المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
473. الْوَحْدَةُ خَيْرٌ مِنْ جَلِيسِ السُّوءِ
بری صحبت سے تنہائی بہتر ہے
حدیث نمبر: 5554
أخبرَناهُ أبو الحُسين عبد الصمد بن علي بن مُكرَم ابن أخي الحسن بن مُكرَم البَزّاز ببغداد، أخبرنا عبد الوارث بن إبراهيم العسكري، حدثنا سَيف بن مِسكين الأُسْواري، حدثنا المبارك بن فَضَالة، عن المُنتصِر بن عُمارة بن أبي ذرٍّ الغِفاري، عن أبيه، عن جده، عن رسول الله ﷺ قال:"إذا اقتربَ الزمانُ كَثُر لُبْسُ الطَّيَالسة، وكَثُرَت التجارةُ، وكَثُر المالُ، وعَظُمَ ربُّ المالِ بمالِه، وكَثُرت الفاحِشةُ، وكانت إمارةُ الصِّبْيان، وكَثُر النساءُ، وجارَ السلطانُ، وطُفِّفَ في المِكْيال والمِيزان، ويُربّي الرجلُ جَرْوَ كلبٍ خيرٌ له من أن يُربِّي ولدًا له، ولا يُوقَّرُ كبيرٌ، ولا يُرحَمُ صغيرٌ، ويَكثُر أولادُ الزِّنى، حتى إنَّ الرجلَ ليَغْشى المرأةَ على قارِعةِ الطريق، فيقولُ أمثَلُهم في ذلك الزمانِ: لو اعتزلتُما عن الطريق، ويلبَسُون جُلودَ الضَّأْنِ على قُلوب الذئابِ، أمثَلُهم في ذلك الزمانِ المُداهِنُ" (1)
هذا حديث تَفرَّد به سَيفُ بن مِسكين عن المُبارَك بن فَضَالة، والمُبارَكُ بن فَضَالة ثقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5465 - سيف بن مسكين الأسواري واه
هذا حديث تَفرَّد به سَيفُ بن مِسكين عن المُبارَك بن فَضَالة، والمُبارَكُ بن فَضَالة ثقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5465 - سيف بن مسكين الأسواري واه
منتصر بن عمارہ بن ابی ذر اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب قیامت قریب ہو گی تو ریشمی لباس کی کثرت ہو گی، تجارت بہت بڑھ جائے گی، مال و دولت میں اضافہ ہو گا، دولتمند اپنی دولت پر فخر کریں گے۔ گناہ عام ہو جائیں گے، بچوں کی حکومتیں ہوں گیں، عورتیں بڑھ جائیں گی، بادشاہ ظالم ہوں گے، ناپ تول میں کمی کی جائے گی، آدمی کسی کتے یا شیر کے بچے کو پال لے، یہ اس کے لیے اپنی اولاد کو پالنے سے بہتر ہو گا، بڑوں کا احترام ختم ہو جائے گا، چھوٹوں پر رحم نہیں کیا جائے گا۔ حرامی بچے زیادہ ہوں گے (حالات اس حد تک گندے ہو جائیں گے کہ) آدمی سڑک کنارے عورت سے زنا کرے گا، کوئی شریف آدمی ان کو دیکھے گا تو (اس کی غیرت بھی صرف اتنی ہی ہو گی) وہ کہے گا: تم سڑک سے دور ہٹ کر یہ کام نہیں کر سکتے؟ لوگوں کے دل بھیڑیئے کی طرح ہوں اور اوپر لباس بھیڑ کی طرح شریفانہ ہو گا یہ لوگ اس دھوکہ دہی کے زمانے کے شریف لوگ ہوں گے۔ اس حدیث کو مبارک بن فضالہ سے روایت کرنے میں سیف بن مسکین منفرد ہیں۔ اور مبارک بن فضالہ ثقہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5554]
حدیث نمبر: 5555
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن سلْمان الفقيه، حَدَّثَنَا محمد بن الهيثم القاضي، حَدَّثَنَا الهيثم بن جَميل الأنطاكي، حَدَّثَنَا شَريك، عن أبي المُحجَّل، عن صَدَقة بن أبي عمران [عن عِمران] (1) بن حِطّان، قال: أتيتُ أبا ذرٍّ فوجدتُه في المسجد مُحتبيًا بكِساءٍ أسودَ وحدَه، فقلتُ: يا أبا ذرٍّ، ما هذه الوَحْدةُ؟ فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"الوحدةُ خَيرٌ من جَليسِ السُّوء، والجليسُ الصالح خيرٌ من الوَحْدة، وإملاءُ الخيرِ خيرٌ من السُّكوت، والسكوتُ خيرٌ من إملاءِ الشَّرِّ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5466 - لم يصح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5466 - لم يصح
صدقہ بن ابی عمران بن حطان فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ مسجد میں اپنی کالی، چادر لپیٹے تنہا بیٹھے تھے، میں نے پوچھا: اے ابوذر! آپ اس طرح اکیلے کیوں بیٹھے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ” برے ساتھی کی سنگت سے تنہائی بہتر ہے، اور تنہائی سے بہتر اچھے دوست کی سنگت ہے اور اچھی بات کرنا خاموشی سے بہتر ہے اور بری بات سے خاموشی بہتر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5555]
حدیث نمبر: 5556
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفَّان، حَدَّثَنَا أبو يحيى الحِمّاني، عن الأعمش، عن شِمْر بن عَطِيَّة، عن شَهْر بن حَوشَبٍ، عن عبد الرحمن بن غَنْم، قال: كنتُ مع أبي الدَّرْداء، فجاء رجلٌ من قِبَل المدينةِ، فساء لَهُ، فأخبره أن أبا ذرٍّ سُيِّر إلى الرَّبَذة، فقال أبو الدَّرْداء: إنا لله وإنا إليه راجِعُون، لو أنَّ أبا ذرٍّ قَطَع لي عُضوًا أو يدًا ما هَجَّنْتُه بعدما سمعتُ النَّبِيّ ﷺ يقول:"ما أظلَّتِ الخَضْراءُ، ولا أقلّتِ الغَبْراءُ من رجُل أصدقَ لَهْجةً من أبي ذرٍّ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5467 - سنده جيد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5467 - سنده جيد
عبدالرحمن بن غنم فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ایک آدمی مدینہ کی جانب سے آیا اور ان سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ تو ربذہ کی جانب چلے گئے ہیں، اس نے کہا: انا للہ وانا الیہ راجعون، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ اگر میرا ہاتھ یا کوئی عضو کاٹ ڈالے تو مجھے یہ بھی برا نہ لگے جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے بارے میں یہ کلمات سنے ہیں: زمین کے سینے نے اور چشم فلک نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی سچا انسان نہیں دیکھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5556]