المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
469. ضَرْبُ قُرَيْشٍ أَبَا ذَرٍّ وَاخْتِفَاؤُهُ بَيْنَ السُّتُورِ وَالْبِنَاءِ
قریش کا سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو مارنا اور ان کا پردوں اور عمارتوں کے درمیان چھپ جانا
حدیث نمبر: 5546
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القزّاز، حدثنا أبو عاصم وسعيد (1) بن عامر، قالا: حدثنا المُثنَّى بن سعيد القَصِير، حدثني أبو جَمْرة (2) ، قال: قال لنا ابن عباس: ألا أُخبرُكم بإسلام أبي ذرٍّ؟ قال: قلنا: بلى، قال: قال أبو ذرٍّ: كنتُ رجلًا من غِفارٍ، فبلغنا أنَّ رجلًا خرجَ بمكةَ يَزْعُم أَنه نَبيّ، فقلت لأخي: انطلِق إلى هذا الرجل فكلِّمه وأتني بخَبَره، فانطلَقَ فلقِيَه، ثم رجَع، فقلتُ: ما عندك؟ فقال: والله لقد رأيت رجلًا يأمر بالخير ويَنهى عن الشرِّ، قال: فقلتُ له: لم تَشْفني من الخَبَر، قال: فأخذتُ جرابًا وعصًا ثم أقبلتُ إلى مكة، فجعلتُ لا أعرفُه وأكرَهُ أن أسأل عنه، وأشربُ من ماء زَمزَم وأكونُ في المسجد، قال: فمَرَّ بي عليٌّ، فقال: كأنَّ الرجلَ غَريب؟ قلت: نعم، قال: فانطَلِق إلى المَنزل، فانطلقتُ معه لا يسألُني عن شيءٍ ولا أُخبِرُه، قال: ثم أصبحتُ غَدَوتُ إِلى المَسجِد لأسأل عنه، وليس أحدٌ يُخبرني عنه بشيءٍ، فمرَّ بي عليٌّ، فقال: أما آن للرَّجُل أن يعرف منزله بعدُ؟ قال: قلتُ: لا، قال: انطَلِق معي، فقال: ما أقدَمَك هذه البلدة؟ قلت: إِن كَتَمتَ علَيَّ أخبرتُك، قال: فإني أفعلُ، قلتُ له: بلَغَنا أنه خرج مِن هاهنا رجلٌ يَزْعُمُ أنه نَبيّ، فأرسلتُ أخي ليكلِّمه فرَجَع ولم يَشفِني من الخبر، فأردتُ أن ألقاهُ، قال: أما إنك قد رَشَدْتَ، هذا وجهي، فاتبَعني وادخُل - حيثُ أدخُل، فإني إن رأيتُ أحدًا أخافُه عليكَ، قُمتُ إلى الحائطِ كأنّي أُصلِح نَعْلي، وامْضِ أنتَ. قال: فمضى ومضيتُ معه حتى دخل ودخلتُ معه على النبي ﷺ، فقلت: يا رسول الله، اعرِضْ علَيَّ الإسلام، فعَرَضَ عَلَيَّ الإسلام، فأسلمتُ مكاني، قال: فقال لي:"يا أبا ذرٍّ، اكتُمْ هذا الأمر، وارجِع إلى بَلَدِك، فإذا بلَغَك ظهورُنا فأَقبل"، قال: فقلتُ: والذي بعثك بالحقِّ لأصرُخَنَّ بها بين أظهُرهم، فجاء إلى المَسجِد وقريشٌ فيه، فقال: يا مَعشرَ قُريشٍ، أشْهَدُ أن لا إلهَ إِلَّا اللهُ، وأشهدُ أنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، فقالوا: قُومُوا إلى هذا الصابئ، فقاموا فضُرِبتُ لأمُوتَ، فأدركني العباسُ فَأَكَبَّ علَيَّ، ثم أقبلَ عليهم، فقال: وَيلَكُم تَقتُلون رجلًا من غِفار، ومَتجَرُكُم ومَمَرُّكُم على غِفارٍ، فأقلُعوا عنّي، فلما أصبحتُ الغَدَ رجعتُ فقلتُ مثل ما قلت بالأمس، فقالوا: قُومُوا إلى هذا الصابئ، فأدركَني العباسُ، فأكبَّ عليَّ، وقال مثل مقالتِه بالأمسِ. فكان هذا أولَ إسلامِ أبي ذرٍّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. فأما الحديث المُفسَّرُ في إسلام أبي ذَرٍّ حديثُ الشاميين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5456 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. فأما الحديث المُفسَّرُ في إسلام أبي ذَرٍّ حديثُ الشاميين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5456 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
ابوحمزہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے کہا: کیا میں تمہیں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ سناؤں؟ ہم نے کہا: جی ہاں! انہوں نے کہا: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرا تعلق غفار قبیلے کے ساتھ تھا، ہمیں یہ اطلاع ملی کہ مکہ مکرمہ میں ایک آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ اس آدمی سے جا کر ملو اور اس سے بات چیت کر کے آؤ اور مجھے بتاؤ، میرا بھائی وہاں گیا اور ان سے ملاقات کی، اور واپس لوٹ کر آ گیا، میں نے اس سے پوچھا کہ تم کیا خبر لے کر آئے ہو؟ اس نے کہا: خدا کی قسم! میں نے دیکھا کہ وہ شخص نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس سے کہا: مجھے تیری دی ہوئی خبر سے صحیح طور پر تشفی نہیں ہوئی، میں نے اپنی تلوار اور عصا اٹھایا اور مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہو گیا، (جب میں مکہ مکرمہ پہنچا تو پریشانی یہ تھی کہ) میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتا بھی نہ تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کسی سے پوچھنا بھی نہیں چاہتا تھا، میں آب زم زم پی کر مسجد میں بیٹھ گیا، (سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گزر میرے پاس سے ہوا۔ انہوں نے کہا: لگتا ہے تم مسافر ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ گھر چلو، میں ان کے ساتھ ان کے گھر چلا گیا، نہ انہوں نے مجھ سے کچھ پوچھا اور نہ ہی میں نے بتایا۔ جب صبح ہوئی تو میں پھر مسجد میں آ گیا، لیکن اس دن بھی نہ میں نے کسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا اور نہ ہی کسی نے مجھے اس بارے میں بتایا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، آپ نے فرمایا: کیا تمہیں ابھی تک اپنی منزل نہیں ملی؟ میں نے کہا: نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میرے ساتھ میرے گھر چلو۔ آج سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھ لیا کہ تم کس مقصد کی خاطر اس شہر میں آئے ہو؟ میں نے کہا: اگر آپ میری بات صیغہ راز میں رکھیں تو میں آپ بتاتا ہوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ میں ان کو بتایا کہ مجھے پتا چلا ہے کہ اس شہر میں کوئی شخص ہے جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ میں اپنے بھائی کو اس معاملے کی خبر لینے بھیجا تھا، وہ آ کر واپس گیا لیکن مجھے اس کی بات سے تسلی نہیں ہوئی چنانچہ میں نے سوچا کہ مجھے خود جا کر ان سے ملاقات کرنی چاہیے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم بالکل ٹھیک جگہ پر پہنچے ہو، میں چلتا ہوں اور تم میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ، اور جس مکان میں میں داخل ہوں تم بھی اس میں داخل ہو جانا، اگر راستے میں مجھے تمہارے بارے میں کسی سے کوئی خطرہ محسوس ہوا تو میں دیوار کے ساتھ کھڑا ہو کر اپنے جوتے کا تسمہ ٹھیک کرنے لگ جاؤں گا اور تم آگے گزر جانا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ آگے آگے چلتے رہے اور میں ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا، حتی کہ آپ ایک مکان میں داخل ہو گئے اور میں بھی ان کے پیچھے اس مکان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اسلام پیش فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پر اسلام پیش فرمایا، میں نے وہیں پر ہی اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہدایت فرمائی کہ اے ابوذر رضی اللہ عنہ ابھی اپنے اسلام کو چھپائے رکھنا اور اپنے شہر کو واپس چلے جاؤ، جب تمہیں میرے غلبے کی اطلاع ملے تو چلے آنا۔ میں نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں تو ان مشرکوں کے درمیان چیخ چیخ کر بتاؤں گا۔ پھر وہ مسجد میں آ گئے، اس وقت مسجد میں قریش بھی موجود تھے، انہوں نے کہا: اے گروہ قریش ” میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ انہوں نے کہا: اس دین بدلنے والے کی جانب اٹھو، پھر وہ لوگ اٹھ کر آئے اور مجھے قتل کرنے کے لیے مارنا شروع کر دیا، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آ کر میرے اوپر جھک گئے پھر ان لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: تمہارے لیے ہلاکت ہو تم بنی غفار کے آدمی کو مار رہے ہو، حالانکہ تمہاری تمام تر تجارت انہی کے ساتھ ہے اور تمہارے تجارتی قافلوں کا گزر بھی انہیں کے قبیلہ سے ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو چھوڑ دو۔ جب اگلا دن ہوا تو میں نے پھر اسی طرح مسجد میں آ کر چیخ چیخ کر کلمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ انہوں نے پھر مجھے مارا پیٹا، پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آ کر مجھے ان سے بچایا اور پچھلے دن کی طرح ان سے کہا۔ یہ تھا واقعہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام کے پہلے دن کا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بارے میں شامیوں کی مفسر حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5546]
حدیث نمبر: 5547
أخبرناهُ أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا أحمد بن إبراهيم القُرشي بدمشق، حدثنا محمد بن عائذ الدمشقي، حدثني الوليد بن مُسلم، حدثنا أبو طَرَفة عَبّادُ بن الرَّيَّان اللَّخمي، قال: سمعتُ عُروة بن رُوَيمِ اللَّخمِي الأَشْعَرِي يقول: حدثني عامر بن لُدَين الأشْعَري - وكان مع عبد الملك بن مروان - قال: سمعتُ أبا ليلى الأشعريَّ يقولُ: حدثني أبو ذَرٍّ، قال: إنَّ أول ما دَعاني إلى الإسلام أنّا كنّا قومًا عَرَبًا فأصابتنا السَّنَةُ، فاحتملتُ أمّي وأخي - وكان اسمُه أُنيسًا - إلى أصهارٍ لنا بأعلى نَجْد، فلما حَلَلْنا بهم أكرمُونا، فلما رأى ذلك رجلٌ من الحيِّ مشَى إلى خالي، فقال: تَعلَمُ أَنَّ أُنيسًا يُخالِفُك إلى أهلِك؟ قال: فحَنِق في قلبه، فانصرفتُ في رِعْية إبلي، فوجدتُه كَئيبًا يبكي، فقلتُ: ما بُكَاكَ يا خالِ؟ فأعلَمني الخبرَ، فقلتُ: حَجَرَ (1) اللهُ من ذلك، إنَّا نخافُ الفاحشةَ، وإن كان الزمانُ قد أخلَّ بنا، ولقد كَدَّرتَ علينا صَفْوَ ما ابتدأتنا به، ولا سبيلّ إلى اجتماعٍ، فاحتملْتُ أمي وأخي حتى نَزَلْنا بحضرة مكة، فقال أخي: إني رجلٌ مُدافِعٌ على الماء بشعر، وكان رجلًا شاعرًا، فقلتُ: لا تفعل، فخرج به اللَّجَاجُ حتى دافَعَ دُرَيدَ بن الصِّمَّة صِرْمَتَهُ (2) إلى صِرْمتِه، وايمُ الله لَدُرَيدٌ يومئذٍ أشعرُ من أخي، فتقاضَيا إلى خَنْساءَ (3) ، ففضَّلَتْ أخي على دُرَيْدٍ، وذلك أنَّ دُرَيدًا خطبَها إلى أبيها، فقالت: شيخٌ كبيرٌ لا حاجةَ لي فيه، فحَقَدَت عليه، فضَمَمْنا صِرْمته إلى صِرْمَتِنا، فكانت لنا هَجْمةٌ. قال: ثم أتيتُ مكةَ، فابتدأتُ بالصَّفا، فإذا عليها رجالاتُ قُريش، وقد بلغني أنَّ بها صابئًا أو مجنُونًا أو شاعرًا أو ساحرًا، فقلت: أين هذا الذي تَزعُمُونَهُ؟ فقالوا: ها هو ذاك حيثُ تَرى، فانقَلبْتُ إليه، فوالله ما جُزْتُ عنهم قِيدَ حَجَر حتى أكَبُّوا عَلَيَّ كلَّ عَظْم وحَجَر ومَدَر، فضَرَّجُوني بدَمي، وأتيتُ البيت فدخلتُ بين السُّتور والبناء، وصُمْتُ فيه ثلاثين يومًا لا أكُلُ ولا أشربُ إلَّا من ماءِ زَمزمَ حتى كانت ليلةٌ قَمْراءُ إضْحِيانٌ أقبلتِ امرأتانِ من خُزاعةَ طافَتا بالبيت، ثم ذَكَرتا إسافًا ونائلةَ - وهما وَثَنانِ كانوا (4) يعبُدونهما - فأخرجتُ رأسي من تحت السُّتور، فقلتُ: احمِلا أحدَهما على صاحبه؟ فغَضِبَتا ثم قالتا: أمَ والله لو كانت رجالُنا حُضُورًا ما تكلَّمتَ بهذا، ثم وَلَّتا، فخرجتُ أقْفُو آثارَهُما، حتى لَقِيَتا رسول الله ﷺ، فقال:"ما أنتُما؟ ومن أين أنتُما؟ ومن أين جئتُما؟ وما جاء بِكُما؟"، فأخبرَتاهُ الخَبَر، فقال:"أين تركتُما الصابئ؟" فقالتا: تركناهُ بين السُّتور والبِناء، فقال لهما:"هل قال لكما شيئًا؟" قالتا: نعم، وأقبلتُ حتى جئتُ رسول الله ﷺ، ثم سلَّمتُ عليه عند ذلك، فقال:"مَن أنتَ؟ وممَّن أنتَ؟ ومن أين أنتَ؟ ومن أين جئتَ؟ وما جاء بك؟" فأنشأتُ أُعْلِمُه الخَبَر، فقال:"من أين كنتَ تأكُلُ وتشربُ؟" فقلتُ: من ماء زمزم، فقال:"أما إنه طعامُ طُعْم"، ومعه أبو بكرٍ فقال: يا رسول الله، ائذن لي أن أُعشِّيَه، قال:"نعم"، ثم خرجَ رسولُ الله ﷺ يمشي، وأخذ أبو بكرٍ بيدي، حتى وَقَفَ رسول الله ﷺ باب أبي بكر، ثم دخل أبو بكر بيتَه، ثم أتى بزبيبٍ من زَبيب الطائف، فجعل يُلقيه لنا، قبضًا قبضًا، ونحن نأكلُ منه حتى تملَّأنا منه. فقال لي رسول الله ﷺ:"يا أبا ذرِّ" فقلتُ: لبَّيك، فقال لي:"إنه قد رُفِعَت لي أرضٌ، وهى ذاتُ مالٍ ولا أحسَبُها إِلَّا تِهامة، فاخرُج إلى قومك فادْعُهم إلى ما دخلت فيه"، قال: فخرجتُ حتى أتيتُ أمّي وأخي، فأعلمتُهُم الخبر، فقالا: ما لنا رغبةٌ عن الدِّين الذي دخلت فيه، فأسلما، ثم خرجنا حتى أتينا المدينةَ، فأعلمتُ قومي، فقالوا: إنا قد صَدَّقناك، ولعلَّنا نلقى محمدًا، ﷺ، فلما قَدِم علينا رسولُ الله ﷺ لَقيناهُ، فقالت له غِفارٌ: يا رسول الله، إنَّ أبا ذرٍّ أعلمَنا ما أعلمتَه، وقد أسلَمْنا وشَهِدْنا أنك رسولُ الله ﷺ، ثم تَقدَّمَت أَسلَمُ خُزاعة (1) ، فقالت: يا رسول الله، إنا قد رَغِبْنا ودخَلْنا فيما دخل فيه إخوانُنا وحُلفاؤنا، فقال رسول الله ﷺ:"أسلَمُ سَالَمَها اللهُ، وغِفارُ غَفَرَ اللهُ لها"، ثم أخذ أبو بكر بيدي، فقال: يا أبا ذرّ، فقلتُ: لبَّيك يا أبا بكرٍ، فقال: هل كنتَ تَألَّهُ في جاهِليَّتك؟ قلتُ: نعم، لقد رأيتني أقومُ عند الشمس، فلا أزالُ مُصلِّيًا حتى يُؤذِيَني حَرُّها، فأخِرُّ كأَنِّي خِفَاءٌ، فقال لي: فأينَ كنتَ تَوَجَّهُ؟ قلتُ: لا أدري إلَّا حيث وجَّهَني الله، حتى أدخَلَ الله عَلَيَّ الإسلام (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5457 - إسناده صالح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5457 - إسناده صالح
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شروع شروع میں میرے اسلام کی طرف مائل ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ہم مسافر لوگ تھے ہمارے علاقے میں قحط پڑ گیا میں اپنی والدہ اور اپنے بھائی انیس کو ساتھ لے کر نجد کے بالائی علاقے میں اپنے سسرال چلا گیا، جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں ہماری بہت عزت کی اس محلے کے ایک آدمی نے مجھے دیکھا تو وہ میرے ماموں کے پاس گیا اور ان سے کہنے لگا: کیا تم جانتے ہو کہ انیس تمہارا مخالف ہے؟ (سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: ان کے دل میں میرے بارے میں رنجش سی پیدا ہو گئی، میں اونٹوں کے ریوڑ میں چلا گیا، میں ان کو شکستہ دل پریشان حال بیٹھے دیکھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اے ماموں آپ کیوں پریشان بیٹھے ہیں؟ انہوں نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ اللہ تعالیٰ بچائے، ہم گناہ سے ڈرتے ہیں۔ زمانے نے ہمیں محتاج کر دیا ہے اور ابتداء میں آپ نے جس انداز میں ہمارا خیال کیا ہے اب اس تعلق میں دراڑ پڑ چکی ہے اس بناء پر لگتا ہے کہ اب اپنا اکٹھے رہنا ممکن نہیں ہے، میں نے اپنی والدہ اور بھائی کو ساتھ لیا اور مکہ کے قریب آ کر ڈیرہ لگا لیا۔ میرا بھائی شاعر تھا اس نے کہا: میں اپنے اشعار کی بدولت پانی پر قبضہ کر سکتا ہوں، میں نے اس کو اس کام سے منع کیا لیکن وہ ضد کر کے چلا گیا اور جریج بن صمہ کے ساتھ اس کے اونٹوں کے گلہ میں جا کر مقابلہ شروع کر دیا۔ خدا کی قسم! جریج میرے بھائی سے بڑا شاعر تھا۔ یہ دونوں خنساء کے پاس آ گئے اور اشعار کا مقابلہ کیا، (خنساء ان میں منصف تھی) اس نے میرے بھائی کو فاتح قرار دیا اور یہ اس لئے کیا کہ جریج نے اس کے باپ سے اس کا رشتہ مانگا تھا لیکن اس نے آگے سے کہا: وہ بہت بوڑھا ہے مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، اس وجہ سے اس کے دل میں کینہ پیدا ہو گیا تھا، یہ شرط جیت کر ہم نے اس کا گلہ اپنے گلہ کے ساتھ ملا لیا، اس طرح ہمارے اونٹ سو سے بھی زیادہ ہو گئے۔ آپ فرماتے ہیں: پھر میں مکہ میں آ گیا، سب سے پہلے میں صفا مروہ کی سعی کرنے لگا وہاں میں نے قریش کے بہت سارے قافلے دیکھے، مجھے کسی نے بتایا کہ وہاں پر ایک صابی (اپنے دین سے برگشتہ) شخص ہے، یا مجنون یا شاعر یا جادوگر موجود ہے۔ میں نے کہا: جس شخص کے بارے میں تم یہ گمان رکھتے ہو، وہ کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ جس شخص کو تم دیکھ رہے ہو، یہی وہ ہے۔ میں پلٹ کر ان کے پاس گیا۔ خدا کی قسم! میں وہاں سے ایک پتھر کی مقدار بھی آگے نہیں بڑھا تھا کہ انہوں نے مجھ پر ہڈیوں، پتھروں اور گندگی کی بوچھاڑ کر دی۔ اور مجھے سربسر خون سے نہلا دیا۔ میں بیت اللہ میں آیا اور کعبہ کے پردوں میں چھپ گیا، میں تین دن وہاں آب زم زم کے علاوہ بغیر کچھ کھائے، پیئے روزے کی حالت میں رہا۔ ایک روشن رات میں جب چاند خوب چمک رہا تھا بنی خزاعہ کی دو عورتیں بیت اللہ شریف کا طواف کرنے آئیں، انہوں نے اساف اور نائلہ دو بتوں کا ذکر کیا یہ لوگ ان کی عبادت کیا کرتے تھے۔ میں نے پردوں سے اپنا سر باہر نکالا اور کہا: تم میں سے ایک، دوسری پر چڑھ جاؤ، یہ بات سن کر وہ شدید غضبناک ہو گئیں اور کہنے لگیں: اللہ کی قسم! اگر آج ہمارے ساتھ ہمارے مرد ہوتے تو تم یہ بات نہ کہہ سکتے، پھر وہ چلی گئیں۔ میں ان کے پیچھے پیچھے چل دیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ کس قبیلے سے تعلق رکھتی ہو؟ کہاں سے آئی ہو؟ اور تمہیں کیا کام کام ہے؟ انہوں نے سارا قصہ کہہ سنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے اس صابی کو کہاں چھوڑا ہے؟ انہوں نے کہا: کعبہ کی عمارت اور پردوں کے درمیان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا اس نے تم سے بھی کچھ کہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہو گیا اور آپ کو سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کون ہو؟ کس قبیلے سے تعلق ہے؟ کہاں سے آئے ہو؟ اور کس لئے آئے ہو؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا ماجرا کہہ سنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا: اتنے دن تم کہاں سے کھاتے پیتے رہے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف آب زم زم پر گزارا کرتا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، آب زم زم کھایا جانے والا طعام ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے میں ان کے لیے کھانے کا انتظام کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے پیدل چل نکلے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ تھام لیا اور چلتے چلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر جا کر رکے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر گئے اور طائف کا درآمد شدہ منقع لے کر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک مٹھی بھر کر ہمیں دیتے رہے اور ہم کھاتے رہے۔ حتی کہ ہمارا پیٹ بھر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی، میں نے لبیک کہا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک زمین میرے لئے بلند کی گئی ہے یہ مال و دولت سے بھری ہوئی ہے، میرا خیال ہے کہ یہ سرزمین مکہ ہے، اس لئے تم اپنے گھر والوں کے پاس چلے جاؤ اور جو دین تو نے اختیار کیا ہے ان کو بھی اس کی دعوت دو، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں وہاں سے نکلا اور اپنی والدہ اور بھائی کے پاس آیا اور ان کو ساری کہانی سنائی، انہوں نے کہا: تم جس دین میں داخل ہوئے ہو ہمیں اس دین سے کوئی نفرت نہیں ہے۔ چنانچہ ان دونوں نے بھی اسلام قبول کر لیا، پھر ہم لوگ وہاں سے نکلے اور مدینہ منورہ میں آ گئے، یہاں آ کر ہم نے اپنی قوم کو ساری بات بتائی، انہوں نے کہا: ہم تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ سعادت ہمیں بھی نصیب ہو جائے اور ہم بھی بارگاہ مصطفی میں حاضر ہو جائیں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ شریف تشریف لائے، تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، قبیلہ غفار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوذر رضی اللہ عنہ نے ہمیں وہ سب کچھ بتا دیا تھا جو آپ نے بتایا ہے، اور ہم سب مسلمان ہو چکے ہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ پھر قبیلہ اسلم اور خزاعہ کے لوگ بھی حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم بھی مسلمان ہیں اور اسی دین میں داخل ہیں جس میں ہمارے دوسرے بھائی اور ہمارے حلیف داخل ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے بارے میں کہا: اسلم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے، اور غفار کے بارے میں فرمایا: غفار کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آواز دی تو میں نے لبیک کہا۔ آپ نے کہا: کیا تم جاہلیت کے دور میں بھی عبادت کیا کرتے تھے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ میں سورج کے سامنے کھڑا ہو کر عبادت شروع کر دیتا تھا اور میں اس وقت تک عبادت میں مصروف رہتا تھا جب تک دھوپ کی شدت کی وجہ سے میرے پاؤں جلنے نہ لگ جاتے۔ پھر میں سجدے میں گر جاتا۔ انہوں نے مجھ سے کہا: تم اسلام کی جانب کس طرح مائل ہوئے؟ میں نے کہا: یہ مجھے نہیں پتا بس جدھر اللہ تعالیٰ نے مجھے متوجہ کیا میں ادھر ہی ہو گیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نعمت اسلام سے نواز دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5547]
حدیث نمبر: 5548
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عيسى اللَّخْمي بتِنِّيسَ، حدثنا عمرو بن أبي سَلَمة، حدثنا صَدَقة بن عبد الله، عن نَصْر بن عن عَلْقمة، عن أخيه، عن ابن عائذٍ، عن جُبير بن نُفَير، قال: كان أبو ذرٍّ يقول: لقد رأيتُني رُبعَ الإسلامِ، لم يُسلِمُ قَبلي إلَّا النبيُّ ﷺ وأبو بكر وبلالٌ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5458 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5458 - صحيح
سیدنا جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے، میں اپنے آپ کو چوتھے نمبر پر اسلام لانے والا سمجھتا ہوں کیونکہ مجھ سے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اسلام لائے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5548]