🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

77. قُتِلَ عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ تریسٹھ برس کی عمر میں شہید کیے گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4643
أخبرني أبو سعيد أحمد بن محمد الأحمسي، حدثنا الحسين بن حُميد بن الربيع، حدثنا الحسين بن علي السُّلمي، حدثني عمي محمد بن حسان، حدثنا الحسن بن زياد، عن أبي مَعشَر، عن شُرحْبيل بن سعد القرشي، قال: استُخلِفَ عليُّ بن أبي طالب سنة خمسٍ وثلاثين، وهو ابن ثمان وخمسين سنة وأشهُر، فلما حضر المَوسِم سنة خمس وثلاثين بعث عبدَ الله بنَ عبّاس على الموسم سنة خمس وثلاثين، وسنةَ ستٍّ وثلاثين، وسنة سبع وثلاثين، وسنة ثمان وثلاثين، وسنة تسع وثلاثين، وحَضَرَ الموسمُ وتشاغلَ عليٌّ بالقتال، فاصطَلح الناسُ على شَيْبة بن عثمان الحَجَبي، فشهد بالناس، فلما كان سنةَ أربعين قُتل عليٌّ يومَ الجمعة لسبعَ عشرةَ مَضَتْ من شهر رمضان من سنة أربعين، وهو ابن ثلاثٍ وستين سنة (1) . قال الحاكم: فنظرنا فوجدنا لهذه التواريخ برهانًا ظاهرًا بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4592 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
شرحبیل بن سعد قرشی سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو سن 35 ہجری میں خلیفہ بنایا گیا جبکہ ان کی عمر اٹھاون سال اور کچھ ماہ تھی، پس جب سن 35 ہجری میں حج کا موسم آیا تو آپ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سن 35، 36، 37، 38 اور 39 ہجری میں امیرِ حج بنا کر بھیجا، پھر حج کا ایک موقع ایسا آیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جنگوں میں مصروف تھے تو لوگوں نے شیبہ بن عثمان حجبی پر اتفاق کر لیا جنہوں نے لوگوں کو حج کرایا، پھر جب سن 40 ہجری آئی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ 17 رمضان المبارک بروز جمعہ شہید کر دیے گئے جبکہ ان کی عمر تریسٹھ سال تھی۔
امام حاکم نے کہا: ہم نے ان تواریخ پر غور کیا تو ہمیں ایک صحیح سند کے ساتھ ان کی واضح دلیل مل گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4643]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرَّة لضعف أبي مَعشَر - وهو نَجيح بن عبد الرحمن السِّندي - والحسنِ بن زياد - وهو اللؤلؤي - ولجهالة الحسين بن علي السُّلمي وعمِّه محمد بن حسان، والحسينُ بن حميد بن الربيع فيه لِين.» [ترقيم الرساله 4643] [ترقيم الشركة 4619] [ترقيم العلميه 4592]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف بمرَّة لضعف أبي مَعشَر - وهو نَجيح بن عبد الرحمن السِّندي -
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4644
حدّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا السَّري بن يحيى التَّميمي، حدثنا قَبيصة بن عُقبة، حدثنا سفيان، عن منصور، عن رِبْعيّ بن حِراش، عن البراء بن ناجِيَة، عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله ﷺ:"تَدُورُ رَحَى الإسلامِ على خمسٍ وثلاثين أو ستٍّ وثلاثين، فإن يَهْلِكُوا فَسَبيلُ من هَلَك، وإن تَبَقّى لهم دينُهم فسبعين عامًا"، قال عمر: يا رسول الله، ممّا بقيَ أو ممّا مضى؟ قال:"ممّا بقيَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [ذكر بيعة أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضوان الله عليه] حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شعبان سنة اثنتين وأربع مئة، قال: اختلفتِ الرواياتُ في وقته، فقيل: أنه بُويع بعد أربعة أيام من قتل عثمان، وقيل: بعد خمس، وقيل: بعد ثلاث وقيل: بُويع يوم الجمعة لخمسٍ بَقِين من ذي الحِجّة، وقيل: بُويع عَقِيبَ قتل عثمان في دار عمرو بن مِحْصَن الأنصاري أحد بني عمرو بن مَبذُول، وأصحُّ الروايات أنه امتنع عن البيعة إلى أن دُفن عثمان، ثم بُويع على منبر رسول الله ﷺ، ظاهرًا، وكان أولَ من بايعه طلحةُ، فقال: هذه بيعة تُنكَثُ (1) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی چکی پینتیس یا چھتیس سال تک گھومے گی، پس اگر وہ ہلاک ہوئے تو یہ ہلاک ہونے والوں کا راستہ ہوگا اور اگر ان کا دین باقی رہا تو پھر ستر سال تک رہے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ اس مدت میں سے ہے جو باقی رہ گئی ہے یا جو گزر چکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس مدت میں سے ہے جو باقی رہ گئی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
[سیدنا امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بیعت کا ذکر]
امام حاکم رحمہ اللہ نے فرمایا: آپ کی بیعت کے وقت کے بارے میں روایات مختلف ہیں، کہا گیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چار دن بعد بیعت ہوئی، بعض نے پانچ دن اور بعض نے تین دن کہے، ایک قول یہ ہے کہ 25 ذوالحجہ بروز جمعہ بیعت ہوئی، اور ایک قول یہ ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے فوراً بعد عمرو بن محصن انصاری کے گھر میں بیعت ہوئی، لیکن سب سے صحیح روایت یہ ہے کہ آپ نے بیعت لینے سے اس وقت تک انکار کیا جب تک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تدفین نہیں ہو گئی، پھر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر علانیہ بیعت لی اور سب سے پہلے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیعت کی، تو انہوں نے کہا: یہ ایسی بیعت ہے جو ٹوٹ جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4644]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين كما تقدم بيانه برقم (4599). سفيان: هو ابن سعيد الثوري.» [ترقيم الرساله 4644] [ترقيم الشركة 4620]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4645
فحدَّثنا أبو بكر بن أبي دارِم، الحافظ، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التَّميمي، حدثنا وضّاح بن يحيى النَّهْشَلي، حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن أبي إسحاق، عن الأسود بن يزيد النَّخَعي، قال: لما بُويع عليُّ بن أبي طالب على مِنبَر رسول الله ﷺ، قال خُزَيمة بن ثابت وهو واقفٌ بين يدي المنبر: إذا نحنُ بايَعْنا عليًّا فحَسْبُنا … أبو حَسَنٍ مما نخافُ من الفِتَنْ وجدناه أَولَى الناسِ بالناسِ إِنَّه … أطَبُّ قُريشٍ بالكتاب وبالسُّننْ وإن قريشًا ما تَشُقُّ غُبارَه … إِذا ما جَرَى يومًا على الضُّمَّرِ البَدَنْ وفيه الذي فيهم من الخَيرِ كلِّهِ … وما فيهمُ كلُّ الذي فيه من حَسَنِ (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4595 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
اسود بن یزید نخعی سے روایت ہے کہ جب منبرِ رسول پر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بیعت ہوئی تو خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے منبر کے سامنے کھڑے ہو کر یہ اشعار پڑھے: جب ہم نے علی کی بیعت کر لی تو اب وہ تمام فتنے جن سے ہم ڈرتے تھے ان کے مقابلے میں ابوالحسن (علی رضی اللہ عنہ) ہمارے لیے کافی ہیں، ہم نے انہیں لوگوں کے لیے سب سے زیادہ بہتر اور مستحق پایا ہے کیونکہ وہ قریش میں کتاب اللہ اور سنتِ رسول کے سب سے بڑے عالم و ماہر ہیں، اور قریش کا کوئی فرد ان کی گرد کو بھی نہیں پا سکتا جب وہ اپنے چست بدن اور لاغر گھوڑے پر سوار ہو کر (میدانِ عمل میں) نکلتے ہیں، ان کے اندر وہ تمام بھلائیاں موجود ہیں جو دوسرے لوگوں میں الگ الگ پائی جاتی ہیں، لیکن وہ تمام حسن و کمال جو علی میں یکجا ہے وہ کسی دوسرے میں موجود نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4645]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف أبو بكر بن أبي دارم، قال عنه الحاكم نفسُه: رافضي غير ثقة، ووضّاح بن يحيى النَّهْشَلي مُختلف فيه، ويعتبر بحديثه عند المتابعة، ولم يتابع.» [ترقيم الرساله 4645] [ترقيم الشركة 4621] [ترقيم العلميه 4595]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف أبو بكر بن أبي دارم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4646
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا أبو أحمد الزُّبيري، حدثنا العلاء بن صالح، عن عَدِي بن ثابت، عن أبي راشد، قال: لما جاءت بيعة عليٍّ إلى حذيفة قال: لا أبايع بعده إلَّا أصغَرَ أو أبتَرَ (1) . قال الحاكم: هذه الأخبارُ الواردة في بيعة أمير المؤمنين كلُّها صحيحةٌ مُجمَع عليها، فأما قول من زعم أنَّ عبد الله بن عُمر وأبا مسعود الأنصاري وسعد بن أبي وقّاص وأبا موسى الأشعري ومحمدَ بن مَسلَمة الأنصاري وأسامةَ بن زيد قَعدُوا عن بيعته، فإنَّ هذا قولُ من يَجحَد حقيقةَ تلك الأحوالِ، فاسمع الآنَ حقيقتَها:
ابوراشد سے روایت ہے کہ جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی خبر پہنچی تو انہوں نے کہا: میں ان کے بعد کسی ایسے شخص کی بیعت نہیں کروں گا جو ان سے رتبے میں چھوٹا ہو یا جس کا کوئی مقام نہ ہو۔
امام حاکم نے کہا: امیر المؤمنین کی بیعت کے بارے میں وارد ہونے والی یہ تمام خبریں صحیح اور متفق علیہ ہیں، رہی بات ان لوگوں کی جو یہ گمان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر، ابومسعود انصاری، سعد بن ابی وقاص، ابوموسیٰ اشعری، محمد بن مسلمہ انصاری اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم ان کی بیعت سے پیچھے رہے، تو یہ ان لوگوں کا قول ہے جو اس وقت کے حقیقی حالات کا انکار کرتے ہیں، اب اس کی حقیقت سماعت فرمائیے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4646]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة أبي راشد، والصحيح أن حذيفة إنما قال ذلك لما بلغه قتلُ عثمان، فقصد بقوله ذلك عثمان كما سيأتي بيانه. أبو أحمد الزُّبيري: هو محمد بن عبد الله بن الزبير.» [ترقيم الرساله 4646] [ترقيم الشركة 4622]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة أبي راشد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں