المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
345. وَفَاةُ مُعَاذٍ وَآلِهِ كُلِّهِمْ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ان کے اہلِ خانہ کی وفات جمعہ سے جمعہ تک کے عرصے میں ہوئی
حدیث نمبر: 5266
أخبرنا إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا المُؤمَّل بن الحَسن، حدثنا الحسن بن محمد الزَّعْفراني، حدثنا ابن عُلَيّة، عن أيوب، عن حُميد بن هلال: أنَّ معاذُ بن جَبَل تَفَلَ عن يمينه، ثم قال: ما فعلتُ هذا منذ أسلمتُ وصَحِبتُ النبيَّ ﷺ (3) .
حمید بن ہلال فرماتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے سامنے کسی نے دائیں جانب تھوک پھینکا تو آپ نے فرمایا: میں جب سے مسلمان ہوا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے اس وقت سے آج تک کبھی ایسا نہیں کیا (یعنی کبھی بھی اپنے دائیں جانب نہیں تھوکا۔) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5266]
حدیث نمبر: 5267
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عثمان بن عطاء، عن أبيه: أنَّ مُعاذَ بن جَبَل قامَ في الجيش الذي كان عليه حينَ وقع الوَباءُ، فقال: يا أيها الناس، هذه رحمةُ ربِّكم، ودعوةُ نَبيِّكم، ووفاةُ (1) الصالحين قبلكم، ثم قال معاذ وهو يَخطُب: اللهمَّ أدخِلْ على آل مُعَاذٍ نَصيبَهم الأوفَى من هذه الرَّحمة، فبَيْنا هو كذلك إذ أُتي، فقيل: طُعِن ابنُك عبدُ الرحمن، فلما أن رأى أباه معاذًا قال: يقول عبد الرحمن: يا أبَهْ ﴿الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ﴾، قال: يقول معاذٌ: ﴿سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ﴾، فماتَ من الجُمعةِ إلى الجُمعةِ آلُ معاذٍ كلُّهم، ثم كان هو آخرَهم (2)
سیدنا عثمان بن عطاء اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جس لشکر میں وباء پھوٹی تھی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اس لشکر میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! یہ تمہارے رب کی رحمت ہے، تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے نیک لوگوں کی وفات ہے۔ پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ہی یہ دعا مانگی ” اے اللہ! تمام لوگوں کے حصے کی وباء بھی معاذ کی اولاد پر ڈال دے۔ ابھی وہ وہیں پر ہی تھے کہ ان کو اطلاع ملی کہ ان کا بیٹا عبدالرحمن طاعون کا شکار ہو چکا ہے، جب ان کے بیٹے نے اپنے باپ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو سیدنا عبدالرحمن نے کہا: اے میرے ابا جان! یہ حق ہے میرے رب کی طرف سے، تم شک میں پڑنے والوں میں سے نہ ہو جانا، (راوی) کہتے ہیں: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: تو مجھے صبر کرنے والوں میں سے پاؤ گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ چنانچہ صرف ایک ہی ہفتے میں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی تمام آل اولاد وفات پا گئی، یہ سب سے آخر میں فوت ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5267]