المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
272. خُطْبَةُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ عِنْدَ مَقْدَمِ النَّبِيِّ فِي الْمَدِينَةِ
مدینہ تشریف آوری کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کا خطبہ
حدیث نمبر: 5103
أخبرنا أبو عبد الرحمن بن أبي الوزير التاجر، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا ابن عَوْن، حدثنا موسى بن أنس، عن أنس بن مالك، قال: لما كان يومُ اليَمامة جِئتُ إلى ثابتِ بن قيس بن شَمّاس، وهو يتحنَّط، فقلت: يا عمِّ، ألا تَرى ما يَلْقَى الناسُ؟ فلبس أكفانَه، ثم أَقبل وهو يقول: الآنَ الآنَ، وجعلَ يقول بالحَنُوط وأومأَ الأنصاريُّ على ساقِه هكذا - عن وُجُوهِ القوم يُقارعُ القومَ: بئسَ ما عَوّدَتكُم (2) أقرانُكم، ما هكذا كنا نُقاتِلُ مع النبيِّ ﷺ، فقاتل حتى قُتِلَ (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5032 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5032 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ یمامہ کے دن میں سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اس وقت وہ اپنے آپ کو مردوں والی خوشبو لگا رہے تھے، میں نے کہا: اے چچا جان! کیا آپ نہیں دیکھ رہے جو لوگوں کی حالت ہو چکی ہے؟ چنانچہ انہوں نے کفن زیب تن کیا (اس وقت وہ کہہ رہے تھے) اب ٹھیک ہے اب ٹھیک ہے۔ اور آپ اپنے حنوط کے بارے میں کہہ رہے تھے ” ایسے ہوتا ہے “ اور انصاری نے ان کی پنڈلی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: جنگجو قوم کے چہروں کا یہ حال ہوتا ہے، تم نے اپنے ساتھیوں کو کتنا ہی برا حنوط (وہ خوشبو جو دفن کے وقت میت کو لگائی جاتی ہے) لگایا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس طرح نہیں لڑا کرتے تھے، پھر وہ جنگ میں شریک ہو گئے حتی کہ آپ شہید ہو گئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5103]