إلى عبد الله بن مسعود فقال: يا أبا عبد الرحمن، إنَّ هاهنا قومًا يقرؤون على قِراءة مُسيلِمة، فقال عبد الله: أكتابٌ غيرُ كتابِ الله، أو رسولٌ غيرُ رسولِ الله بعد فُشُوِّ الإسلام؟ فردّه فجاء إليه بعدُ، فقال: يا عبدَ الله والذي لا إله غيرُه إنهم في الدار ليقرؤون على قراءة مُسيلِمة، وإنَّ معهم لمُصحفًا فيه قراءة مُسيلِمة، وذلك في زمان عثمان، فقال عبدُ الله لقَرَظةَ - وكان صاحبَ خَيلٍ -: انطلِقْ حتى تُحيطَ بالدارِ فتأخذَ مَن فيها، ففعل، فأتاه بثمانين رجلًا، فقال لهم عبدُ الله: ويَحَكم أكتابٌ غير كتابِ الله، أو رسولٌ غيرُ رسولِ الله؟ فقالوا: نتوبُ إلى الله، فإنا قد ظَلَمْنا، فتركَهُم عبدُ الله لم يُقاتِلْهم، وسَيَّرهم إلى الشام، غير رئيسِهم ابن النَّوّاحة أبَى أن يتُوب، فقال عبدُ الله لقَرَظة: اذهبْ فاضرِبْ عُنقه، واطرَحْ رأسَه في حِجْر أمّه، فإني أُراها قد عَلِمَتْ فعلَه، ففعل. ثم أنشأ عبدُ الله يُحدّثُ، فقال: إنَّ هذا جاء هو وابنُ أُثال رسولَين من عند مُسيلِمة، إلى رسول الله ﷺ، فقال له رسولُ الله ﷺ:"تشهدُ أني رسولُ الله؟" فقال لرسول الله ﷺ: تشهدُ أن مُسيلِمةَ رسولُ الله؟ فقال رسول الله ﷺ:"لولا أنك رسولٌ لَقتلتُك"، فجرَتِ السنّةَ يومئذٍ أن لا يُقتل رسولٌ (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4378 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4378 - صحيح
قاسم بن عبدالرحمن بن عبداللہ المسعودی رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! یہاں پر کچھ لوگ ہیں جو مسیلمہ کی قراءت پڑھتے ہیں۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا اللہ کی کتاب کے علاوہ بھی کوئی کتاب ہے؟ یا اللہ کے رسول کے علاوہ بھی کوئی رسول ہے؟ بعد اس کے کہ اسلام پھیل چکا ہے۔ (آپ نے یہ کہہ کر) اس کو واپس بھیج دیا۔ وہ کچھ عرصے بعد پھر آیا اور بولا: اے عبداللہ! اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ لوگ فلاں گھر میں ہیں اور مسیلمہ کی قراءت پڑھ رہے ہیں اور ان کے پاس ایک مصحف ہے جس میں مسیلمہ کی قراءت ہے اور یہ بات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کی ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرظہ سے کہا (یہ شخص شہسواروں کا دستہ رکھتا تھا) فلاں گھر کا محاصرہ کر کے اس میں جتنے لوگ ہیں، سب کو گرفتار کر کے لے آؤ۔ قرظہ نے ایسا ہی کیا۔ اور 80 افراد کو گرفتار کر کے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کر دیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: تمہارے لئے ہلاکت ہو، کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب کے علاوہ بھی کوئی کتاب ہے؟ یا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ بھی کوئی رسول ہے؟ تو وہ لوگ بولے: ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، ہم اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں، سیدنا عبداللہ نے ان کو قتل نہیں کیا بلکہ معاف کر دیا اور انہیں ملک شام کی جانب بھیج دیا۔ ان کے سردار ” ابن النواحہ “ نے کیونکہ توبہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اس لئے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرظہ سے کہا: اس کو لے جاؤ، اور اس کی گردن مار دو، اور اس کا سر لے جا کر اس کی ماں کی گود میں ڈال دو کیونکہ میرا خیال ہے کہ اس کو بھی اس کے کرتوت معلوم ہو چکے ہوں گے۔ قرظہ نے آپ کے حکم کی تعمیل کی۔ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کرنا شروع کی اور فرمایا: یہ اور ابن اثال دونوں مسیلمہ کی جانب سے سفیر بن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی آتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم گواہی دیتے ہو کہ بے شک میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو انہوں نے آگے سے جواب دیا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم سفیر نہ ہوتے تو میں تمہیں قتل کر دیتا تو اس دن سے یہ قانون بن گیا کہ کسی سفیر کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4426]
حدیث نمبر: 4427
حدَّثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدَّثنا محمد بن حَيّان الأنصاري، حدَّثنا شَيْبان بن فَرُّوخَ، حدَّثنا مُبارك بن فَضَالة، حدَّثنا الحسن، عن أنس، قال: لقي رسولُ الله ﷺ مُسيلِمةَ، فقال له مُسيلِمة: تشهدُ أني رسولُ الله؟ فقال رسول الله ﷺ: آمنت بالله وبِرسُلِه" ثم قال رسول الله ﷺ:"إنَّ هذا رجلٌ أُخِّرَ لِهَلَكَةِ قَومِه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4379 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4379 - صحيح
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسیلمہ کے پاس گئے تو مسیلمہ نے آپ سے کہا: تم گواہی دو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا: یہ شخص اپنی قوم کی ہلاکت کا سبب ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا/حدیث: 4427]