المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
232. كان زيد بن حارثة أحب القوم إلى رسول الله
سیدنا زید الحب بن حارثہ بن شراحیل بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے
حدیث نمبر: 5023
حَدَّثَنَا جعفر بن محمد بن نُصير إملاءً، حَدَّثَنَا علي بن سعيد بن بَشير الرازي بمصر، حَدَّثَنَا إسماعيل بن عُبيد بن أبي كريمة الحَرَّاني، حَدَّثَنَا محمد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، عن يزيد بن عبد الله بن قُسَيط، عن محمد بن أسامة بن زيد، عن أبيه أسامة بن زيد، قال: اجتمع جعفرٌ وعليٌّ وزيدُ بنُ حارثة، فقال جعفرٌ: أنا أحَبُّكم إلى رسول الله ﷺ، وقال عليٌّ: أنا أحَبُّكم إلى رسول الله ﷺ، وقال زيد: أنا أحَبُّكم إلى رسول الله ﷺ، قال: فانطلِقُوا بنا إلى رسول الله ﷺ، قال: فخرجتُ ثم رجعتُ، فقلتُ: هذا جعفرٌ وعليٌّ وزيدُ بنُ حارثة يستأذنون، فقال رسولُ الله ﷺ:"ائذَنْ لهم"، فدخلوا، فقالوا: يا رسول الله، جئناك نسألُكَ مَن أحبُّ الناسِ إليكَ؟ قال:"فاطمةُ" قالوا: نسألُك عن الرِّجالِ، قال:"أما أنتَ يا جعفرُ فيُشبِه خَلْقُكَ خَلْقي، ويُشبِه خُلُقُك خُلُقي، وأنت إليَّ ومن شَجَرَتي، وأما أنت يا عليُّ فأخي وأبو ولَدِي، ومنّي وإليَّ، وأما أنتَ يا زيدُ فمَولايَ، ومنّي وإليَّ، وأحبُّ القومِ إليَّ" (1) . حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4957 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4957 - على شرط مسلم
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ ایک جگہ اکٹھے ہوئے، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ (انہوں نے دروازے پر دستک دی) میں باہر آیا، (ان کو دیکھ کر) واپس گھر گیا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جعفر، علی اور زید رضی اللہ عنہم آئے ہیں۔ اور اندر آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو اجازت دے دو، یہ لوگ اندر آ گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کی خدمت میں یہ دریافت کرنے کے لئے آئے ہیں کہ آپ سب سے زیادہ کس سے محبت کرتے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ رضی اللہ عنہا سے۔ انہوں نے کہا: ہم نے مردوں کے بارے میں پوچھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جعفر رضی اللہ عنہ! تم صورت اور سیرت میں میرے جیسے اور تیرا اور میرا شجرہ نسب ایک ہی ہے۔ اور اے علی رضی اللہ عنہ! تم میرے بھائی ہو، اور میری اولاد (نواسے) کے والد ہو، تو مجھ سے ہے۔ اور میری ہی طرف ہو، اور اے زید رضی اللہ عنہ! تم میرے آزاد کردہ ہو، مجھ سے ہو، میری طرف ہو، اور تمام لوگوں سے مجھے زیادہ محبوب ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5023]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5023 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، محمد بن إسحاق مدلِّس وقد عنعن.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف ہے۔ محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور انہوں نے "عنعنہ" (عن کہہ کر روایت) کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 36/ (21777) عن أحمد بن عبد الملك، والنسائي (8470) عن أحمد بن بكار الحراني، كلاهما عن محمد بن سَلَمة، بهذا الإسناد. ورواية النسائي مختصرة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسند احمد: 36/ (21777) میں احمد بن عبدالملک سے، اور نسائی: (8470) میں احمد بن بکار الحرانی سے، دونوں نے محمد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، البتہ نسائی کی روایت مختصر ہے۔
وأخرج الترمذي (3819) وحسّنه من طريق عمر بن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أسامة بن زيد، قال: كنت جالسًا إذ جاء عليّ والعبّاس يستأذنان، فقالا: يا أسامة، استأذن لنا على رسول الله ﷺ، وفيه فقالا: يا رسول الله جئناك نسألُك أيُّ أهلك أحبُّ إليك؟ قال: "فاطمة بنت محمد" فقالا: ما جئناك نسألك عن أهلك، قال: "أحبُّ أهلي إليَّ من قد أنعم الله عليه وأنعمتُ عليه أسامة بن زيد" قالا: ثم مَن؟ قال: "ثم علي بن أبي طالب" … وهذا إسناد ضعيف، عمر بن أبي سلمة ضعيفٌ عند التفرد أو المخالفة، وقد خولف.
📖 حوالہ / مصدر: ترمذی: (3819) نے اسے عمر بن ابی سلمہ بن عبدالرحمن > ان کے والد > اسامہ بن زید سے روایت کر کے حسن کہا ہے کہ: "میں بیٹھا تھا کہ علی اور عباس ؓ اجازت مانگتے ہوئے آئے اور کہا: اے اسامہ! ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگو... پھر انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم آپ سے پوچھنے آئے ہیں کہ آپ کے گھر والوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: فاطمہ بنت محمد۔ انہوں نے کہا: ہم آپ کے اہل (خون کے رشتے) کے بارے میں نہیں پوچھ رہے۔ آپ نے فرمایا: میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے انعام کیا یعنی اسامہ بن زید۔ انہوں نے پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: پھر علی بن ابی طالب..."۔ ⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند ضعیف ہے، عمر بن ابی سلمہ تفرد یا مخالفت کے وقت ضعیف ہوتے ہیں، اور یہاں ان کی مخالفت کی گئی ہے۔
والصحيح في تنازع هؤلاء الثلاثة أنه إنما كان في كفالة بنت حمزة كما سلف برقم (4664) و (5003) من حديث علي بن أبي طالب، وأصله عند البخاري (2669) و (4251) من حديث البراء بن عازب.
📌 اہم نکتہ / تحقیق: ان تینوں (علی، جعفر، زید) کے مابین تنازع کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ وہ حمزہ ؓ کی بیٹی کی کفالت کے بارے میں تھا جیسا کہ نمبر (4664) اور (5003) میں علی بن ابی طالب ؓ کی حدیث سے گزر چکا، اور اس کی اصل بخاری: (2669) و (4251) میں براء بن عازب ؓ کی حدیث سے موجود ہے۔