🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

383. ذِكْرُ عِيَاضِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا عیاض بن غنم اشعری رضی اللہ عنہ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5347
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحَبُوبي بمَرُو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو بن عَلقَمة، عن أبيه، عن جدَّه، عن عائشة قالت: قَدِمْنا من سفر فتُلقِّينا بذي الحُلَيفة، وكان غلمانُ الأنصارِ يَتَلقَّون بهم إذا قَدِمُوا، فَلَقُوا أُسَيدَ بن حُضَير، فنَعَوا إليه امرأتهَ، فتقنَّع يبكي، قالت: فقلتُ له: سبحانَ الله، أنتَ من أصحاب رسول الله ﷺ، ولكل السابقةُ، ما لَكَ تبكي على امرأة؟! فكَشَفَ عن رأسه، ثم قال: صدقتِ لَعَمْرُ اللَّهِ، وَاللَّهِ ليَحِقُّ أَن لا أَبكيَ على أحدٍ بعد سعدِ بن مُعاذٍ، وقد قال رسولُ الله ﷺ ما قال، قلتُ له: وما قال؟ قال:"لقد اهتزَّ العرشُ لوفاةِ سعدِ بن معاذٍ". قالت عائشةُ: وأُسَيدُ بن حُضَير يَسيرُ بيني وبين رسولِ الله ﷺ (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ذكرُ عِياض بن غَنْم الأشعَري (1) ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5265 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم سفر سے واپس لوٹے اور ذوالحلیفہ میں پہنچے (وہاں عادت یہ تھی کہ جب ہم کسی بھی سفر سے واپس آتے تو انصار کے بچے وہاں پر ان سے ملاقات کیا کرتے تھے تو حسب عادت) وہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان کی بیوی کے فوت ہونے کی اطلاع دی تو سیدنا اسید بن حضير رضی اللہ عنہ سر جھکا کر رونے لگ گئے، ام المومنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا: سبحان اللہ! آپ صحابی رسول ہیں، اور آپ کو وہ فضیلتیں حاصل ہیں جو دوسروں کو نصیب نہیں ہوئیں۔ آپ عورت پر رو رہے ہو؟ انہوں نے سر اوپر اٹھایا اور کہنے لگے: خدا کی قسم! آپ سچ کہہ رہی ہیں۔ اللہ کی قسم سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ارشاد فرمایا تھا اس کے بعد کسی اور پر رونے کا حق بھی نہیں بنتا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر عرش الہی کانپ اٹھا تھا ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان چلا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5347]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں