المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
76. لَمْ يُرْفَعْ حَجَرٌ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ إِلَّا وُجِدَ تَحْتَهُ دَمٌ عِنْدَ شَهَادَةِ عَلِيٍّ .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت بیت المقدس کا کوئی پتھر ایسا نہ تھا جس کے نیچے خون نہ پایا گیا ہو
حدیث نمبر: 4642
أخبرنا أبو جعفر محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح السَّهْمي، حدثنا سعيد بن عُفَير، حدثني حفص بن عِمران بن أبي الوسام، عن السَّرِيّ بن يحيى، عن ابن شِهَاب، قال: قدمتُ دمشقَ وأنا أُريد الغزوَ، فأتيتُ عبد الملك لأُسلِّمَ عليه، فوجدتُه في قُبّةٍ على فُرُشٍ بقرب القائم (1) وتحته سِماطانِ، فسلَّمتُ، ثم جلستُ، فقال لي: يا ابن شِهَاب، أتعلم ما كان في بيت المقدس صباحَ قُتل عليُّ بن أبي طالب؟ فقلتُ: نعم، فقال: هلُمَّ، فقمتُ من وراء الناس حتى أتيتُ خلفَ القُبّة، فحَوَّل إليَّ وجهَه فأحنَى عليَّ، فقال: ما كان؟ فقلت: لم يُرفَعْ حَجَرٌ من بيت المقدس إلَّا وُجد تحتَه دمٌ، فقال: لم يبقَ أحدٌ يعلمُ هذا غيري وغيرَك، لا يَسمعنَّ منك أحدٌ، فما حَدّثتُ به حتى تُوفّي (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4591 - والخبر مرسل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4591 - والخبر مرسل
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ میں جہاد کے ارادے سے دمشق پہنچا اور عبدالملک (بن مروان) کو سلام کرنے کے لیے ان کے پاس گیا، میں نے انہیں ایک قبے میں بلند نشست پر پایا، میں نے سلام کیا اور بیٹھ گیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: اے ابن شہاب! کیا آپ جانتے ہیں کہ جس صبح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اس دن بیت المقدس میں کیا ہوا تھا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: قریب آؤ، میں لوگوں کے پیچھے سے ہو کر قبے کے پچھلی جانب ان کے قریب پہنچا تو انہوں نے اپنا چہرہ میری طرف موڑا اور میری طرف جھک کر پوچھا: کیا ہوا تھا؟ میں نے عرض کیا: اس دن بیت المقدس کا جو بھی پتھر اٹھایا جاتا اس کے نیچے سے خون برآمد ہوتا تھا، انہوں نے کہا: اب میرے اور تمہارے سوا اس بات کو جاننے والا کوئی نہیں بچا، لہذا یہ بات کسی اور کو نہ بتانا، چنانچہ میں نے ان کی وفات تک یہ بات کسی سے بیان نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4642]
تخریج الحدیث: «ضعيف منكر، حفص بن عمران مجهول لا يُعرف كما نبَّه عليه الذهبي في "تلخيصه"، وشيخه السَّريّ بن يحيى إن كان هو الشيباني فثقة، وإلّا فلا يُعرف أيضًا، فقد ذكره مُغَلْطاي في "الإكمال" 5/ 222 تمييزًا عن السَّريّ بن يحيى الشيباني، وعَزَاهُ للصريفيني.» [ترقيم الرساله 4642] [ترقيم الشركة 4618] [ترقيم العلميه 4591]
الحكم على الحديث: ضعيف منكر