🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

558. بَرَاءَةُ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ عَنْ حِسَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ابتدائی مہاجرین قیامت کے دن حساب سے بری ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5808
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا سعيد بن سليمان الواسِطي، حدثنا عبد الله بن المبارك، أخبرني عبد الحميد بن صَيفِيّ من وَلَد صُهيبٍ، عن أبيه، عن جدّه، عن صُهيب، قال: قَدِمتُ على رسول الله ﷺ بالهجرة، وهو يأكل تمرًا، فأقبلتُ آكُلُ من التمر وبِعَيْني رَمَدٌ، فقال رسول الله ﷺ:"أتأكُلُ التمرَ وبك رَمَدٌ؟" فقلت: إنما آكُلُ على شِقِّي الصحيحِ الذي ليس به رَمَدٌ، قال: فَضَحِكَ رسولُ الله ﷺ (1) صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5703 - صحيح
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجوریں تناول فرما رہے تھے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھجوریں کھانے لگ گیا، اس وقت میں آشوب چشم کی بیماری میں مبتلا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: تمہیں آشوب چشم ہے اور تم کھجوریں کھا رہے ہو؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس جانب سے کھا رہا ہوں جو جانب درست ہے، یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5808]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5809
حدثني أبو عمرو محمد بن جعفر بن محمد بن مَطَر العَدْل الزاهد - وأنا سألتُه - حدثنا أبو خُبيب العباس بن أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو بكر عَبد الله بن عُبيد الله الطَّلْحي، حدثنا عَبد الله بن محمد بن إسحاق بن موسى بن طلحة بن عُبيد الله، حدثني أبو حُذيفة الحُصين بن حُذيفة بن صَيْفِيّ بن صُهيب، عن أبيه، عن جده [عن] (1) صُهيب، قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول في المُهاجرين الأَوّلين:"هُم السابِقُون الشافِعُون المُدِلُّون على ربِّهم ﵎، والذي نفسي بيده، إنهم لَيأتُون يوم القيامة وعلى عواتقهم السِّلاحُ، فَيَقرَعُون بابَ الجنة، فتقول لهم الخَزَنةُ: مَن أنتُم؟ فيقولون: نحن المُهاجرون، فتقول لهم الخَزَنةُ: هل حُوسِبتُم؟ فيَجْثُون على رُكَبِهم، ويَنثُرون ما في جِعابِهم، ويَرفعُون أيديَهم إلى السماء، فيقولون: أيْ ربِّ، وبماذا نُحاسَب؟ فقد خَرجْنا وتَركْنا الأهلَ والمالَ والولدَ! فيُمثِّل اللهُ لهم أجنحةً من ذهَب مُخوَّصةً بالزَّبَرْجَد والياقوت، فيَطِيرون حتى يَدخُلوا الجنةَ، فذلك قوله: ﴿وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ﴾ الآية إلى ﴿لُغُوبٍ﴾ [فاطر: 34 - 35] ". قال حُذيفة: قال صَيفِيّ: قال صُهيب: قال رسول الله ﷺ:"فلَهُم بمَنازِلهم في الجنة أعرَفُ منهم بمنَازلِهم في الدُّنيا" (1) . غريب الإسناد والمتن، ذكرتُه في مناقب صُهيب لأنه من المُهاجرين الأوَّلين، والراوي للحديث أعقابُه، والحديثُ لأصحابه، ولم نكتبه في الدنيا إلَّا عن شيخِنا الزاهدِ أبي عَمرو ﵀.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5704 - بل كذب وإسناده مظلم
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اولین (پہلے پہلے ہجرت کرنے والوں) کے بارے میں ارشاد فرمایا: وہ لوگ سبقت لے جانے والے ہیں، شفاعت کرنے والے ہیں، اپنے رب پر دلائل ثابت کرنے والے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے وہ لوگ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئیں گے کہ ان کے کاندھوں پر ہتھیار ہوں گے، وہ جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے، جنت کا دربان ان سے کہے گا: تم کون لوگ ہو؟ وہ کہیں گے: ہم مہاجرین ہیں۔ جنت کا دربان ان سے کہے گا: کیا تمہارا حساب کتاب ہو چکا ہے؟ وہ لوگ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنا ترکش جھاڑیں گے، اور اپنے ہاتھ آسمان کی جانب بلند کر کے کہیں گے: اے میرے رب! ہم کس چیز کا حساب دیں؟ ہم تو اپنے گھربار، اہل و عیال، مال و دولت سب کچھ تو چھوڑ کر آ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سونے کے پر عطا فرمائے گا، جو کہ زبرجد اور یاقوت کے موتیوں سے سجے ہوں گے، وہ لوگ ان پروں کی مدد سے اڑ کر جنت میں چلے جائیں گے۔ یہی وہ بات ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں کیا ہے۔ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ، الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ (الفاطر: 34، 35) اور کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمارا غم دور کیا بے شک ہمارا رب بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے، وہ جس نے ہمیں آرام کی جگہ اتارا اپنے فضل سے ہمیں اس میں نہ کوئی تکلیف پہنچے نہ ہمیں اس میں کوئی تکان لاحق ہو ۔ سیدنا صہیت فرماتے ہیں: وہ اپنے جنتی مکانوں کو اپنے اس دنیا کے مکانات سے زیادہ پہچانتے ہیں۔ ٭٭ اس حدیث کا متن اور اسناد غریب ہے، اس کو میں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کے فضائل کے باب میں ذکر کیا ہے کیونکہ وہ اولین مہاجرین میں سے ہیں۔ راوی حدیث کا حدیث میں ایک گہرا تعلق ہوتا ہے، اور حدیث اصحاب حدیث کی ہوتی ہے۔ اور میں نے اس کو اپنے شیخ زاہد ابوعمرو رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5809]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں