🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
469. ضرب قريش أبا ذر واختفاؤه بين الستور والبناء
قریش کا سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو مارنا اور ان کا پردوں اور عمارتوں کے درمیان چھپ جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5546
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القزّاز، حدثنا أبو عاصم وسعيد (1) بن عامر، قالا: حدثنا المُثنَّى بن سعيد القَصِير، حدثني أبو جَمْرة (2) ، قال: قال لنا ابن عباس: ألا أُخبرُكم بإسلام أبي ذرٍّ؟ قال: قلنا: بلى، قال: قال أبو ذرٍّ: كنتُ رجلًا من غِفارٍ، فبلغنا أنَّ رجلًا خرجَ بمكةَ يَزْعُم أَنه نَبيّ، فقلت لأخي: انطلِق إلى هذا الرجل فكلِّمه وأتني بخَبَره، فانطلَقَ فلقِيَه، ثم رجَع، فقلتُ: ما عندك؟ فقال: والله لقد رأيت رجلًا يأمر بالخير ويَنهى عن الشرِّ، قال: فقلتُ له: لم تَشْفني من الخَبَر، قال: فأخذتُ جرابًا وعصًا ثم أقبلتُ إلى مكة، فجعلتُ لا أعرفُه وأكرَهُ أن أسأل عنه، وأشربُ من ماء زَمزَم وأكونُ في المسجد، قال: فمَرَّ بي عليٌّ، فقال: كأنَّ الرجلَ غَريب؟ قلت: نعم، قال: فانطَلِق إلى المَنزل، فانطلقتُ معه لا يسألُني عن شيءٍ ولا أُخبِرُه، قال: ثم أصبحتُ غَدَوتُ إِلى المَسجِد لأسأل عنه، وليس أحدٌ يُخبرني عنه بشيءٍ، فمرَّ بي عليٌّ، فقال: أما آن للرَّجُل أن يعرف منزله بعدُ؟ قال: قلتُ: لا، قال: انطَلِق معي، فقال: ما أقدَمَك هذه البلدة؟ قلت: إِن كَتَمتَ علَيَّ أخبرتُك، قال: فإني أفعلُ، قلتُ له: بلَغَنا أنه خرج مِن هاهنا رجلٌ يَزْعُمُ أنه نَبيّ، فأرسلتُ أخي ليكلِّمه فرَجَع ولم يَشفِني من الخبر، فأردتُ أن ألقاهُ، قال: أما إنك قد رَشَدْتَ، هذا وجهي، فاتبَعني وادخُل - حيثُ أدخُل، فإني إن رأيتُ أحدًا أخافُه عليكَ، قُمتُ إلى الحائطِ كأنّي أُصلِح نَعْلي، وامْضِ أنتَ. قال: فمضى ومضيتُ معه حتى دخل ودخلتُ معه على النبي ﷺ، فقلت: يا رسول الله، اعرِضْ علَيَّ الإسلام، فعَرَضَ عَلَيَّ الإسلام، فأسلمتُ مكاني، قال: فقال لي:"يا أبا ذرٍّ، اكتُمْ هذا الأمر، وارجِع إلى بَلَدِك، فإذا بلَغَك ظهورُنا فأَقبل"، قال: فقلتُ: والذي بعثك بالحقِّ لأصرُخَنَّ بها بين أظهُرهم، فجاء إلى المَسجِد وقريشٌ فيه، فقال: يا مَعشرَ قُريشٍ، أشْهَدُ أن لا إلهَ إِلَّا اللهُ، وأشهدُ أنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، فقالوا: قُومُوا إلى هذا الصابئ، فقاموا فضُرِبتُ لأمُوتَ، فأدركني العباسُ فَأَكَبَّ علَيَّ، ثم أقبلَ عليهم، فقال: وَيلَكُم تَقتُلون رجلًا من غِفار، ومَتجَرُكُم ومَمَرُّكُم على غِفارٍ، فأقلُعوا عنّي، فلما أصبحتُ الغَدَ رجعتُ فقلتُ مثل ما قلت بالأمس، فقالوا: قُومُوا إلى هذا الصابئ، فأدركَني العباسُ، فأكبَّ عليَّ، وقال مثل مقالتِه بالأمسِ. فكان هذا أولَ إسلامِ أبي ذرٍّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. فأما الحديث المُفسَّرُ في إسلام أبي ذَرٍّ حديثُ الشاميين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5456 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
ابوحمزہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے کہا: کیا میں تمہیں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ سناؤں؟ ہم نے کہا: جی ہاں! انہوں نے کہا: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرا تعلق غفار قبیلے کے ساتھ تھا، ہمیں یہ اطلاع ملی کہ مکہ مکرمہ میں ایک آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ اس آدمی سے جا کر ملو اور اس سے بات چیت کر کے آؤ اور مجھے بتاؤ، میرا بھائی وہاں گیا اور ان سے ملاقات کی، اور واپس لوٹ کر آ گیا، میں نے اس سے پوچھا کہ تم کیا خبر لے کر آئے ہو؟ اس نے کہا: خدا کی قسم! میں نے دیکھا کہ وہ شخص نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس سے کہا: مجھے تیری دی ہوئی خبر سے صحیح طور پر تشفی نہیں ہوئی، میں نے اپنی تلوار اور عصا اٹھایا اور مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہو گیا، (جب میں مکہ مکرمہ پہنچا تو پریشانی یہ تھی کہ) میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتا بھی نہ تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کسی سے پوچھنا بھی نہیں چاہتا تھا، میں آب زم زم پی کر مسجد میں بیٹھ گیا، (سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گزر میرے پاس سے ہوا۔ انہوں نے کہا: لگتا ہے تم مسافر ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ گھر چلو، میں ان کے ساتھ ان کے گھر چلا گیا، نہ انہوں نے مجھ سے کچھ پوچھا اور نہ ہی میں نے بتایا۔ جب صبح ہوئی تو میں پھر مسجد میں آ گیا، لیکن اس دن بھی نہ میں نے کسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا اور نہ ہی کسی نے مجھے اس بارے میں بتایا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، آپ نے فرمایا: کیا تمہیں ابھی تک اپنی منزل نہیں ملی؟ میں نے کہا: نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میرے ساتھ میرے گھر چلو۔ آج سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھ لیا کہ تم کس مقصد کی خاطر اس شہر میں آئے ہو؟ میں نے کہا: اگر آپ میری بات صیغہ راز میں رکھیں تو میں آپ بتاتا ہوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ میں ان کو بتایا کہ مجھے پتا چلا ہے کہ اس شہر میں کوئی شخص ہے جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ میں اپنے بھائی کو اس معاملے کی خبر لینے بھیجا تھا، وہ آ کر واپس گیا لیکن مجھے اس کی بات سے تسلی نہیں ہوئی چنانچہ میں نے سوچا کہ مجھے خود جا کر ان سے ملاقات کرنی چاہیے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم بالکل ٹھیک جگہ پر پہنچے ہو، میں چلتا ہوں اور تم میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ، اور جس مکان میں میں داخل ہوں تم بھی اس میں داخل ہو جانا، اگر راستے میں مجھے تمہارے بارے میں کسی سے کوئی خطرہ محسوس ہوا تو میں دیوار کے ساتھ کھڑا ہو کر اپنے جوتے کا تسمہ ٹھیک کرنے لگ جاؤں گا اور تم آگے گزر جانا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ آگے آگے چلتے رہے اور میں ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا، حتی کہ آپ ایک مکان میں داخل ہو گئے اور میں بھی ان کے پیچھے اس مکان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اسلام پیش فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پر اسلام پیش فرمایا، میں نے وہیں پر ہی اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہدایت فرمائی کہ اے ابوذر رضی اللہ عنہ ابھی اپنے اسلام کو چھپائے رکھنا اور اپنے شہر کو واپس چلے جاؤ، جب تمہیں میرے غلبے کی اطلاع ملے تو چلے آنا۔ میں نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں تو ان مشرکوں کے درمیان چیخ چیخ کر بتاؤں گا۔ پھر وہ مسجد میں آ گئے، اس وقت مسجد میں قریش بھی موجود تھے، انہوں نے کہا: اے گروہ قریش میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ انہوں نے کہا: اس دین بدلنے والے کی جانب اٹھو، پھر وہ لوگ اٹھ کر آئے اور مجھے قتل کرنے کے لیے مارنا شروع کر دیا، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آ کر میرے اوپر جھک گئے پھر ان لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: تمہارے لیے ہلاکت ہو تم بنی غفار کے آدمی کو مار رہے ہو، حالانکہ تمہاری تمام تر تجارت انہی کے ساتھ ہے اور تمہارے تجارتی قافلوں کا گزر بھی انہیں کے قبیلہ سے ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو چھوڑ دو۔ جب اگلا دن ہوا تو میں نے پھر اسی طرح مسجد میں آ کر چیخ چیخ کر کلمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ انہوں نے پھر مجھے مارا پیٹا، پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آ کر مجھے ان سے بچایا اور پچھلے دن کی طرح ان سے کہا۔ یہ تھا واقعہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام کے پہلے دن کا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بارے میں شامیوں کی مفسر حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5546]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5546 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، ومحمد بن سنان القَزّاز متابع. أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النَّبيل.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے، اور محمد بن سنان قزاز کی متابعت موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو عاصم: یہ ضحاک بن مخلد نبیل ہیں۔
وأخرجه البخاري (3861)، ومسلم (2474) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، والبخاري (3522) من طريق أبي قُتيبة سَلْم بن قُتيبة، كلاهما عن المثنى بن سعيد، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (3861) اور مسلم (2474) نے عبدالرحمن بن مہدی کے طریق سے، اور بخاری (3522) نے ابو قتیبہ سلم بن قتیبہ کے طریق سے؛ دونوں نے مثنیٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اسے (مستدرک میں لانا) ان کا وہم/ذہول ہے۔
وستأتي قصة إسلام أبي ذر بعده من وجه آخر بسياقة أخرى.
📝 نوٹ / توضیح: ابو ذر کے اسلام لانے کا قصہ اس کے بعد ایک دوسرے طریق اور مختلف سیاق کے ساتھ آئے گا۔
(1) في (ب): حجز، بالزاي، وأُهملت في بقية نسخنا الخطية، ولهذا أثبتناها بالراء المهملة، إذ لو كانت بالزاي لأُعجمت لضرورة بيانها، وكلاهما قريبٌ في المعنى.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) نسخہ (ب) میں "حجز" (زاء کے ساتھ) ہے، اور باقی نسخوں میں بغیر نقطوں کے ہے۔ اس لیے ہم نے اسے "حجر" (راء مہملہ کے ساتھ) ثابت کیا ہے، کیونکہ اگر یہ زاء ہوتی تو وضاحت کے لیے نقطہ ضرور لگایا جاتا۔ اور دونوں معنی میں قریب ہیں۔
(2) الصِّرمة: القطعة القليلة من الإبل.
📝 نوٹ / توضیح: "الصِّرْمَة": اونٹوں کا چھوٹا ریوڑ/ٹکڑا۔
(3) تحرَّف في (ز) و (ب) و"تلخيص الذهبي" إلى: خباء، والمثبت على الصواب من هامش (ز) مُصحَّحًا عليه، وسقط الاسم من (ص) و (م)، فصار كأنَّ القاضي بين دريد وأُنيس هو أبو ذرّ نفسُه، وإنما الصحيح أنها الخنساء، فهي المقصودة بقوله بعد قليل: وذلك أنَّ دريدًا خطبها إلى أبيها .. وقصتُها في ذلك مشهورة عند أهل الأدب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (3) نسخہ (ز)، (ب) اور ذہبی کی "تلخیص" میں یہ تحریف ہو کر "خباء" ہو گیا ہے۔ درست متن نسخہ (ز) کے حاشیہ سے ثابت کیا گیا ہے جہاں اس کی تصحیح موجود ہے۔ (ص) اور (م) سے یہ نام گر گیا ہے، جس سے ایسا لگتا ہے کہ درید اور انیس کے درمیان فیصلہ کرنے والے خود ابو ذر تھے۔ حالانکہ صحیح یہ ہے کہ وہ "خنساء" تھیں، کیونکہ تھوڑی دیر بعد آنے والے قول میں وہی مراد ہیں: "اور وہ یہ کہ درید نے اس کے باپ کو اس (خنساء) کے رشتے کا پیغام بھیجا..."۔ اہل ادب کے ہاں ان کا یہ قصہ مشہور ہے۔
(4) في نسخنا الخطية: كان والجادة ما أثبتنا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (4) ہمارے نسخوں میں "کان" ہے، اور درست قاعدہ (الجادہ) وہ ہے جو ہم نے ثابت کیا ہے۔
(1) وقع في نسخنا الخطية: أسلم وخزاعة، بواو العطف، وإنما أراد الإضافة لا العطف، يعني أسلم الذين هم إخوة خُزاعة، دون غيرهم. وانظر "معرفة علوم الحديث" للحاكم ص 167 حيث ذكر أسلم خزاعة وأسلم بني جُمح، مُفرِّقًا بينهما في مؤتلف ومختلف الأنساب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) ہمارے قلمی نسخوں میں "اسلم اور خزاعہ" واؤ عاطفہ کے ساتھ آیا ہے، حالانکہ مراد "اضافت" ہے نہ کہ "عطف"، یعنی اسلم وہ جو خزاعہ کے بھائی ہیں، دوسروں کے علاوہ۔ ملاحظہ کریں حاکم کی "معرفۃ علوم الحدیث" (ص 167) جہاں انہوں نے "اسلمِ خزاعہ" اور "اسلمِ بنی جمح" کا ذکر کیا ہے، ان دونوں کے درمیان "مؤتلف اور مختلف الأنساب" کے باب میں فرق کرتے ہوئے۔