🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

435. كَلِمَاتُ دُعَاءِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے دعائیہ کلمات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5470
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، قال: قُرئ على عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، وأنا أسمعُ، حدَّثنا أبو عَتاب سهْل بن حماد، حدَّثنا شعبة، عن معاوية بن قُرَّة، عن أبيه، قال: كان ابن مسعود على شجرةٍ يَجتَني لهم منها، فهبَّتِ الريحُ وكَشَفَت عن ساقيه، فقال رسول الله ﷺ:"والذي نفسي بيده، لَهُما أثقَلُ في الميزان من أُحُد" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5385 - صحيح
معاویہ بن قرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک درخت پر چڑھے ہوئے اپنے ساتھیوں کے لئے پھل توڑ رہے تھے، اس دوران ہوا چلی، جس کی وجہ سے ان کی پنڈلی ننگی ہو گئی، یہ دیکھ کر صحابہ کرام ہنس پڑے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، یہ میزان میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5470]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5471
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن سَلَمة، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن عبد الله بن يزيد الصُّهْباني، عن كُمَيل بن زياد، عن علي، قال: كنتُ مع النبيِّ ﷺ، ومعه أبو بكر ومَن شاء الله من أصحابه، فمررنا بعبد الله بن مسعود وهو يصلي، فقال النبي ﷺ:"مَن هذا"؟ فقيل: عبد الله بن مسعود فقال:"إنَّ عبد الله يقرأُ القرآنَ غَضًا كما أُنزِل". فأثنى عبدُ الله على ربِّه، وحَمِده، فأحسنَ في حَمْدِه على ربِّه، ثم سأله فأَجمَل المسألة، وسألَه كأحسنِ مَسألةٍ سألَها عبدٌ ربَّه، ثم قال: اللهم إني أسألُك إيمانًا لا يَرتدُّ، ونعيمًا لا يَنفَدُ، ومرافقة محمد ﷺ في أعلى عِلَيِّين في جنانك جنانِ الخُلْد. قال: وكان ﷺ يقول:"سَلْ تُغطّ، سَلْ تُعْطَ" مرتين، فانطلقتُ لأُبشِّره، فوجدتُ أبا بكر قد سبَقَني، وكان سباقًا بالخير (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5386 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور کچھ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ آپ کو بتایا گیا کہ یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ اسی انداز میں قرآن پڑھتا ہے جس انداز میں نازل ہوا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تعریف کی۔ اور ان کی خوب توصیف و ثناء کی، پھر ان کے لیے بہت احسن انداز میں دعا مانگی جس انداز میں ایک غلام اپنے آقا سے کوئی چیز مانگتا ہے۔ پھر کہا: اے اللہ میں تجھ سے ایسا ایمان مانگتا ہوں جس میں ارتداد نہ ہو، اور ایسی نعمتیں مانگتا ہوں جو ختم نہ ہوں۔ اور تیری جنت الفردوس کے اعلی علیین میں تیرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنگت مانگتا ہوں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کہا تم مانگو، تمہیں دیا جائے گا، تم مانگو تمہیں دیا جائے گا پھر میں ان کی خوشخبری دینے کے لئے چلا تو دیکھا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے پہلے خوشخبری دے چکے تھے، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نیکیوں میں سب سے آگے بڑھا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5471]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5472
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أبو جعفر محمد بن علي الوَرّاق حَمْدان، حدَّثنا يحيى بن يَعلَى المُحاربي، حدَّثنا زائدة، عن منصور، عن زيد بن وهب، عن عبد الله، قال: قال رسول الله ﷺ:"رَضِيتُ لأُمَّتِي مَا رَضِيَ لها ابن أمِّ عبدٍ" (1) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله عِلَّةٌ من حديث سفيان الثوريِّ وإسرائيل بن يونس عن منصور. أما حديث سفيانَ الثوريِّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5387 - مرسل
سیدنا عبدالله فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں اپنی امت کے لئے اسی چیز پر راضی ہوں جس چیز پر ام عبد کا بیٹا (یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) راضی ہے۔ ٭٭ یہ اسناد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس میں کوئی علت موجود ہے۔ انہوں نے درج ذیل اسناد کے ہمراہ حدیث نقل کی ہے۔ فَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ الْفَقِيهُ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ اور اسرائیل کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5472]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5473
فأخبرناهُ محمد بن موسى بن عِمران الفقيه، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا أبو كُريب، حدَّثنا وَكيع، عن سفيان (1) . وأما حديث إسرائيل:
ہمیں محمد بن موسیٰ بن عمران الفقیہ نے بتایا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابراہیم بن ابی طالب نے بتایا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابو کریب نے بتایا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں وکیع نے سفیان (ثوری) کے واسطے سے بتایا؛ (یہ سفیان کی روایت ہے) اور رہی اسرائیل کی حدیث (تو اس کا ذکر آگے آئے گا)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5473]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5474
فأخبرناه أبو عبد الله الصَّفّار، حدَّثنا أحمد بن مِهْران، حدَّثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيلُ، جميعًا عن منصور، عن القاسم بن عبد الرحمن أنَّ رسول الله ﷺ قال:"رَضِيتُ لأُمّتي ما رَضِيَ لها ابن أمِّ عبدٍ".
قاسم بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اپنی امت کے لئے اسی چیز پر راضی ہوں جس چیز پر ام عبد کا بیٹا راضی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5474]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں