🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

375. ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَعِيدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ حِذْيَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا سعید بن عامر بن حِذیم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5334
أخبرني محمد بن يزيد العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا هِلال بن بِشْر، حدثنا أبو خلف عبد الله بن عيسى، عن يونس بن عُبيد، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسولَ الله ﷺ خَرج ذاتَ يومٍ من بيته عند الظَّهِيرة، فرأى أبا بكر جالسًا في المسجد، فقال:"ما أخرجَك يا أبا بكرٍ هذه الساعةَ؟" قال: أخرجَني الذي أخرجَك يا رسول الله، ثم جاء عمرُ، فقال:"ما أخرجك يا ابن الخَطّاب؟" فقال: الذي أخرجَكما يا رسول الله، فقَعَدَ رسولُ الله ﷺ يتحدّث معهما، ثم قال:"هل بكُما من قُوّة، فتَنطَلِقان إلى هذه النَّخْل - وأومأْ بيده إلى دُور الأنصارِ - تُصِيبان طعامًا وشرابًا وظِلًّا إن شاء الله؟" قلنا: نعم، فانطلق رسولُ الله ﷺ، وانطلَقْنا معه، وذكَرَ الحديثَ (1) . ذكرُ مناقب سعيد بن عامر بن حِذْيَم ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5252 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت گھر سے نکلے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مسجد میں بیٹھے دیکھا، فرمایا: اے ابوبکر! اتم اس وقت گھر سے کیوں نکل کر یہاں بیٹھے ہوئے ہو؟ عرض کیا یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جس وجہ سے آپ اس وقت گھر سے باہر تشریف لائے ہیں، میں بھی اسی وجہ سے باہر نکلا ہوں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: اے عمر بن خطاب! تم اس وقت کیوں گھر سے نکلے ہو؟ انہوں نے جواباً عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وجہ سے آپ نکلے ہیں، میں بھی اسی وجہ سے نکلا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ بیٹھ کر محو گفتگو ہو گئے۔ پھر انصار کی حویلیوں کی جانب اشارہ کر کے فرمایا: کیا تمہارے اندر اتنی ہمت ہے کہ اس جگہ چلے جاؤ، وہاں پر تمہیں کھانے اور پینے کی اور سائے کی کوئی جگہ میسر آ سکتی ہے۔ ہم نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل دیے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چل دیئے۔ اس کے بعد راوی نے مکمل حدیث بیان کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5334]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5335
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: سعيد بن عامر بن حِذْيَم بن سَلَامان بن ربيعة بن سعد بن جُمَحَ، وكان باهرًا، ولَّاه عمرُ بعضَ أجنادِ الشام، فمات وهو على عَمَلِه بالشام سنة عشرين (1) .
سعید بن عامر بن حذیم بن سلامان بن ربیعہ بن سعد بن جمع رضی اللہ عنہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شام کے شہر دمشق، حمص، قنسرین، اردن اور فلسطین کا گورنر بنایا تھا۔ 20 ہجری کو آپ کا انتقال شام میں ہوا اور وفات کے وقت آپ گورنر ہی تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5335]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں