المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
559. ذِكْرُ هِجْرَةِ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ کی ہجرت کا بیان
حدیث نمبر: 5810
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا أبو الزِّنْباع رَوْح بن الفَرَج المِصري، حدثنا يوسف بن عَدِيّ، حدثنا بن محمد بن يزيد بن صيفيّ بن صُهيب، عن أبيه [عن أبيه] (2) عن جَدِّه، عن صهيب، قال: لقد صَحِبتُ رسولَ الله ﷺ قبل أن يُوحى إليه (3) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5705 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5705 - صحيح
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں آغاز وحی سے بھی پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5810]
حدیث نمبر: 5811
أخبرنا أبو العباس إسماعيل بن عبد الله بن محمد بن ميكال، أخبرنا عَبْدانُ الأهوازي، حدثنا زيد بن الحَرِيش، حدثنا يعقوب بن محمد الزُّهْري، حدثنا حُصين بن حُذيفة بن صَيفيّ بن صُهيب، حدثني أبي وعُمومتي، عن سعيد بن المسيّب، عن صهيب، قال: قال رسول الله ﷺ:"أُرِيتُ دار هجرتِكم؛ سَبَخةً بين ظَهْرانَيْ حَرَّةٍ، فإمّا أن تكون هَجَرًا أو تكون يَثرِبَ". قال: وخرج رسولُ الله ﷺ إلى المدينة، وخرج معه أبو بكر، وكنتُ قد هَمَمتُ بالخروج معه، فصَدّني فِتيانٌ من قريش، فجعلتُ ليلتي تلك أقومُ ولا أقعُد، فقالوا: قد شغلهُ الله عنكم ببَطنِه، ولم أكن شاكيًا، فقاموا فلَحِقَني منهم ناسٌ بعدما سِرتُ بَريدًا ليردُّوني، فقلت لهم: هل لكم أن أُعطِيَكم أواقيَّ (1) من ذهب، وتُخَلُّون سَبيلي، وتَفُون (2) لي؟ فتَبِعتُهم إلى مكةَ، فقلتُ: احفِرُوا تحت أُسكُفَّةِ الباب، فإنَّ تحتها الأواقيَّ (1) ، واذهَبُوا إلى فُلانةَ، فخُذُوا الحُلَّتين، وخرجتُ حتى قَدِمتُ على رسولِ الله ﷺ [قُباءً] (2) قبل أن يَتحوَّل منها، فلما رآني قال:"يا أبا يحيى، رَبحَ البيعُ" ثلاثًا، فقلتُ: يا رسول الله، ما سبَقَني إليك أحدٌ، وما أخبركَ إِلَّا جبريلُ ﵇ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد لِولَد صُهيبٍ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5706 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد لِولَد صُهيبٍ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5706 - صحيح
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے تمہارا مقام ہجرت دکھا دیا گیا ہے وہ مقام سنجہ ہے جو کہ حرہ کے دو راستوں کے درمیان ہے۔ اب وہ یا تو یثرب ہے یا ہجر ہے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی جانب روانہ ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ میں نے بھی ان کے ہمراہ نکلنے کا ارادہ کیا تھا لیکن مکہ کے کچھ جوانوں نے مجھے اس عمل سے روک دیا، میں وہ رات وہیں ٹھہر گیا، ساری رات میں نے کھڑے ہو کر گزاری ایک لمحے کے لئے بھی بیٹھا نہیں۔ وہ سمجھے کہ میرے پیٹ میں کوئی تکلیف ہے۔ اور مجھے کوئی شک نہیں تھا، (میں موقع پا کر وہاں سے نکل گیا۔ اور ان لوگوں نے میرا پیچھا کیا) میں تقریباً ایک برید (بارہ میل کی مسافت) کا سفر کر چکا تھا، تب یہ لوگ بھی مجھ تک پہنچ گئے اور مجھے واپس جانے پر مجبور کرنے لگے، میں نے ان سے کہا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ میں تمہیں کچھ مقدار میں سونا دے دوں تو تم میرا راستہ چھوڑ دو؟ اور میرے ساتھ وفا کرو گے؟ (یہ معاہدہ طے کر لینے کے بعد) میں ان کے ساتھ مکہ میں واپس آیا میں نے ان سے کہا: دروازے کی چوکھٹ والے مقام سے زمین کو کھودو، اس کے نیچے سے خزانہ نکال کر فلاں عورت کے پاس لے جاؤ اور اس سے دو قیمتی لباس لے لو، میں یہ مال ان کو دے کر وہاں سے نکلا، اور قباء سے کسی اور جگہ منتقل ہونے سے پہلے پہلے میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا: اے ابویحیی تو نے منافع بخش سودا کیا ہے۔ یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائے، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی جانب مجھ سے آگے کوئی نہیں بڑھا اور میری خبر آپ کو سوائے جبریل امین علیہ السلام کے اور کسی نے نہیں دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5811]