المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
415. عَلِيٌّ أَقْضَانَا وَأُبَيٌّ أَقْرَأُنَا
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فیصلوں میں سب سے زیادہ ماہر ہیں اور سیدنا اُبیّ رضی اللہ عنہ قراءت میں سب سے بڑھ کر ہیں
حدیث نمبر: 5411
أخبرني أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد، حدَّثنا أبو قِلابة، قال: حدثني أبي، قال: حدثني جعفر بن سُليمان، عن أبي عِمران الجَوْني، عن جُندُبٍ، قال: قدمتُ المدينة لأطلُبَ العلمَ، فدخلتُ المسجدَ، فإذا رجلٌ والناسُ مجتمعون عليه، فقلت: مَن هذا؟ قالوا: هذا أبيُّ بنُ كعب، فخرج فتَبِعتُه، فدخلَ منزلَه فضربتُ عليه البابَ، فخرجَ فَزَبَرني وكَهَرني، فاستقبلتُ القِبلةَ، فقلت: اللهمَّ إِنَّا نَشكُوهم إليك، نُنفِقُ نفَقاتِنا، ونُتعِب أبدانَنا، ونَرحَلُ مَطَايانا ابتغاءَ العلمِ، فإِذا لَقِيناهُم كَرِهُونا، فقال: لَئِن أخَّرتَني إلى يوم الجُمُعة لأتكلَّمَن بما سمعتُ من رسولِ الله ﷺ، لا أخافُ فيه لومةَ لائمٍ، فلما كان يومُ الخميس غَدَوتُ فإذا الطُّرق غاصةٌ، فقلت: ما شأن الناسِ اليومَ، قالوا: كأنك غَريبٌ، قلت: أجل، قالوا: مات سيدُ المسلمين أبيُّ بن كعب (1) .
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حصول علم کی غرض سے مدینہ منورہ آیا، جب میں مسجد نبوی شریف میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک آدمی بیٹھا ہوا ہے اور کچھ لوگ اس کے اردگرد حلقہ لگائے بیٹھے ہیں۔ میں نے لوگوں سے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔ (جب وہ مسجد سے نکل کر چلے تو) میں ان کے پیچھے ہو لیا۔ وہ اپنے گھر چلے گئے، اور ان کے اندر جانے کے بعد میں نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا، وہ باہر نکلے اور مجھ پر برس پڑے، میں نے قبلہ کی جانب رخ کر کے کہا: اے اللہ! ہم تیری بارگاہ میں ان کی شکایت کرتے ہیں، ہم نے اپنے مال خرچ کئے، ہمارے بدن تھک گئے، ہم نے حصول علم کی خاطر (سفر کر کر کے) اپنی سواریوں کو تھکا ڈالا، اور جب ان سے ہماری ملاقات ہوئی، تو انہوں نے ہمیں برا جانا۔ انہوں نے کہا: اگر تم جمعہ تک مجھے مہلت دو تو میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ایک بات سناؤں گا اور اس سلسلہ میں، میں کسی کی ملامت سے بھی نہیں گھبراؤں گا۔ پھر جب جمعرات کا دن آیا تو میں صبح سویرے ادھر روانہ ہو گیا میں نے دیکھا کہ گلیاں اور بازار لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ آج گلیوں میں کیسا ہجوم ہے؟ لوگوں نے کہا۔ لگتا ہے کہ تم یہاں کے رہنے والے نہیں ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ لوگوں نے بتایا کہ سیدالمسلمین سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5411]