🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
232. كان زيد بن حارثة أحب القوم إلى رسول الله
سیدنا زید الحب بن حارثہ بن شراحیل بن عبد العزیٰ رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5022
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عَفّان، حَدَّثَنَا أبو أسامة، حَدَّثَنَا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطِب، عن أسامة بن زيد، عن زيد بن حارثة، قال: خَرَجَ رسولُ الله ﷺ وهو مُردِفي إلى نُصُب من الأنصاب، فذبَحْنا له شاةً ووضعْناها في التَّنُّور، حتَّى إذا نَضِجَت استَخْرجناها فجعلْناها في سُفْرتِنا، ثم أقبَلَ رسولُ الله ﷺ يَسيرُ وهو مُردِفي في أيام الحَرِّ من أيام مكة، حتَّى إذا كُنا بأعلى الوادي لقي فيه زيدَ بنَ عمرو بن نُفَيل، فحيّا أحدُهما الآخَرَ بتحيّةِ الجاهلية، فقال له رسولُ الله ﷺ:"ما لي أَرى قومَك قد شَنِفُوك؟ (2) "قال: أما والله إنَّ ذلك مني لبغير نائرةٍ (3) كانت مني إليهم، ولكني أَراهُم على ضَلالةٍ، قال: فخرجتُ أبتغي هذا الدِّينَ حتَّى قَدِمتُ على أحبارِ يَثرِبَ، فوجدتُهم يعبدون الله ويُشركون به، فقلتُ: ما هذا بالدِّين الذي أبتغي، فخرجتُ حتَّى أقدَمَ على أحبار خيبر، فوجدتهم يعبدون الله ويُشرِكون به، فقلت: ما هذا بالدين الذي أبتغي، فخرجتُ حتَّى أقدَمَ على أحبارِ أَيْلةَ، فوجدتُهم يعبدون الله ويُشركون به، فقلتُ: ما هذا بالدِّين الذي أبتغي، فقال لي حَبْرٌ من أحبارِ الشام: إنك تَسألُ عن دِينٍ ما نعلمُ أحدًا يَعبُد الله بغيره (4) إلَّا شيخًا بالجزيرة، فخرجتُ حتَّى قَدِمتُ إليه، فأخبرتُه الذي خرجتُ له، فقال: إن كل مَن رأيتَه في ضلالةٍ، إنك تسألُ عن دِين هو دِينُ الله، ودِينُ ملائكتِه، وقد خَرَج في أرضِك نبيٌّ أو هو خارجٌ يدعُو إليه، ارجِعْ إليه وصدِّقه واتبِعْه وآمِنْ بما جاء به، فرجعتُ فلم أَخبُرْ (1) شيئًا بعدُ، فأناخَ رسولُ الله ﷺ البَعيرَ الذي كان تحتَه، ثم قَدّمنا إليه السُّفْرةَ التي كان فيها الشِّواءُ، فقال: ما هذا؟ فقلنا: هذه شاةٌ ذَبَحْناها لنُصُبِ كذا وكذا، فقال: إني لا آكُلُ ما ذُبح لِغيرِ الله. وكان صنمٌ (2) من نُحاس، يقال له: إسافٌ ونائلةُ (3) ، يَتمسَّحُ به المشركون إذا طافُوا، فطافَ رسولُ الله ﷺ وطُفْتُ معه، فلما مَررتُ مَسَحتُ به (4) ، فقال رسولُ الله:"لا تَمسَّهُ" قال زيدٌ: فطُفْنا، فقلتُ في نفسي: لأمسَّنَّه حتَّى أنظُرَ ما يقولُ، فَمَسَحَتُه، فقال رسولُ الله:"ألم تُنْه؟". قال زيدٌ: فوالذي أكرمَه وأَنزلَ عليه الكتابَ، ما استَلَمتُ صنمًا حتَّى أكرمَه الله بالذي أكرمَه، وأَنزلَ عليه الكتابَ. ومات زيدُ بن عَمرو بن نُفَيل قبل أن يُبعَثَ، فقال رسول الله ﷺ:"يأتي يومَ القيامة أمّةً وحدَهُ" (5) صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، ومن تأمَّل هذا الحديثَ عَرَف فضلَ زيدٍ وتَقدُّمه في الإسلام قبلَ الدَّعوة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4956 - على شرط مسلم
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے پیچھے بٹھایا کرتے تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک بکری ذبح کی، اور اس کو تنور میں ڈال دیا، جب وہ بھن گئی تو ہم نے اس کو نکال لیا اور اس کو اپنے کھانے پینے کے سامان میں رکھ لیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر شروع فرمایا، گرمی کے دنوں میں حج کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا جب ہم وادی کی بلندی پر پہنچے تو وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زید بن عمرو بن نفیل سے ملاقات ہو گئی، انہوں (زید بن حارثہ اور زید بن عمرو) نے دور جاہلیت کے طریقے سے ایک دوسرے کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن عمرو بن نفیل سے فرمایا: کیا وجہ ہے؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری قوم تمہارے ساتھ بغض رکھتی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے جواباً کہا: نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، خدا کی قسم! بغض کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے، البتہ اتنا ضرور ہے کہ میں انہیں گمراہ سمجھتا تھا۔ سیدنا زید بن عمرو بن نفیل فرماتے ہیں: پھر میں اس دین کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا، اس سلسلے میں، یثرب کے کئی راہبوں کے پاس گیا، میں نے ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے ساتھ ساتھ شرک میں مبتلا بھی پایا، میں نے سوچا کہ یہ وہ دین نہیں ہے جس کی تلاش میں، میں نکلا ہوں، پھر میں مقام ایلہ کے راہبوں کے پاس گیا، ان لوگوں کا بھی یہی حال تھا، میں نے سوچا یہ بھی وہ دین نہیں ہے میں جس کی تلاش میں ہوں۔ البتہ شام کے ایک راہب نے مجھے کہا: تم جس دین کے بارے میں پوچھ رہے ہو، ہم صرف ایک شخص کو جانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے، وہ فلاں جزیرے میں رہتا ہے۔ میں ان بزرگوں کے پاس گیا اور ان کو اپنے آنے کا مقصد بتایا، انہوں نے کہا: تم نے جس کو بھی دیکھا، گمراہی پر ہی دیکھا ہے، جبکہ تم جس دین کی طلب میں ہو وہ دین، اللہ تعالیٰ کا اور اس کے ملائکہ کا دین ہے۔ اور تمہارے علاقے میں ایک نبی ظاہر ہو چکا ہے یا وہ عنقریب ظاہر ہونے والا ہے۔ وہ اسی دین کی دعوت دے گا، تم اسی کی طرف لوٹ جاؤ، اس کی تصدیق کرو اور اس کی اتباع کرو، اور وہ جو کچھ لے کر آئے، اس پر ایمان لاؤ۔ چنانچہ میں وہیں سے واپس لوٹ آیا، پھر اس کے بعد میں نے کبھی بھی کچھ جاننے کی کوشش نہیں کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ بٹھایا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے، پھر ہم نے وہ کھانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا جس میں بھنی ہوئی بکری تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: یہ بکری ہے، ہم نے اس کو فلاں بت کے نام پر ذبح کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں غیراللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور نہیں کھاتا۔ یہ کانسی کا بنا ہوا ایک بت تھا، اس کو اساف یا نائلہ کہا جاتا تھا، مشرکین دوران طواف اس چھوا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا، میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ طواف کیا، میں جب بھی اس بت کے پاس سے گزرتا تو اس کو ہاتھ لگاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرماتے: اس کو ہاتھ مت لگاؤ۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم طواف کرتے رہے، میں نے اپنے دل میں سوچ رکھا تھا کہ میں اس بت کو لازمی ہاتھ لگاؤں گا اور دیکھوں گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں۔ چنانچہ میں نے پھر ہاتھ لگایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے منع نہیں کیا تھا؟ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ بولے: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت سے نوازا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل فرمائی ہے میں نے کبھی کسی بت کو استلام نہیں کیا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے نواز دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب اتاری۔ زید بن عمرو بن نفیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قیامت کے دن ایک ہی امت میں اٹھائے جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ جو شخص اس حدیث پر ذرا سا بھی غور کر لے اس کو سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے فضائل بھی سمجھ میں آ جائیں گے اور یہ بھی پتا چل جائے گا کہ وہ اعلان نبوت سے بھی پہلے اسلام میں دلچسپی رکھتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5022]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5022 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) أي: أبغَضُوك.
🔍 فنی نکتہ / لغت: (متن میں موجود لفظ کا مطلب ہے): انہوں نے تم سے بغض رکھا۔
(3) الناثرة: العداوة والشَّحناء.
🔍 فنی نکتہ / لغت: "الناثرۃ" کا مطلب ہے دشمنی اور کینہ۔
(4) المثبت من (ز) و (ب)، و"تلخيص المستدرك" للذهبي، ومن إحدى نسخ "الدلائل" للبيهقي 2/ 125 حيث رواه البيهقي عن المصنّف بإسناده هذا، والتَّقديرُ: لا نعلم أحدًا يعبد الله بدينٍ غيره، وفي (ص) و (ع): تعالى، بدل: بغيره، وهي غير واضحة في (م). وفي المطبوع: به، بدل: بغيره، وكذلك جاء في سائر مصادر تخريج الخبر، والمعنى فيها واضح.
📝 نوٹ / توضیح: (4) یہ متن نسخہ (ز)، (ب)، ذہبی کی "تلخیص المستدرک" اور بیہقی کی "دلائل النبوۃ": 2/ 125 کے ایک نسخے سے ثابت کیا گیا ہے (جہاں بیہقی نے اسے مصنف سے روایت کیا)۔ عبارت کی تقدیر یوں ہے: "ہم کسی کو نہیں جانتے جو اللہ کی عبادت کرتا ہو اس کے دین کے علاوہ کسی اور دین پر"۔ نسخہ (ص) اور (ع) میں "بغیر ہ" کی جگہ "تعالیٰ" ہے، (م) میں واضح نہیں، اور مطبوعہ میں "بہ" ہے۔ باقی مصادر میں بھی اسی طرح ہے اور معنی واضح ہے۔
(1) المثبت من (ز)، وفي (ص) و (ع): أحسن، وكأنها في (م) كذلك، وأظنها تحريفًا عن أخبرُ، أو عن أُحِسّ، فقد كُتب في هامش (ز): أُحِسّ، وكذلك جاء في "تلخيص المستدرك" للذهبي: أُحِسّ، والمعنى قريبٌ من أخبرُ، يقال: أحسَّ الخَبَرَ، وخَبَرَ الخَبَر: إذا علمه.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ز) سے ثابت شدہ متن ہے۔ (ص) اور (ع) میں "احسن" ہے، شاید (م) میں بھی ایسا ہی ہے۔ میرا گمان ہے کہ یہ "اخبر" یا "احس" سے تحریف ہے۔ (ز) کے حاشیے میں "احس" لکھا ہے اور "تلخیص المستدرک" میں بھی "احس" ہے۔ یہ "اخبر" کے معنی کے قریب ہے (یعنی خبر جاننا)۔
(2) جاء في نسخنا الخطية: صنمًا، بالنَّصب. والمثبت بالرفع من "تلخيص المستدرك" للذهبي، وهو كذلك في "دلائل النبوة" للبيهقي 2/ 34 حيث روى هذا الخبر الثاني بعينه عن أبي عبد الله الحاكم بإسناده هذا، وهو الجادّة، لأنَّ "كان" هنا تامّة، فلفظة "صنم" فاعلُها.
📝 نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں "صنماً" (نصب کے ساتھ) ہے، جبکہ "تلخیص المستدرک" سے ہم نے رفع (پیش) کے ساتھ ثابت کیا ہے۔ بیہقی کی "دلائل النبوۃ": 2/ 34 میں بھی ایسا ہی ہے۔ یہی قاعدے (الجادۃ) کے مطابق ہے کیونکہ یہاں "کان" تامہ ہے، لہٰذا "صنم" اس کا فاعل (مرفوع) ہوگا۔
(3) هكذا في النسخ الخطية، وفي "الدلائل": إساف أو نائلة، وهو أوجه، فالضمائر التالية كلها بالإفراد.
📝 نوٹ / توضیح: (3) قلمی نسخوں میں ایسے ہی ہے، جبکہ "الدلائل" میں "اساف او نائلہ" (یا کے ساتھ) ہے، اور یہی زیادہ مناسب ہے کیونکہ آگے تمام ضمیریں واحد کی ہیں۔
(4) في (ز) و (م) و"تلخيص المستدرك": بها.
📝 نوٹ / توضیح: (4) نسخہ (ز)، (م) اور "تلخیص المستدرک" میں "بہا" ہے۔
(5) إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو - وهو ابن علقمة الليثي - فهو صدوق لكن كانت له أوهامٌ كما قال الحافظُ ابن حجر في "التقريب"، وفي بعض حديثه هذا نكارة بيِّنة كما قال الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 1/ 222. يعني قوله في أول الحديث: إلى نُصُب من الأنصاب، فذبحنا له شاةً، إلى أن قال: فجعلناها في سُفرتنا.
⚖️ درجۂ حدیث: (5) اس کی سند محمد بن عمرو (ابن علقمہ اللیثی) کی وجہ سے "حسن" ہے۔ وہ "صدوق" ہیں لیکن ان سے کچھ اوہام سرزد ہوئے ہیں [جیسا کہ ابن حجر نے "التقریب" میں کہا]۔ 🔍 فنی نکتہ / متن: اس حدیث کے بعض حصے میں واضح "نکارت" ہے جیسا کہ ذہبی نے "سیر اعلام النبلاء": 1/ 222 میں کہا۔ یعنی یہ الفاظ: "ہم بتوں میں سے ایک بت کے پاس گئے اور اس کے لیے بکری ذبح کی... اور اسے اپنے دسترخوان میں رکھا"۔
وأخرجه النسائي (8132) عن موسى بن حزام، عن أبي أسامة حماد بن أسامة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی: (8132) نے موسیٰ بن حزام > ابو اسامہ حماد بن اسامہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد للقصة الأُولى قصة زيد بن عمرو بن نُفيل دون ذكر الذبح للنُّصُب حديثُ عبد الله بن عُمر بن الخطاب عند البخاري (3826) و (3827) وغيره، غير أنه جاء في قصة السُّفرة: أنَّ النَّبِيّ ﷺ قدَّم لزيد بن عمر و سُفرةً فيها لحمٌ فأبى أن يأكل منها، وقال: إني لستُ آكلُ مما تذبحون على أنصابكم، ولا آكل إلّا ما ذُكر اسمُ اللهِ عليه.
🧩 متابعات و شواہد: پہلے قصے (زید بن عمرو بن نفیل کے واقعے) کی تائید عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث کرتی ہے جو بخاری: (3826) و (3827) وغیرہ میں ہے، لیکن اس میں بتوں کے لیے ذبح کا ذکر نہیں ہے۔ دسترخوان کے قصے میں وہاں یہ ہے کہ نبی ﷺ نے زید بن عمرو کو گوشت والا دسترخوان پیش کیا تو انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہا: "میں وہ نہیں کھاتا جو تم اپنے بتوں پر ذبح کرتے ہو، میں صرف وہ کھاتا ہوں جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو"۔
ويشهد للقصة أيضًا حديثُ سعيد بن زيد بن عمر بن نفيل عند أحمد 3/ (1648) وغيره، غير أنه جاء في قصة السُّفرة: أنَّ رسول الله ﷺ كان هو وزيد بن حارثة بمكة، فمرَّ بهما زيد بن عمرو بن نفيل، فدعواه إلى سفرة لهما، فقال: يا ابن أخي، إني لا آكل مما ذُبح على النُّصُب، قال: فما رُئِيَ النَّبِيّ ﷺ بعد ذلك أكل شيئًا مما ذُبح على النُّصب.
🧩 متابعات و شواہد: اس قصے کی تائید سعید بن زید ؓ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جو احمد: 3/ (1648) وغیرہ میں ہے۔ اس میں دسترخوان کے بارے میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور زید بن حارثہ مکہ میں تھے، زید بن عمرو بن نفیل گزرے تو انہوں نے انہیں کھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا: "اے بھتیجے! میں وہ نہیں کھاتا جو بتوں پر ذبح کیا گیا ہو"۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد نبی ﷺ کو کبھی بتوں پر ذبح شدہ چیز کھاتے نہیں دیکھا گیا۔
قال إبراهيم بن إسحاق الحربيّ بعد أن خرَّج حديث زيد بن حارثة في "غريب الحديث" 2/ 791: قوله: ذبحنا شاةً لنُصُب من الأنصاب، لذلك وجهان إما أن يكون زيدٌ فعله من غير أمر رسول الله ﷺ ولا رضاهُ، إلا أنه كان معه فنسب ذلك إليه، لأنَّ زيدًا لم يكن معه من العصمة والتوفيق ما كان اللهُ أعطاه نبيَّه ﷺ، ومنعه مما لا يحلُّ من أمر الجاهلية، وكيف يجوز ذلك وهو قد مَنَعَ زيدًا في حديثه هذا أن يمسّ صنمًا، وما مسَّه النَّبِيّ ﷺ قبل نبوته ولا بعدُ، فهو ينهى زيدًا عن مسِّه ويَرضى أن يَذبح له، هذا محالٌ.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: ابراہیم بن اسحاق الحربی نے "غریب الحدیث": 2/ 791 میں اس حدیث کی تخریج کے بعد فرمایا: "قول (ہم نے بت کے لیے بکری ذبح کی) کی دو توجیہات ہیں: یا تو یہ کام زید (بن حارثہ) نے رسول اللہ ﷺ کے حکم اور رضا کے بغیر کیا ہو، لیکن چونکہ وہ ساتھ تھے اس لیے ان کی طرف بھی منسوب کر دیا، کیونکہ زید کے پاس وہ عصمت و توفیق نہیں تھی جو اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو دی تھی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ ﷺ نے اسی حدیث میں زید کو بت چھونے سے منع کیا ہو (اور خود آپ نے نبوت سے پہلے اور بعد کبھی بت کو نہیں چھوا)، تو آپ چھونے سے منع کریں اور اس کے لیے ذبح کرنے پر راضی ہوں؟ یہ محال ہے۔
والوجه الثاني: أن يكون ذَبح لزاده في خروجه، فاتفق ذلك عند صنمٍ كانوا يذبحون عنده، فكان الذبح منهم للصنم، والذبح منه الله تعالى، إلّا أنَّ الموضع جَمَعَ بين الذَّبْحين، فأما ظاهر ما جاء به الحديث فمَعاذَ الله.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: دوسری توجیہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے سفر کے لیے زادِ راہ کے طور پر ذبح کیا ہو، اور اتفاقاً وہ جگہ کسی بت کے پاس ہو جہاں لوگ ذبح کرتے تھے، تو لوگوں کا ذبح بت کے لیے تھا اور آپ کا ذبح اللہ کے لیے، بس جگہ ایک تھی۔ لیکن حدیث کے ظاہری الفاظ کا جو مطلب نکلتا ہے (کہ بت کے لیے ذبح کیا)، معاذ اللہ (اس سے اللہ کی پناہ)۔
قال الذهبي في "السير" 1/ 135 بعد أن نقل كلام الحربي هذا: هذا حسنٌ، فإنما الأعمال بالنية. أما زيد فأخذَ بالظاهر، وكان الباطن الله، وربما سكت النَّبِيّ ﷺ عن الإفصاح خوف الشرّ، فإنا مع علمنا بكراهيته للأوثان نعلم أيضًا أنه ما كان قبل النبوة مجاهرًا بذمها بين قريش، ولا معلنًا لمَقْتها قبل المبعث.
📌 اہم نکتہ / تحقیق: ذہبی نے "السیر": 1/ 135 میں حربی کا کلام نقل کرنے کے بعد فرمایا: "یہ اچھی توجیہ ہے، اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ زید (بن عمرو) نے ظاہر پر حکم لگایا، جبکہ باطن میں وہ اللہ کے لیے تھا۔ شاید نبی ﷺ نے کسی شر کے خوف سے اس کی وضاحت نہیں کی، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ بتوں سے نفرت کرتے تھے لیکن نبوت سے پہلے قریش کے سامنے اعلانیہ ان کی مذمت نہیں کرتے تھے"۔
ثم قال الحربي معلقًا على حديثي ابن عمر وسعيد بن زيد: ليس فيهما بيانُ أنه ﷺ ذَبَحَ أو أَمَرَ بذلك، ولعلَّ زيدًا ظنَّ أنَّ ذلك اللحم مما كانت قريش تذبحه لأنصابها، فامتنع لذلك، ولم يكن الأمر كما ظن، فإن كان ذلك فُعل فبغير أمره ولا رضاه. وعلَّق الذهبي في "السير" 1/ 130 على ما ورد في حديث سعيد بن زيد من قوله: فما رُئي النَّبِيُّ ﷺ بعد ذلك أكل شيئًا مما ذُبح على النُّصُب، فقال: وقد رواه إبراهيم الحربي قال: حَدَّثَنَا إبراهيم بن محمد، حَدَّثَنَا أبو قَطَن، عن المسعودي، عن نُفيل، عن أبيه، عن جده، قال: مر زيد برسول الله ﷺ وبابن حارثة وهما يأكلان في سفرةٍ، فدعواه، فقال: إني لا آكلُ مما ذُبح على النُّصُب، قال: وما رئي رسول الله ﷺ أكلًا مما ذُبح على النُّصُب. قال الذهبي: فهذا اللفظ مليحٌ يفسِّر ما قبله، وما زال المصطفى محفوظًا محروسًا قبل الوحي وبعده، ولو احتمل جواز ذلك فبالضرورة ندري أنه كان يأكل من ذبائح قريش قبل الوحي، وكان ذلك على الإباحة، وإنما تُوصف ذبائحهم بالتحريم بعد نزول الآية، كما أنَّ الخمر كانت على الإباحة إلى أن نزل تحريمها بالمدينة بعد يوم أُحُدٍ. والذي لا ريب فيه أنه كان معصومًا قبل الوحي وبعده وقبل التشريع من الزنى قطعًا، ومن الخيانة والغدر والكذب والسكر والسجود لوثن، والاستقسام بالأزلام، ومن الرذائل والسَّفَه وبَذاءِ اللسان وكشف العورة، فلم يكن يطوف عُريانًا، ولا كان يقف يوم عرفة مع قومه بمزدلفة، بل كان يقف بعرفة. وبكل حالٍ لو بدا منه شيء من ذلك لما كان عليه تبعةٌ، لأنَّهُ كان لا يعرف، ولكن رتبة الكمال تأبى وقوع ذلك منه ﷺ تسليمًا.
📌 اہم نکتہ / تحقیق: حربی نے مزید کہا: "ابن عمر اور سعید بن زید کی روایات میں یہ بیان نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے ذبح کیا یا حکم دیا۔ شاید زید نے گمان کیا کہ یہ گوشت وہی ہے جو قریش بتوں کے لیے ذبح کرتے تھے، اس لیے رک گئے، حالانکہ معاملہ ان کے گمان جیسا نہ تھا۔ اگر ایسا کچھ ہوا بھی تو آپ کے حکم اور رضا کے بغیر ہوا۔ ذہبی نے "السیر": 1/ 130 میں فرمایا: ابراہیم الحربی نے... (سند)... نفیل > ان کے والد > ان کے دادا سے روایت کیا کہ زید رسول اللہ ﷺ اور ابن حارثہ کے پاس سے گزرے جو کھا رہے تھے، انہوں نے دعوت دی تو زید نے کہا: میں بتوں پر ذبح شدہ نہیں کھاتا۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو بتوں کا ذبح شدہ کھاتے نہیں دیکھا گیا۔ ذہبی فرماتے ہیں: یہ لفظ عمدہ ہے جو پچھلی بات کی تفسیر کرتا ہے۔ مصطفی ﷺ وحی سے پہلے اور بعد ہمیشہ محفوظ و محروس رہے۔ اگر (جاہلیت کی ذبیحہ کے) جواز کا احتمال ہو بھی تو ہم جانتے ہیں کہ آپ وحی سے پہلے قریش کے ذبیحہ کھاتے تھے اور یہ اباحت (جائز ہونے) پر مبنی تھا، ان کے ذبیحہ کی حرمت آیت نازل ہونے کے بعد ہوئی، جیسے شراب احد کے بعد مدینہ میں حرام ہونے تک حلال تھی۔ جس بات میں کوئی شک نہیں وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ وحی اور شریعت سے پہلے بھی زنا، خیانت، غدر، جھوٹ، نشہ، بت کو سجدہ، ازلام سے قسمت معلوم کرنا، رذائل، بیہودگی، بدزبانی اور ننگے ہونے سے قطعاً معصوم تھے۔ آپ ننگے طواف نہیں کرتے تھے، نہ مزدلفہ میں (قریش کی طرح) ٹھہرتے تھے بلکہ عرفات میں ٹھہرتے تھے۔ بہرحال اگر کوئی ایسی چیز ظاہر بھی ہوتی تو آپ پر کوئی گناہ نہ تھا کیونکہ آپ جانتے نہیں تھے، لیکن رتبہ کمال اس بات سے انکار کرتا ہے کہ آپ سے ایسا کچھ ہوا ہو۔
قلنا: هذا الحرف الأخير الذي ذكر الذهبي أنه عند إبراهيم الحربي؛ يعني قوله: وما رُئي النَّبِيّ، إلى آخره، سقط من مطبوع "غريب الحديث" الذي بأيدينا، فيُستدرك من "السير".
📌 اہم نکتہ / تحقیق: ہم کہتے ہیں: یہ آخری جملہ جس کے بارے میں ذہبی نے ذکر کیا ہے کہ یہ ابراہیم حربی کے پاس ہے (یعنی ان کا قول: "نبی ﷺ کو اس کے بعد نہیں دیکھا گیا..." آخر تک)، یہ ہمارے پاس موجود "غریب الحدیث" کے مطبوعہ نسخے سے گر گیا ہے، لہٰذا اسے ذہبی کی "السیر" سے استدراک (حاصل) کیا جائے گا۔
وقوله في آخره: "يأتي يوم القيامة وحده" سيأتي من حديث سعيد بن زيد برقم (5968)، وهو صحيح بمجموع شواهده، وانظرها هناك.
🧾 تفصیلِ روایت: اور اس کے آخر میں جو قول ہے: "وہ قیامت کے دن اکیلا (ایک امت بن کر) آئے گا"، یہ عنقریب سعید بن زید کی حدیث سے نمبر (5968) میں آئے گا، اور وہ اپنے مجموعی شواہد کی بنا پر "صحیح" ہے۔ آپ اسے وہاں دیکھیں۔