المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
380. تَقْبِيلُ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ كَشْحَ النَّبِيِّ بِالْمُطَايَبَةِ
مزاح کے طور پر سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو کو بوسہ دینا
حدیث نمبر: 5343
حدثني علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا هشام بن علي وإسحاق بن الحسن، قالا حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس، قال: كان أُسَيدُ بن حُضَير وعَبّادُ بن بِشر عند النبي ﷺ في ليلةٍ ظلماءَ حِنْدِس، فلما انصرفا أضاءت عصا أحدِهما، فمَشَيا في ضَوئها، فلمّا افتَرقا أضاءت عصا الآخَر (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5261 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5261 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک اندھیری اور تاریک رات میں سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ جب یہ لوگ اٹھ کر گئے (تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے) ان میں سے ایک کی لاٹھی چمکنے لگ گئی اور وہ دونوں اس کی روشنی میں چلتے گئے، جب وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوئے (کیونکہ وہاں سے ان کے راستے الگ الگ تھے) تو دوسرے صحابی کی لاٹھی بھی چمکنے لگ گئی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5343]
حدیث نمبر: 5344
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرُو، حدثنا عمار بن عبد الجبار، حدثنا وَرْقاءُ، عن حُصَين. وأخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المُغيرة السَّعْدي، حدثنا جَرير عن حُصَين، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبيه، قال: كان أُسَيد بن حُضَير رجلًا ضاحكًا مليحًا، فبينما هو عند رسول الله ﷺ يُحدِّث القومَ ويُضحِكُهم فطعَنَ رسولُ الله ﷺ في خاصِرَتِه، فقال: أوْجَعْتَني، قال:"اقتص" قال: يا رسول الله، إنَّ عليك قميصًا، ولم يكن عليَّ قَميصٌ، قال: فرفع رسولُ الله ﷺ قميصَه، فاحتَضَنه، ثم جعل يُقبِّل كَشْحَيهِ، فقال: بأبي أنت وأمي يا رسول الله، أردتُ هذا (1) . هذا لفظُ حديثِ جَرير عن حُصين، فإنَّ حديث ورقاء مختصرٌ. صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5262 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5262 - صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن ابی لیلی فرماتے ہیں: سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ خوش مزاج، ہنس مکھ اور نیک آدمی تھے۔ ایک دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے اور باتیں کر کر کے لوگوں کو ہنسا رہے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلو میں چوبھ ماری۔ انہوں نے کہا: (یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ نے مجھے تکلیف دی ہے۔ اس لئے آپ مجھے اس کا قصاص دیجئے۔ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے ان کو قصاص لینے کی اجازت دے دی لیکن انہوں نے کہا:) بے شک آپ کے جسم اطہر پر تو قمیص ہے جبکہ میرا جسم بغیر قمیص کے تھا۔ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص مبارک اوپر اٹھا دی، (تاکہ قصاص کے تقاضے پورے ہو جائیں) تو سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے سے چمٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلوؤں کو چومنے لگ گئے۔ اور کہنے لگے: یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم (میری کیا مجال کہ میں آپ سے قصاص کا مطالبہ کروں) میں نے تو اس مقصد کی خاطر مطالبہ قصاص کیا تھا۔ ٭٭ یہ لفظ اس حدیث کے ہیں جو جریر نے حصین سے روایت کی ہے۔ جب کہ ورقاء کی حدیث مختصر ہے۔ اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5344]