المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
524. مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ
جس نے کسی شہید کو دیکھنا ہو وہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے
حدیث نمبر: 5711
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيعُ بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني إسحاق بن يحيى، عن عيسى بن طلحة بن عُبيد الله، قال: دخلتُ على أمِّ المؤمنين وعائشةَ بنتِ طلحة، وهي تقولُ لأمِّها أسماءَ: أنا خيرٌ منكِ، وأبي خيرٌ من أبيكِ، قال: فجَعَلَت أمُّها تَشتِمُها وتقولُ: أنتِ خيرٌ منّي؟! فقالت أم المؤمنين عائشةُ: ألا أقضِي بينكما؟ قالت: بلى، قالت: فإنَّ أبا بكر دخل على رسول الله ﷺ، فقال:"يا أبا بكرٍ، أنتَ عَتِيقُ اللهِ من النار" قالت: فمن يومِئذٍ سُمّي عَتِيقًا، ولم يكن سُمِّي قبلَ ذلك عَتِيقًا، قالت: ثم دخل طلحةُ بن عُبيد الله، فقال:"أنت يا طَلْحَةُ ممَّن قَضَى نَحْبَه" (2) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5611 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5611 - على شرط مسلم
سیدنا عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ فرماتے ہیں: میں اور (میری بہن) عائشہ بنت طلحہ، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ عائشہ بنت طلحہ (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نواسی ہیں) اپنی والدہ اسماء سے کہہ رہی تھی: میں تم سے بہتر ہوں اور میرے والد تمہارے والد سے بہتر ہیں۔ ان کی والدہ ان کو مار مار کر کہنے لگی: تم مجھ سے بہتر ہو؟ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تمہارے درمیان میں فیصلہ نہ کر دوں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: انت عتیق من النار (یعنی تم جنت سے آزاد ہو) اسی دن سے آپ کا نام عتیق ہو گیا۔ آپ سے پہلے کسی کو بھی اس نام سے نہیں پکارا گیا۔ آپ فرماتی ہیں: پھر سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ حاضر بارگاہ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یوں فرمایا: اے طلحہ تم ان لوگوں میں سے ہو جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: مِمَّنْ قَضَی نَحْبَہُ ” تو ان میں سے کوئی اپنی منت پوری کر چکا “۔ (ام المومنین کا مقصد یہ تھا کہ (سیدنا طلحہ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما) اپنے اپنے مقام دونوں ہی بزرگ اور صاحب عزت و عظمت ہیں)۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5711]
حدیث نمبر: 5712
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا الصَّلْتُ بن دينار، عن أبي نَضْرةَ، عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن أرادَ أن يَنظُرَ إلى شهيدٍ يمشي على وجهِ الأرضِ، فليَنظُرْ إلى طلحةَ بن عُبيد الله" (1) . تَفرَّد به الصّلتُ بن دِينار، وليس من شرطِ هذا الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5612 - الصلت واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5612 - الصلت واه
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی شہید کو زمین پر زندہ چلتے پھرتے دیکھنا چاہے وہ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے۔ ٭٭ یہ حدیث ابونضرہ سے روایت کرنے میں صلت بن دینار منفرد ہیں۔ اور یہ حدیث ہماری اس کتاب کے معیار کی نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5712]