🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
469. ضرب قريش أبا ذر واختفاؤه بين الستور والبناء
قریش کا سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو مارنا اور ان کا پردوں اور عمارتوں کے درمیان چھپ جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5547
أخبرناهُ أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا أحمد بن إبراهيم القُرشي بدمشق، حدثنا محمد بن عائذ الدمشقي، حدثني الوليد بن مُسلم، حدثنا أبو طَرَفة عَبّادُ بن الرَّيَّان اللَّخمي، قال: سمعتُ عُروة بن رُوَيمِ اللَّخمِي الأَشْعَرِي يقول: حدثني عامر بن لُدَين الأشْعَري - وكان مع عبد الملك بن مروان - قال: سمعتُ أبا ليلى الأشعريَّ يقولُ: حدثني أبو ذَرٍّ، قال: إنَّ أول ما دَعاني إلى الإسلام أنّا كنّا قومًا عَرَبًا فأصابتنا السَّنَةُ، فاحتملتُ أمّي وأخي - وكان اسمُه أُنيسًا - إلى أصهارٍ لنا بأعلى نَجْد، فلما حَلَلْنا بهم أكرمُونا، فلما رأى ذلك رجلٌ من الحيِّ مشَى إلى خالي، فقال: تَعلَمُ أَنَّ أُنيسًا يُخالِفُك إلى أهلِك؟ قال: فحَنِق في قلبه، فانصرفتُ في رِعْية إبلي، فوجدتُه كَئيبًا يبكي، فقلتُ: ما بُكَاكَ يا خالِ؟ فأعلَمني الخبرَ، فقلتُ: حَجَرَ (1) اللهُ من ذلك، إنَّا نخافُ الفاحشةَ، وإن كان الزمانُ قد أخلَّ بنا، ولقد كَدَّرتَ علينا صَفْوَ ما ابتدأتنا به، ولا سبيلّ إلى اجتماعٍ، فاحتملْتُ أمي وأخي حتى نَزَلْنا بحضرة مكة، فقال أخي: إني رجلٌ مُدافِعٌ على الماء بشعر، وكان رجلًا شاعرًا، فقلتُ: لا تفعل، فخرج به اللَّجَاجُ حتى دافَعَ دُرَيدَ بن الصِّمَّة صِرْمَتَهُ (2) إلى صِرْمتِه، وايمُ الله لَدُرَيدٌ يومئذٍ أشعرُ من أخي، فتقاضَيا إلى خَنْساءَ (3) ، ففضَّلَتْ أخي على دُرَيْدٍ، وذلك أنَّ دُرَيدًا خطبَها إلى أبيها، فقالت: شيخٌ كبيرٌ لا حاجةَ لي فيه، فحَقَدَت عليه، فضَمَمْنا صِرْمته إلى صِرْمَتِنا، فكانت لنا هَجْمةٌ. قال: ثم أتيتُ مكةَ، فابتدأتُ بالصَّفا، فإذا عليها رجالاتُ قُريش، وقد بلغني أنَّ بها صابئًا أو مجنُونًا أو شاعرًا أو ساحرًا، فقلت: أين هذا الذي تَزعُمُونَهُ؟ فقالوا: ها هو ذاك حيثُ تَرى، فانقَلبْتُ إليه، فوالله ما جُزْتُ عنهم قِيدَ حَجَر حتى أكَبُّوا عَلَيَّ كلَّ عَظْم وحَجَر ومَدَر، فضَرَّجُوني بدَمي، وأتيتُ البيت فدخلتُ بين السُّتور والبناء، وصُمْتُ فيه ثلاثين يومًا لا أكُلُ ولا أشربُ إلَّا من ماءِ زَمزمَ حتى كانت ليلةٌ قَمْراءُ إضْحِيانٌ أقبلتِ امرأتانِ من خُزاعةَ طافَتا بالبيت، ثم ذَكَرتا إسافًا ونائلةَ - وهما وَثَنانِ كانوا (4) يعبُدونهما - فأخرجتُ رأسي من تحت السُّتور، فقلتُ: احمِلا أحدَهما على صاحبه؟ فغَضِبَتا ثم قالتا: أمَ والله لو كانت رجالُنا حُضُورًا ما تكلَّمتَ بهذا، ثم وَلَّتا، فخرجتُ أقْفُو آثارَهُما، حتى لَقِيَتا رسول الله ﷺ، فقال:"ما أنتُما؟ ومن أين أنتُما؟ ومن أين جئتُما؟ وما جاء بِكُما؟"، فأخبرَتاهُ الخَبَر، فقال:"أين تركتُما الصابئ؟" فقالتا: تركناهُ بين السُّتور والبِناء، فقال لهما:"هل قال لكما شيئًا؟" قالتا: نعم، وأقبلتُ حتى جئتُ رسول الله ﷺ، ثم سلَّمتُ عليه عند ذلك، فقال:"مَن أنتَ؟ وممَّن أنتَ؟ ومن أين أنتَ؟ ومن أين جئتَ؟ وما جاء بك؟" فأنشأتُ أُعْلِمُه الخَبَر، فقال:"من أين كنتَ تأكُلُ وتشربُ؟" فقلتُ: من ماء زمزم، فقال:"أما إنه طعامُ طُعْم"، ومعه أبو بكرٍ فقال: يا رسول الله، ائذن لي أن أُعشِّيَه، قال:"نعم"، ثم خرجَ رسولُ الله ﷺ يمشي، وأخذ أبو بكرٍ بيدي، حتى وَقَفَ رسول الله ﷺ باب أبي بكر، ثم دخل أبو بكر بيتَه، ثم أتى بزبيبٍ من زَبيب الطائف، فجعل يُلقيه لنا، قبضًا قبضًا، ونحن نأكلُ منه حتى تملَّأنا منه. فقال لي رسول الله ﷺ:"يا أبا ذرِّ" فقلتُ: لبَّيك، فقال لي:"إنه قد رُفِعَت لي أرضٌ، وهى ذاتُ مالٍ ولا أحسَبُها إِلَّا تِهامة، فاخرُج إلى قومك فادْعُهم إلى ما دخلت فيه"، قال: فخرجتُ حتى أتيتُ أمّي وأخي، فأعلمتُهُم الخبر، فقالا: ما لنا رغبةٌ عن الدِّين الذي دخلت فيه، فأسلما، ثم خرجنا حتى أتينا المدينةَ، فأعلمتُ قومي، فقالوا: إنا قد صَدَّقناك، ولعلَّنا نلقى محمدًا، ﷺ، فلما قَدِم علينا رسولُ الله ﷺ لَقيناهُ، فقالت له غِفارٌ: يا رسول الله، إنَّ أبا ذرٍّ أعلمَنا ما أعلمتَه، وقد أسلَمْنا وشَهِدْنا أنك رسولُ الله ﷺ، ثم تَقدَّمَت أَسلَمُ خُزاعة (1) ، فقالت: يا رسول الله، إنا قد رَغِبْنا ودخَلْنا فيما دخل فيه إخوانُنا وحُلفاؤنا، فقال رسول الله ﷺ:"أسلَمُ سَالَمَها اللهُ، وغِفارُ غَفَرَ اللهُ لها"، ثم أخذ أبو بكر بيدي، فقال: يا أبا ذرّ، فقلتُ: لبَّيك يا أبا بكرٍ، فقال: هل كنتَ تَألَّهُ في جاهِليَّتك؟ قلتُ: نعم، لقد رأيتني أقومُ عند الشمس، فلا أزالُ مُصلِّيًا حتى يُؤذِيَني حَرُّها، فأخِرُّ كأَنِّي خِفَاءٌ، فقال لي: فأينَ كنتَ تَوَجَّهُ؟ قلتُ: لا أدري إلَّا حيث وجَّهَني الله، حتى أدخَلَ الله عَلَيَّ الإسلام (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5457 - إسناده صالح
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شروع شروع میں میرے اسلام کی طرف مائل ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ہم مسافر لوگ تھے ہمارے علاقے میں قحط پڑ گیا میں اپنی والدہ اور اپنے بھائی انیس کو ساتھ لے کر نجد کے بالائی علاقے میں اپنے سسرال چلا گیا، جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں ہماری بہت عزت کی اس محلے کے ایک آدمی نے مجھے دیکھا تو وہ میرے ماموں کے پاس گیا اور ان سے کہنے لگا: کیا تم جانتے ہو کہ انیس تمہارا مخالف ہے؟ (سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: ان کے دل میں میرے بارے میں رنجش سی پیدا ہو گئی، میں اونٹوں کے ریوڑ میں چلا گیا، میں ان کو شکستہ دل پریشان حال بیٹھے دیکھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اے ماموں آپ کیوں پریشان بیٹھے ہیں؟ انہوں نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ اللہ تعالیٰ بچائے، ہم گناہ سے ڈرتے ہیں۔ زمانے نے ہمیں محتاج کر دیا ہے اور ابتداء میں آپ نے جس انداز میں ہمارا خیال کیا ہے اب اس تعلق میں دراڑ پڑ چکی ہے اس بناء پر لگتا ہے کہ اب اپنا اکٹھے رہنا ممکن نہیں ہے، میں نے اپنی والدہ اور بھائی کو ساتھ لیا اور مکہ کے قریب آ کر ڈیرہ لگا لیا۔ میرا بھائی شاعر تھا اس نے کہا: میں اپنے اشعار کی بدولت پانی پر قبضہ کر سکتا ہوں، میں نے اس کو اس کام سے منع کیا لیکن وہ ضد کر کے چلا گیا اور جریج بن صمہ کے ساتھ اس کے اونٹوں کے گلہ میں جا کر مقابلہ شروع کر دیا۔ خدا کی قسم! جریج میرے بھائی سے بڑا شاعر تھا۔ یہ دونوں خنساء کے پاس آ گئے اور اشعار کا مقابلہ کیا، (خنساء ان میں منصف تھی) اس نے میرے بھائی کو فاتح قرار دیا اور یہ اس لئے کیا کہ جریج نے اس کے باپ سے اس کا رشتہ مانگا تھا لیکن اس نے آگے سے کہا: وہ بہت بوڑھا ہے مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، اس وجہ سے اس کے دل میں کینہ پیدا ہو گیا تھا، یہ شرط جیت کر ہم نے اس کا گلہ اپنے گلہ کے ساتھ ملا لیا، اس طرح ہمارے اونٹ سو سے بھی زیادہ ہو گئے۔ آپ فرماتے ہیں: پھر میں مکہ میں آ گیا، سب سے پہلے میں صفا مروہ کی سعی کرنے لگا وہاں میں نے قریش کے بہت سارے قافلے دیکھے، مجھے کسی نے بتایا کہ وہاں پر ایک صابی (اپنے دین سے برگشتہ) شخص ہے، یا مجنون یا شاعر یا جادوگر موجود ہے۔ میں نے کہا: جس شخص کے بارے میں تم یہ گمان رکھتے ہو، وہ کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ جس شخص کو تم دیکھ رہے ہو، یہی وہ ہے۔ میں پلٹ کر ان کے پاس گیا۔ خدا کی قسم! میں وہاں سے ایک پتھر کی مقدار بھی آگے نہیں بڑھا تھا کہ انہوں نے مجھ پر ہڈیوں، پتھروں اور گندگی کی بوچھاڑ کر دی۔ اور مجھے سربسر خون سے نہلا دیا۔ میں بیت اللہ میں آیا اور کعبہ کے پردوں میں چھپ گیا، میں تین دن وہاں آب زم زم کے علاوہ بغیر کچھ کھائے، پیئے روزے کی حالت میں رہا۔ ایک روشن رات میں جب چاند خوب چمک رہا تھا بنی خزاعہ کی دو عورتیں بیت اللہ شریف کا طواف کرنے آئیں، انہوں نے اساف اور نائلہ دو بتوں کا ذکر کیا یہ لوگ ان کی عبادت کیا کرتے تھے۔ میں نے پردوں سے اپنا سر باہر نکالا اور کہا: تم میں سے ایک، دوسری پر چڑھ جاؤ، یہ بات سن کر وہ شدید غضبناک ہو گئیں اور کہنے لگیں: اللہ کی قسم! اگر آج ہمارے ساتھ ہمارے مرد ہوتے تو تم یہ بات نہ کہہ سکتے، پھر وہ چلی گئیں۔ میں ان کے پیچھے پیچھے چل دیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ کس قبیلے سے تعلق رکھتی ہو؟ کہاں سے آئی ہو؟ اور تمہیں کیا کام کام ہے؟ انہوں نے سارا قصہ کہہ سنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے اس صابی کو کہاں چھوڑا ہے؟ انہوں نے کہا: کعبہ کی عمارت اور پردوں کے درمیان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا اس نے تم سے بھی کچھ کہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہو گیا اور آپ کو سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کون ہو؟ کس قبیلے سے تعلق ہے؟ کہاں سے آئے ہو؟ اور کس لئے آئے ہو؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا ماجرا کہہ سنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا: اتنے دن تم کہاں سے کھاتے پیتے رہے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف آب زم زم پر گزارا کرتا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، آب زم زم کھایا جانے والا طعام ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے میں ان کے لیے کھانے کا انتظام کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے پیدل چل نکلے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ تھام لیا اور چلتے چلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر جا کر رکے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر گئے اور طائف کا درآمد شدہ منقع لے کر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک مٹھی بھر کر ہمیں دیتے رہے اور ہم کھاتے رہے۔ حتی کہ ہمارا پیٹ بھر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی، میں نے لبیک کہا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک زمین میرے لئے بلند کی گئی ہے یہ مال و دولت سے بھری ہوئی ہے، میرا خیال ہے کہ یہ سرزمین مکہ ہے، اس لئے تم اپنے گھر والوں کے پاس چلے جاؤ اور جو دین تو نے اختیار کیا ہے ان کو بھی اس کی دعوت دو، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں وہاں سے نکلا اور اپنی والدہ اور بھائی کے پاس آیا اور ان کو ساری کہانی سنائی، انہوں نے کہا: تم جس دین میں داخل ہوئے ہو ہمیں اس دین سے کوئی نفرت نہیں ہے۔ چنانچہ ان دونوں نے بھی اسلام قبول کر لیا، پھر ہم لوگ وہاں سے نکلے اور مدینہ منورہ میں آ گئے، یہاں آ کر ہم نے اپنی قوم کو ساری بات بتائی، انہوں نے کہا: ہم تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ سعادت ہمیں بھی نصیب ہو جائے اور ہم بھی بارگاہ مصطفی میں حاضر ہو جائیں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ شریف تشریف لائے، تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، قبیلہ غفار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوذر رضی اللہ عنہ نے ہمیں وہ سب کچھ بتا دیا تھا جو آپ نے بتایا ہے، اور ہم سب مسلمان ہو چکے ہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ پھر قبیلہ اسلم اور خزاعہ کے لوگ بھی حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم بھی مسلمان ہیں اور اسی دین میں داخل ہیں جس میں ہمارے دوسرے بھائی اور ہمارے حلیف داخل ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے بارے میں کہا: اسلم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے، اور غفار کے بارے میں فرمایا: غفار کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آواز دی تو میں نے لبیک کہا۔ آپ نے کہا: کیا تم جاہلیت کے دور میں بھی عبادت کیا کرتے تھے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ میں سورج کے سامنے کھڑا ہو کر عبادت شروع کر دیتا تھا اور میں اس وقت تک عبادت میں مصروف رہتا تھا جب تک دھوپ کی شدت کی وجہ سے میرے پاؤں جلنے نہ لگ جاتے۔ پھر میں سجدے میں گر جاتا۔ انہوں نے مجھ سے کہا: تم اسلام کی جانب کس طرح مائل ہوئے؟ میں نے کہا: یہ مجھے نہیں پتا بس جدھر اللہ تعالیٰ نے مجھے متوجہ کیا میں ادھر ہی ہو گیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نعمت اسلام سے نواز دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5547]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5547 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صالح كما قال الذهبي في "تلخيصه"، فإنَّ أبا طرفة عبّاد بن الريّان صالح الحديث كما قال الذهبي في "تاريخ الإسلام" 3/ 903، وكذلك عامر بن لدين الأشعري صالح الحديث، روى عنه جمع ووثقه العجلي، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وأبو ليلى الأشعري تابعيٌّ كبير، وبعضهم ذكره الصحابة. وقد روي نحو هذا الحديث من وجه آخر عن أبي ذرٍّ.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "صالح" (قابل قبول) ہے جیسا کہ ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں کہا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو طرفہ عباد بن ریان "صالح الحدیث" ہیں جیسا کہ ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (3/ 903) میں کہا ہے۔ اسی طرح عامر بن لدین اشعری بھی "صالح الحدیث" ہیں، ان سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور عجلی نے ان کی توثیق کی ہے، اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔ اور ابو لیلیٰ اشعری کبار تابعین میں سے ہیں، اور بعض نے انہیں صحابہ میں ذکر کیا ہے۔ اور اسی طرح کی حدیث ایک اور طریق سے ابو ذر سے بھی مروی ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (773)، وفي "الأوسط" (60)، وفي "الأحاديث الطوال" (5)، وعنه أبو نُعيم في "معرفة الصحابة" (1577)، وفي "حلية الأولياء" 1/ 157، وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 26/ 224 - 225 من طريق أبي القاسم بن أبي العقب، ومن طريق أبي عبد الله محمد بن إبراهيم بن مروان - وهو القرشي الدمشقي - ثلاثتهم (الطبراني وابن أبي العقب وابن مروان) عن أبي عبد الملك أحمد بن إبراهيم القرشي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (773)، "الأوسط" (60)، اور "الأحادیث الطوال" (5) میں؛ اور ان سے ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابۃ" (1577) اور "حلیۃ الأولیاء" (1/ 157) میں؛ اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (26/ 224-225) میں ابو القاسم بن ابی العقب اور ابو عبد اللہ محمد بن ابراہیم بن مروان (قرشی دمشقی) کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں (طبرانی، ابن ابی العقب، ابن مروان) اسے ابو عبدالملک احمد بن ابراہیم قرشی سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه الدولابي في "الكنى والأسماء" (1213) عن أبي القاسم يزيد بن محمد بن عبد الصمد، عن محمد بن عائذ، به مختصرًا بقوله ﷺ عن زمزم: "أما إنه طعام طعم". قال الدُّولابي: مختصر من حديث إسلام أبي ذر الحديث الطويل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دولابی نے "الکنیٰ والأسماء" (1213) میں ابو القاسم یزید بن محمد بن عبدالصمد عن محمد بن عائذ کے طریق سے مختصراً روایت کیا ہے، جس میں نبی ﷺ کا زمزم کے بارے میں یہ فرمان ہے: "خبردار! یہ کھانے والے کا کھانا ہے۔" دولابی نے کہا: یہ ابو ذر کے اسلام لانے کی طویل حدیث کا مختصر حصہ ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 35/ (21525) و (21526)، ومسلم (2473)، وابن حبان (7133) من طريق عبد الله بن الصامت ابن أخي أبي ذرٍّ، عن عمه أبي ذرٍّ، غير أنه ذكر أنَّ الذي حكم بين أخيه أُنيس وبين الرجل الآخر وفضّل أنيسًا على ذلك الرجل هو كاهنٌ وليس الخنساء، ولم يسم ذلك الرجل الذي دافع أُنيسًا، بل أبهمه، خلافًا لما في رواية أبي ليلى الأشعري حيث ذكر أنه دريد بن الصِّمة. وقال ابن الصامت في روايته: "وُجِّهت لي أرضٌ ذات نخل ولا أُراها إلا يثرب" بدل قوله: "ولا أحسبها إلّا تهامة" وليس المعنى بعيدًا إذ المدينة من تِهامة.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح کی روایت احمد [35/ (21525)، (21526)]، مسلم (2473) اور ابن حبان (7133) نے عبد اللہ بن صامت (ابو ذر کے بھتیجے) عن ابو ذر کے طریق سے کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: البتہ اس میں ذکر کیا ہے کہ انیس اور دوسرے آدمی کے درمیان فیصلہ کرنے والا اور انیس کو ترجیح دینے والا ایک کاہن تھا نہ کہ خنساء۔ اور اس آدمی کا نام بھی نہیں لیا جس نے انیس کا مقابلہ کیا بلکہ اسے مبہم رکھا، جبکہ ابو لیلیٰ اشعری کی روایت میں اس کا نام درید بن صمہ بتایا گیا ہے۔ ابن صامت نے اپنی روایت میں یہ الفاظ کہے: "مجھے ایک کھجوروں والی زمین دکھائی گئی اور میرا خیال ہے کہ وہ یثرب ہے"، بجائے اس قول کے کہ: "میرا گمان ہے کہ وہ تہامہ ہے"۔ اور معنی بعید نہیں ہے کیونکہ مدینہ بھی تہامہ (کے علاقے) میں سے ہے۔
ويشهد لهذا الحرف من الحديث حديث عائشة عند أحمد 42/ (25626) والبخاري (2297)، بلفظ: "أُريتُ دار هجرتكم، رأيت سبخةً ذات نخل بين لابتين". وقد تقدم عند المصنف برقم (4308).
🧩 متابعات و شواہد: حدیث کے اس حصے کا شاہد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے جو احمد [42/ (25626)] اور بخاری (2297) میں ہے، ان الفاظ کے ساتھ: "مجھے تمہاری ہجرت کا مقام دکھایا گیا، میں نے کھاری زمین دیکھی جس میں کھجوریں ہیں اور وہ دو پتھریلی زمینوں (لابتین) کے درمیان ہے۔" یہ روایت مصنف کے ہاں نمبر (4308) پر گزر چکی ہے۔
والسَّنَة: الجَدْبُ والقَحْطُ.
📝 نوٹ / توضیح: "السَّنَة": خشک سالی اور قحط۔
والهجمة: قريبٌ من المئة من الإبل.
📝 نوٹ / توضیح: "الْهَجْمَة": تقریباً سو اونٹوں کا ریوڑ۔
وقِيْد حَجَر: أي قَدْر حَجَر، يعني مسافة قريبة جدًّا.
📝 نوٹ / توضیح: "قِيدَ حَجَرٍ": یعنی پتھر پھینکنے کی مقدار، مراد بہت قریب کا فاصلہ ہے۔
وقِيْد حَجَر: أي قَدْر حَجَر، يعني مسافة قريبة جدًّا. والمَدَر: قِطَع الطين اليابس.
📝 نوٹ / توضیح: "قِيدَ حَجَرٍ": یعنی پتھر پھینکنے کی مقدار (بہت قریب)۔ اور "الْمَدَر": خشک مٹی کے ڈھیلے۔
وضَرَّجوني: لَطَّخوني.
📝 نوٹ / توضیح: "ضَرَّجُونِي": انہوں نے مجھے لت پت کر دیا (خون وغیرہ میں)۔
وقوله: بين السُّتور والبناء: يعني بين الكعبة وأستارها.
📝 نوٹ / توضیح: قولہ "بَيْنَ السُّتُورِ وَالْبِنَاءِ": یعنی کعبہ اور اس کے غلاف (پردوں) کے درمیان۔
وأقفو آثارهما: أتبعهما من ورائهما.
📝 نوٹ / توضیح: "أَقْفُو آثَارَهُمَا": میں ان دونوں کے پیچھے پیچھے چلا۔
و"زمزم طعام طُعْم"، أي: تُشبعُ الإنسانَ إذا شرب ماءها كما يَشبع من الطعام.
📝 نوٹ / توضیح: "زَمْزَمَ طَعَامُ طُعْمٍ": یعنی یہ انسان کو سیر کر دیتا ہے جب وہ اس کا پانی پیتا ہے، جیسے وہ کھانے سے سیر ہوتا ہے۔
والقُبَض: جمع قَبْضَة، وهو ما قَبَضتَ عليه من شيءٍ.
📝 نوٹ / توضیح: "الْقُبَض": یہ "قَبْضَة" (مٹھی) کی جمع ہے، وہ چیز جسے مٹھی میں پکڑا جائے۔
وتألَّهُ: مضارع حذفت إحدى تائيه تخفيفًا، وهو من التألُّه، أي: التنسُّك والتعبُّد.
📝 نوٹ / توضیح: "تَأَلَّهُ": یہ فعل مضارع ہے جس کی ایک "ت" تخفیف کے لیے حذف کر دی گئی ہے۔ یہ "تألُّہ" سے ہے، جس کا معنی عبادت اور بندگی کرنا ہے۔
والخِفَاء: ككِساء وزنًا ومعنًى.
📝 نوٹ / توضیح: "الْخِفَاء": وزن اور معنی دونوں میں "کساء" (چادر/کپڑا) کی طرح ہے۔