🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

524. مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ
جس نے کسی شہید کو دیکھنا ہو وہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5712
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا الصَّلْتُ بن دينار، عن أبي نَضْرةَ، عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن أرادَ أن يَنظُرَ إلى شهيدٍ يمشي على وجهِ الأرضِ، فليَنظُرْ إلى طلحةَ بن عُبيد الله" (1) . تَفرَّد به الصّلتُ بن دِينار، وليس من شرطِ هذا الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5612 - الصلت واه
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے شہید کو دیکھنا چاہتا ہو جو روئے زمین پر چل رہا ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ طلحہ بن عبید اللہ کو دیکھ لے۔
اس حدیث کو نقل کرنے میں صلت بن دینار منفرد ہیں اور یہ اس کتاب کی شرط پر نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5712]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا،من أجل الصَّلْت بن دينار، فهو واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 5712] [ترقيم الشركة 5658] [ترقيم العلميه 5612]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5713
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، أخبرنا محمد بن عُبيد الطَّنَافِسيّ، حدثنا أبو مالك الأشْجَعي، عن أبي حَبِيبة مولى طَلْحة، قال: دخلتُ على عليٍّ مع عِمران (2) بن طَلْحة بعدَما فَرَغَ من أصحابِ الجَمَل، قال: فرحَّب به وأدْناهُ، قال: إني لأرجُو أن يَجعلَني الله وأباكَ من الذين قال الله ﷿: ﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ﴾ [الحجر: 47] ، فقال: يا ابن أخي، كيف فُلانةُ، كيف فُلانةُ؟ قال: وسألَه عن أُمّهات أولادِ أبيه، قال: ثم قال: لم نَقْبِضُ أرْضِيَّكُم هذه السِّنينَ (1) إلَّا مخافةَ أن يَنتَهِبَها الناسُ، يا فلانُ، انطَلِقُ معه إلى ابن قَرَظَة (2) مُرْهُ فليُعْطِه غَلَّتَه هذه السِّنين، ويَدفَعْ إليه أرضَه، فقال رجلانِ جالسانِ ناحيةً، أحدُهما الحارِثُ الأعوَرُ: اللهُ أعدَلُ من ذلك أن نَقتُلَهم ويكونوا إخوانَنا في الجنة؟ قال: قُوما أبعدَ أرضِ الله وأسحَقَها، فمَن هو إذا لم أكُن أنا وطلحةُ؟ يا ابنَ أخي، إذا كانت لك حاجةٌ فأْتِنا (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5613 - صحيح
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوحبیبہ سے روایت ہے کہ میں معرکہ جمل سے فراغت کے بعد سیدنا عمران بن طلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، راوی کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں خوش آمدید کہا اور اپنے قریب بٹھایا، پھر فرمایا: میں اللہ سے یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے اور تمہارے والد کو ان لوگوں میں شامل فرمائے گا جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ﴾ اور ان کے سینوں میں جو تھوڑی بہت رنجش تھی ہم اسے نکال دیں گے، وہ بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے [سورة الحجر: 47] ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: اے بھتیجے! فلاں اور فلاں خاتون کیسی ہیں؟ اور ان کے والد کی امہات الاولاد کے بارے میں بھی پوچھا، پھر فرمایا: ہم نے تمہاری یہ زمینیں ان برسوں میں صرف اس ڈر سے اپنے قبضے میں رکھی تھیں کہ لوگ انہیں لوٹ نہ لیں، اے فلاں! ان کے ساتھ ابن قرظہ کے پاس جاؤ اور اسے حکم دو کہ ان زمینوں کی ان برسوں کی تمام پیداوار اور زمینیں بھی ان کے حوالے کر دے، اس پر وہاں گوشے میں بیٹھے ہوئے دو آدمیوں نے، جن میں سے ایک حارث اعور تھا، کہا: اللہ اس سے کہیں زیادہ عادل ہے کہ ایسا ہو، کیا ہم انہیں قتل کریں اور وہ جنت میں ہمارے بھائی ہوں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے غصے سے فرمایا: تم دونوں یہاں سے اٹھ جاؤ اور اللہ کی زمین میں کہیں دور اور ہلاکت والی جگہ چلے جاؤ! اگر میں اور طلحہ (اس آیت کے مصداق) نہیں ہیں، تو پھر اور کون ہے؟ (پھر عمران بن طلحہ سے فرمایا:) اے میرے بھتیجے! جب بھی تمہیں کوئی ضرورت ہو تو ہمارے پاس آ جایا کرو۔"۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5713]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أبي حَبيبة مولى طلحة، فهو» [ترقيم الرساله 5713] [ترقيم الشركة 5659] [ترقيم العلميه 5613]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل أبي حَبيبة مولى طلحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں