🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

375. ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَعِيدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ حِذْيَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا سعید بن عامر بن حِذیم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5335
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: سعيد بن عامر بن حِذْيَم بن سَلَامان بن ربيعة بن سعد بن جُمَحَ، وكان باهرًا، ولَّاه عمرُ بعضَ أجنادِ الشام، فمات وهو على عَمَلِه بالشام سنة عشرين (1) .
مصعب بن عبداللہ زبیری کہتے ہیں کہ سعید بن عامر بن حذیم بن سلامان بن ربیعہ بن سعد بن جمح رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں شام کے بعض لشکروں کا امیر (گورنر) مقرر فرمایا تھا اور ان کی وفات وہیں سنہ 20 ہجری میں اپنے عہدے کے دوران ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5335]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5335] [ترقيم الشركة 5290]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5336
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أبو مُسلم إبراهيم بن عبد الله، حدثنا محمد بن الطَّفيل، حدثنا شَريك، عن جامع بن أبي راشد، عن زيد بن أسلم: أنَّ عُمر قال لسعيد بن عامر بن حِذْيَم: ما لأهل الشام يُحبُّونك؟ قال: أُغازِيهم وأُواسِيهم، فأعطاهُ عشرةَ آلافٍ، فردَّها، وقال: إنَّ لي أعبُدًا وأفراسًا، وأنا بخيرٍ، وأريد أن يكون عملي صدقةً على المسلمين، فقال عمر: لا تفعل، إنَّ رسولَ الله ﷺ أعطاني مالًا دُونَها، فقلتُ نحوًا ممّا قلتَ، فقال لي:"إذا أعطاكَ اللهُ مالًا لم تَسأْلهُ، ولم تَشْرَهْ نفسُك إليه، فخُذْه، فإنما هو رِزقُ اللهِ أعطاكَ إيَّاهُ" (2) . ذكرُ أنس بن مرثد بن أبي مَرثَد الغَنَوي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5254 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن عامر بن حذیم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: شام والے آپ سے اس قدر محبت کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں ان کے ساتھ مل کر جہاد کرتا ہوں اور ان کی غمخواری و برابری کرتا ہوں، تب عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دس ہزار (درہم) دیے تو انہوں نے واپس کر دیے اور کہا: میرے پاس غلام اور گھوڑے موجود ہیں اور میں اچھی حالت میں ہوں، میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں کے لیے صدقہ (محض اللہ کی خاطر) رہے، سیدنا عمر نے فرمایا: ایسا نہ کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے کم مال دیا تھا تو میں نے بھی وہی کہا تھا جو تم کہہ رہے ہو، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا: جب اللہ تمہیں ایسا مال عطا فرمائے جس کا تم نے سوال نہ کیا ہو اور نہ تمہارا نفس اس کا حریص ہو، تو اسے لے لیا کرو کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے جو اس نے تمہیں عنایت فرمایا ہے۔
انس بن مرثد بن ابی مرثد غنوی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5336]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، والمحفوظ فيه أنه عن زيد بن أسلم عن أبيه أسلم مولى عمر بن الخطاب، فهو موصول. وقد رويت قصة عمر مع النبي ﷺ من جوه عدة. شريك: هو ابن عبد الله النخعي.» [ترقيم الرساله 5336] [ترقيم الشركة 5291] [ترقيم العلميه 5254]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں