المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
136. كَانَ النَّبِيُّ يَمُرُّ بِبَابِ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ يُوقِظُهَا لِصَلَاةِ الْفَجْرِ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھ ماہ تک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر سے گزرتے اور انہیں نمازِ فجر کے لیے جگاتے رہے
حدیث نمبر: 4802
أخبرني أحمد بن جعفر القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا أبو سعيد مولى بني هاشم، حدثنا عبد الله بن جعفر، حدثتنا أم بكر بنت المسور بن مخرمة، عن عُبيد الله بن أبي رافع، عن المسور: أنه بعثَ إِليه حَسَنُ بن حَسنٍ يَخطب ابنته، فقال له: قل له فيلقاني (2) في العتمة، قال: فلقيه فحَمِدَ الله المسورُ وأثنى عليه، ثم قال: أما بعدُ، أم والله ما من نَسَبٍ ولا سَبَبٍ ولا صِهْر أحبُّ إلي من نَسَبكم وصِهْركم، ولكن رسول الله ﷺ قال:"فاطمةُ بَضْعَةٌ مني، يَقبِضُني ما يقبضُها، ويَبسُطني ما يَبسُطُها، وإنَّ الأنساب يوم القيامة تنقطِعُ غيرَ نَسَبي وسَبَبي وصِهْري"، وعندك ابنتها، ولو زوّجتك لقبضَها ذلك؛ فانطلق عاذِرًا له (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4747 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4747 - صحيح
سیدنا مسور بیان کرتے ہیں کہ حسن بن حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے ان کی بیٹی کا رشتہ کے لئے پیغام بھیجا، انہوں نے جواباً کہا: ان سے کہئے گا کہ وہ مجھے عشاء کے وقت مل لیں، چنانچہ سیدنا حسن بن حسن عشاء کے وقت ان سے ملاقات کے لئے گئے سیدنا مسور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد بولے: خدا کی قسم! تمہارے نسب تمہارے سبب اور تمہارے ساتھ رشتہ داری سے بڑھ کر میری نظر میں کسی چیز کی اہمیت نہیں ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ” فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے اس کی تکلیف سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی خوشی سے مجھے خوشی ہوتی ہے۔ اور قیامت کے دن تمام نسب ختم ہو جائیں گے سوائے میرے نسب، میرے سبب اور میری رشتہ داری کے۔ جبکہ تمہارے ہاں پہلے سے ان کی صاحبزادی موجود ہے اگر میں اپنی بیٹی کا نکاح تم سے کر دیتا ہوں تو یہ چیز اس سید زادی کو تکلیف دے گی۔ یہ کہہ کر انہوں نے معذرت کر لی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 4802]