🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

559. ذِكْرُ هِجْرَةِ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ کی ہجرت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5811
أخبرنا أبو العباس إسماعيل بن عبد الله بن محمد بن ميكال، أخبرنا عَبْدانُ الأهوازي، حدثنا زيد بن الحَرِيش، حدثنا يعقوب بن محمد الزُّهْري، حدثنا حُصين بن حُذيفة بن صَيفيّ بن صُهيب، حدثني أبي وعُمومتي، عن سعيد بن المسيّب، عن صهيب، قال: قال رسول الله ﷺ:"أُرِيتُ دار هجرتِكم؛ سَبَخةً بين ظَهْرانَيْ حَرَّةٍ، فإمّا أن تكون هَجَرًا أو تكون يَثرِبَ". قال: وخرج رسولُ الله ﷺ إلى المدينة، وخرج معه أبو بكر، وكنتُ قد هَمَمتُ بالخروج معه، فصَدّني فِتيانٌ من قريش، فجعلتُ ليلتي تلك أقومُ ولا أقعُد، فقالوا: قد شغلهُ الله عنكم ببَطنِه، ولم أكن شاكيًا، فقاموا فلَحِقَني منهم ناسٌ بعدما سِرتُ بَريدًا ليردُّوني، فقلت لهم: هل لكم أن أُعطِيَكم أواقيَّ (1) من ذهب، وتُخَلُّون سَبيلي، وتَفُون (2) لي؟ فتَبِعتُهم إلى مكةَ، فقلتُ: احفِرُوا تحت أُسكُفَّةِ الباب، فإنَّ تحتها الأواقيَّ (1) ، واذهَبُوا إلى فُلانةَ، فخُذُوا الحُلَّتين، وخرجتُ حتى قَدِمتُ على رسولِ الله ﷺ [قُباءً] (2) قبل أن يَتحوَّل منها، فلما رآني قال:"يا أبا يحيى، رَبحَ البيعُ" ثلاثًا، فقلتُ: يا رسول الله، ما سبَقَني إليك أحدٌ، وما أخبركَ إِلَّا جبريلُ ﵇ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد لِولَد صُهيبٍ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5706 - صحيح
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہاری ہجرت کی جگہ دکھائی گئی ہے؛ وہ ایک شوریدہ زمین ہے جو دو سنگلاخ پہاڑوں (حرہ) کے درمیان واقع ہے، وہ یا تو ہجر ہے یا یثرب (مدینہ) ہے، راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت فرما گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے، میرا ارادہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلنے کا تھا لیکن قریش کے نوجوانوں نے مجھے روک دیا، چنانچہ میں نے وہ رات اس طرح گزاری کہ (بے چینی سے) کبھی کھڑا ہوتا تو کبھی بیٹھتا، وہ کہنے لگے کہ اللہ نے اسے پیٹ کی تکلیف میں مبتلا کر دیا ہے (تاکہ تم سے دور رہے)، حالانکہ مجھے کوئی بیماری نہ تھی، پھر جب وہ چلے گئے اور میں نے کچھ مسافت طے کر لی تو ان میں سے کچھ لوگ مجھے واپس لے جانے کے لیے میرے پیچھے آئے، میں نے ان سے کہا: کیا تم یہ پسند کرو گے کہ میں تمہیں سونے کے چند اوقیہ دے دوں اور تم میرا راستہ چھوڑ دو اور اپنا عہد پورا کرو؟ چنانچہ میں ان کے ساتھ مکہ واپس گیا اور کہا: میرے دروازے کی چوکھٹ کے نیچے کھدائی کرو وہاں وہ سونا موجود ہے، اور فلاں عورت کے پاس جا کر وہ دو قیمتی جوڑے بھی لے لو، پھر میں وہاں سے نکلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبا پہنچا اس سے پہلے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے (مدینہ) منتقل ہوتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو تین بار فرمایا: اے ابو یحییٰ! تمہاری تجارت نفع بخش رہی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے پہلے آپ کے پاس کوئی نہیں پہنچا تھا، یقیناً آپ کو جبریل علیہ السلام ہی نے اس کی خبر دی ہے۔
یہ حدیث سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کی اولاد کی نسبت سے صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5811]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه لِينٌ من أجل يعقوب بن محمد الزُّهري، ففي حديثه لينٌ، وأما زيد بن الحَريش وحُصين بن حذيفة فقد روى عن كلٍّ منهما جمعٌ، وذكرهما ابن حبان في "الثقات"، فلا بأس بهما، وحذيفة بن صَيْفيٍّ - وإن كان مجهولًا - متابع بذكر إخوانه، فيبقى الشأن في لين يعقوب بن ...» [ترقيم الرساله 5811] [ترقيم الشركة 5756] [ترقيم العلميه 5706]

الحكم على الحديث: إسناده فيه لِينٌ من أجل يعقوب بن محمد الزُّهري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5812
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنْعاني بمكة، حدثنا عليُّ بن المُبارك الصَّنْعاني، حدثنا زيد بن المبارك، حدثنا محمد بن ثَوْر، عن ابن جُرَيج، في قولِ الله ﷿: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ﴾ [البقرة: 207] ، نزلت في صهيب بن سِنان وأبي ذرٍّ، وإنَّ الذي أدرَكَ صهيبًا بطريق المدينة قنفُذُ بن عُمَير (1) بن جُدْعان. قال ابن جُريج: وزَعَمَ عِكْرمةُ مولى ابن عباس: أَنَّ صُهيبًا افتَدَى من مكةَ أهله بماله ثم خرج مهاجرًا، فأدرَكُوه بالطريق، فأخرج لهم ما بقي من مالِه (2) .
ابن جریج سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 207] کے متعلق روایت ہے کہ یہ آیت سیدنا صہیب بن سنان اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی، اور مدینہ کے راستے میں جس شخص نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو پکڑا تھا وہ قنفذ بن عمیر بن جدعان تھا، ابن جریج کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ عکرمہ کا بیان ہے کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اپنا تمام مال دے کر خود کو (مشرکین سے) چھڑایا اور پھر ہجرت کے لیے نکلے، جب راستے میں لوگوں نے انہیں پا لیا تو انہوں نے اپنا باقی ماندہ مال بھی ان کے حوالے کر دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5812]
تخریج الحدیث: «غريب بذكر أبي ذر الغفاري.» [ترقيم الرساله 5812] [ترقيم الشركة 5757]

الحكم على الحديث: غريب بذكر أبي ذر الغفاري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں