المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
232. كَانَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ أَحَبَّ الْقَوْمِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ
سیدنا زید الحب بن حارثہ بن شراحیل بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے
حدیث نمبر: 5022
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عَفّان، حَدَّثَنَا أبو أسامة، حَدَّثَنَا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطِب، عن أسامة بن زيد، عن زيد بن حارثة، قال: خَرَجَ رسولُ الله ﷺ وهو مُردِفي إلى نُصُب من الأنصاب، فذبَحْنا له شاةً ووضعْناها في التَّنُّور، حتَّى إذا نَضِجَت استَخْرجناها فجعلْناها في سُفْرتِنا، ثم أقبَلَ رسولُ الله ﷺ يَسيرُ وهو مُردِفي في أيام الحَرِّ من أيام مكة، حتَّى إذا كُنا بأعلى الوادي لقي فيه زيدَ بنَ عمرو بن نُفَيل، فحيّا أحدُهما الآخَرَ بتحيّةِ الجاهلية، فقال له رسولُ الله ﷺ:"ما لي أَرى قومَك قد شَنِفُوك؟ (2) "قال: أما والله إنَّ ذلك مني لبغير نائرةٍ (3) كانت مني إليهم، ولكني أَراهُم على ضَلالةٍ، قال: فخرجتُ أبتغي هذا الدِّينَ حتَّى قَدِمتُ على أحبارِ يَثرِبَ، فوجدتُهم يعبدون الله ويُشركون به، فقلتُ: ما هذا بالدِّين الذي أبتغي، فخرجتُ حتَّى أقدَمَ على أحبار خيبر، فوجدتهم يعبدون الله ويُشرِكون به، فقلت: ما هذا بالدين الذي أبتغي، فخرجتُ حتَّى أقدَمَ على أحبارِ أَيْلةَ، فوجدتُهم يعبدون الله ويُشركون به، فقلتُ: ما هذا بالدِّين الذي أبتغي، فقال لي حَبْرٌ من أحبارِ الشام: إنك تَسألُ عن دِينٍ ما نعلمُ أحدًا يَعبُد الله بغيره (4) إلَّا شيخًا بالجزيرة، فخرجتُ حتَّى قَدِمتُ إليه، فأخبرتُه الذي خرجتُ له، فقال: إن كل مَن رأيتَه في ضلالةٍ، إنك تسألُ عن دِين هو دِينُ الله، ودِينُ ملائكتِه، وقد خَرَج في أرضِك نبيٌّ أو هو خارجٌ يدعُو إليه، ارجِعْ إليه وصدِّقه واتبِعْه وآمِنْ بما جاء به، فرجعتُ فلم أَخبُرْ (1) شيئًا بعدُ، فأناخَ رسولُ الله ﷺ البَعيرَ الذي كان تحتَه، ثم قَدّمنا إليه السُّفْرةَ التي كان فيها الشِّواءُ، فقال: ما هذا؟ فقلنا: هذه شاةٌ ذَبَحْناها لنُصُبِ كذا وكذا، فقال: إني لا آكُلُ ما ذُبح لِغيرِ الله. وكان صنمٌ (2) من نُحاس، يقال له: إسافٌ ونائلةُ (3) ، يَتمسَّحُ به المشركون إذا طافُوا، فطافَ رسولُ الله ﷺ وطُفْتُ معه، فلما مَررتُ مَسَحتُ به (4) ، فقال رسولُ الله:"لا تَمسَّهُ" قال زيدٌ: فطُفْنا، فقلتُ في نفسي: لأمسَّنَّه حتَّى أنظُرَ ما يقولُ، فَمَسَحَتُه، فقال رسولُ الله:"ألم تُنْه؟". قال زيدٌ: فوالذي أكرمَه وأَنزلَ عليه الكتابَ، ما استَلَمتُ صنمًا حتَّى أكرمَه الله بالذي أكرمَه، وأَنزلَ عليه الكتابَ. ومات زيدُ بن عَمرو بن نُفَيل قبل أن يُبعَثَ، فقال رسول الله ﷺ:"يأتي يومَ القيامة أمّةً وحدَهُ" (5) صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، ومن تأمَّل هذا الحديثَ عَرَف فضلَ زيدٍ وتَقدُّمه في الإسلام قبلَ الدَّعوة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4956 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4956 - على شرط مسلم
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے پیچھے بٹھایا کرتے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک بکری ذبح کی، اور اس کو تنور میں ڈال دیا، جب وہ بھن گئی تو ہم نے اس کو نکال لیا اور اس کو اپنے کھانے پینے کے سامان میں رکھ لیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر شروع فرمایا، گرمی کے دنوں میں حج کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا جب ہم وادی کی بلندی پر پہنچے تو وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زید بن عمرو بن نفیل سے ملاقات ہو گئی، انہوں (زید بن حارثہ اور زید بن عمرو) نے دور جاہلیت کے طریقے سے ایک دوسرے کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن عمرو بن نفیل سے فرمایا: کیا وجہ ہے؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری قوم تمہارے ساتھ بغض رکھتی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے جواباً کہا: نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، خدا کی قسم! بغض کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے، البتہ اتنا ضرور ہے کہ میں انہیں گمراہ سمجھتا تھا۔ سیدنا زید بن عمرو بن نفیل فرماتے ہیں: پھر میں اس دین کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا، اس سلسلے میں، یثرب کے کئی راہبوں کے پاس گیا، میں نے ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے ساتھ ساتھ شرک میں مبتلا بھی پایا، میں نے سوچا کہ یہ وہ دین نہیں ہے جس کی تلاش میں، میں نکلا ہوں، پھر میں مقام ایلہ کے راہبوں کے پاس گیا، ان لوگوں کا بھی یہی حال تھا، میں نے سوچا یہ بھی وہ دین نہیں ہے میں جس کی تلاش میں ہوں۔ البتہ شام کے ایک راہب نے مجھے کہا: تم جس دین کے بارے میں پوچھ رہے ہو، ہم صرف ایک شخص کو جانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے، وہ فلاں جزیرے میں رہتا ہے۔ میں ان بزرگوں کے پاس گیا اور ان کو اپنے آنے کا مقصد بتایا، انہوں نے کہا: تم نے جس کو بھی دیکھا، گمراہی پر ہی دیکھا ہے، جبکہ تم جس دین کی طلب میں ہو وہ دین، اللہ تعالیٰ کا اور اس کے ملائکہ کا دین ہے۔ اور تمہارے علاقے میں ایک نبی ظاہر ہو چکا ہے یا وہ عنقریب ظاہر ہونے والا ہے۔ وہ اسی دین کی دعوت دے گا، تم اسی کی طرف لوٹ جاؤ، اس کی تصدیق کرو اور اس کی اتباع کرو، اور وہ جو کچھ لے کر آئے، اس پر ایمان لاؤ۔ چنانچہ میں وہیں سے واپس لوٹ آیا، پھر اس کے بعد میں نے کبھی بھی کچھ جاننے کی کوشش نہیں کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ بٹھایا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے، پھر ہم نے وہ کھانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا جس میں بھنی ہوئی بکری تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: یہ بکری ہے، ہم نے اس کو فلاں بت کے نام پر ذبح کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں غیراللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور نہیں کھاتا۔ یہ کانسی کا بنا ہوا ایک بت تھا، اس کو اساف یا نائلہ کہا جاتا تھا، مشرکین دوران طواف اس چھوا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا، میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ طواف کیا، میں جب بھی اس بت کے پاس سے گزرتا تو اس کو ہاتھ لگاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرماتے: اس کو ہاتھ مت لگاؤ۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم طواف کرتے رہے، میں نے اپنے دل میں سوچ رکھا تھا کہ میں اس بت کو لازمی ہاتھ لگاؤں گا اور دیکھوں گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں۔ چنانچہ میں نے پھر ہاتھ لگایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے منع نہیں کیا تھا؟ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ بولے: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت سے نوازا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل فرمائی ہے میں نے کبھی کسی بت کو استلام نہیں کیا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے نواز دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب اتاری۔ زید بن عمرو بن نفیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قیامت کے دن ایک ہی امت میں اٹھائے جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ جو شخص اس حدیث پر ذرا سا بھی غور کر لے اس کو سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے فضائل بھی سمجھ میں آ جائیں گے اور یہ بھی پتا چل جائے گا کہ وہ اعلان نبوت سے بھی پہلے اسلام میں دلچسپی رکھتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5022]
حدیث نمبر: 5023
حَدَّثَنَا جعفر بن محمد بن نُصير إملاءً، حَدَّثَنَا علي بن سعيد بن بَشير الرازي بمصر، حَدَّثَنَا إسماعيل بن عُبيد بن أبي كريمة الحَرَّاني، حَدَّثَنَا محمد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، عن يزيد بن عبد الله بن قُسَيط، عن محمد بن أسامة بن زيد، عن أبيه أسامة بن زيد، قال: اجتمع جعفرٌ وعليٌّ وزيدُ بنُ حارثة، فقال جعفرٌ: أنا أحَبُّكم إلى رسول الله ﷺ، وقال عليٌّ: أنا أحَبُّكم إلى رسول الله ﷺ، وقال زيد: أنا أحَبُّكم إلى رسول الله ﷺ، قال: فانطلِقُوا بنا إلى رسول الله ﷺ، قال: فخرجتُ ثم رجعتُ، فقلتُ: هذا جعفرٌ وعليٌّ وزيدُ بنُ حارثة يستأذنون، فقال رسولُ الله ﷺ:"ائذَنْ لهم"، فدخلوا، فقالوا: يا رسول الله، جئناك نسألُكَ مَن أحبُّ الناسِ إليكَ؟ قال:"فاطمةُ" قالوا: نسألُك عن الرِّجالِ، قال:"أما أنتَ يا جعفرُ فيُشبِه خَلْقُكَ خَلْقي، ويُشبِه خُلُقُك خُلُقي، وأنت إليَّ ومن شَجَرَتي، وأما أنت يا عليُّ فأخي وأبو ولَدِي، ومنّي وإليَّ، وأما أنتَ يا زيدُ فمَولايَ، ومنّي وإليَّ، وأحبُّ القومِ إليَّ" (1) . حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4957 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4957 - على شرط مسلم
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ ایک جگہ اکٹھے ہوئے، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ (انہوں نے دروازے پر دستک دی) میں باہر آیا، (ان کو دیکھ کر) واپس گھر گیا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جعفر، علی اور زید رضی اللہ عنہم آئے ہیں۔ اور اندر آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو اجازت دے دو، یہ لوگ اندر آ گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کی خدمت میں یہ دریافت کرنے کے لئے آئے ہیں کہ آپ سب سے زیادہ کس سے محبت کرتے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ رضی اللہ عنہا سے۔ انہوں نے کہا: ہم نے مردوں کے بارے میں پوچھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جعفر رضی اللہ عنہ! تم صورت اور سیرت میں میرے جیسے اور تیرا اور میرا شجرہ نسب ایک ہی ہے۔ اور اے علی رضی اللہ عنہ! تم میرے بھائی ہو، اور میری اولاد (نواسے) کے والد ہو، تو مجھ سے ہے۔ اور میری ہی طرف ہو، اور اے زید رضی اللہ عنہ! تم میرے آزاد کردہ ہو، مجھ سے ہو، میری طرف ہو، اور تمام لوگوں سے مجھے زیادہ محبوب ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5023]
حدیث نمبر: 5024
أخبرنا أبو جعفر محمد بن عبد الله التاجِر، حَدَّثَنَا يحيى (2) بن عثمان بن صالح، حَدَّثَنَا أبي عثمانُ بنُ صالح، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، عن عُقَيل، أنَّ ابنَ شِهَابٍ حَدَّثه عن عُروة، عن أسامة، عن (3) زيد بن حارثة، عن نبي الله ﷺ: أنه أتاه (1) في أول ما أُوحِيَ إليه، فأراهُ الوضوءَ والصلاةَ وعلّمه الإسلامَ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4958 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4958 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وحی کے بالکل ابتدائی دنوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، ان کو وضو کا طریقہ سکھایا، نماز سکھائی اور اسلام کی تعلیم دی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5024]