🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. ابْتِدَاءُ تَعْمِيرِ الْكُوفَةِ .
کوفہ کی آبادکاری کا آغاز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4555
حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حَدَّثَنَا عُبيد بن حاتم الحافظ، حَدَّثَنَا داود بن رُشَيد، حَدَّثَنَا الهيثم بن عَدِي، حَدَّثَنَا يونس بن أبي إسحاق، عن الشَّعْبي: أنَّ عمر بن الخطاب كتب إلى سعد بن أبي وقّاص: أن اتخِذْ للمسلمين دارَ هجرةٍ ومَنزلَ جِهادٍ، فبعث سعدٌ رجلًا من الأنصار يقال له: الحارث بن سَلمة، فارتادَ لهم موضعَ الكوفةِ اليومَ، فنزلها سعدٌ بالناس، فخطَّ مسجدَها (1) ، وخطَّ فيها الخِطَط، قال الشَّعْبي: وكان ظهرُ الكوفة يُنبِت الخُزامَى والشِّيْح، والأُقحُوان، وشقائق النُّعمان، فكانت العربُ تُسمِّيه في الجاهلية خَدَّ العَذْراء، فارتادُوا فكتبوا إلى عُمر بن الخطّاب، فكتب: أنِ انزلوه، فتحوّل الناسُ إلى الكوفة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4505 - الهيثم بن عدي ساقط
شعبی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مسلمانوں کے لیے ہجرت کا گھر اور جہاد کی منزل (شہر) منتخب کریں، چنانچہ سیدنا سعد نے انصار کے ایک شخص کو بھیجا جنہیں حارث بن سلمہ کہا جاتا تھا، انہوں نے ان کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا جہاں آج کوفہ آباد ہے، پس سیدنا سعد لوگوں کے ساتھ وہاں اترے، اس کی مسجد کا نقشہ بنایا اور شہر کی حدود مقرر کیں، شعبی کہتے ہیں: کوفہ کی زمین پر خزامی، شیح، اقحوان اور شقائق النعمان (خوشبودار پھول اور جڑی بوٹیاں) اگتے تھے اور اہل عرب جاہلیت میں اسے «خد العذراء» (کنواری کا رخسار) یعنی نہایت خوبصورت اور زرخیز زمین کہتے تھے، انہوں نے یہ جگہ پسند کر کے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، تو آپ نے جواب دیا: وہیں پڑاؤ کر لو، چنانچہ لوگ کوفہ کی طرف منتقل ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4555]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف بمرّة من أجل الهيثم بن عدي، فهو ساقط كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وكذَّبه البخاري وابن مَعِين وأبو داود وغيرهم.» [ترقيم الرساله 4555] [ترقيم الشركة 4531] [ترقيم العلميه 4505]

الحكم على الحديث: إسناده تالف بمرّة من أجل الهيثم بن عدي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں