المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
565. ذكر لقاء أويس القرني عمر رضى الله عنه
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اویس قرنی سے ملاقات اور نبی ﷺ کی طرف سے ان کی پہچان کا بیان — حاکم کہتے ہیں: اس روایت کی صحت امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ تک ثابت ہے
حدیث نمبر: 5823
أخبرني أحمد بن كامل القاضي ببغداد، حدثنا عبد الله بن رَوح المدائني، حدثني عُبيد الله بن محمد العَيْشي، حدثني إسماعيل بن عمرو البَجَلي، عن حِبّان بن علي العَنَزِي، عن سعد بن طَرِيف، عن الأصبَغ بن نُباتة، قال: شهدتُ عليًّا يومَ صِفّين، وهو يقول: من يُبايعُني على الموت - أو قال: على القَتل - فبايعَه تسعٌ وتسعون، قال: فقال: أين التَّمّامُ؟ أين الذي وُعِدتُ به؟ قال: فجاء رجلٌ عليه أطمارُ صُوفٍ مَحلوقُ الرأس، فبايعَه على الموت والقَتْل، قال: فقيل: هذا أُوَيسٌ القَرَني، فما زال يحاربُ بين يدَيه حتى قُتِل ﵁ (2) . قال الحاكم: وقد صحتِ الروايةُ بذلك عن أمير المؤمنين عمر بن الخطاب ﵁ عن رسول الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5718 - سنده ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5718 - سنده ضعيف
اصبع بن نباتہ فرماتے ہیں: میں جنگ صفین کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ کہہ رہے تھے: کون کون شخص موت پر میری بیعت کرے گا؟ (راوی کو شک ہے کہ یہاں پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے موت کا لفظ بولا یا قتال کا)۔ 99 آدمیوں نے ان کی بیعت کی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمام کہاں ہے؟ وہ شخص کہاں ہے جس کے بارے میں مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا، اس کے بعد منڈے ہوئے سر والا، بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس ایک آدمی ان کے پاس آیا، اس نے موت اور قتل پر ان کی بیعت کی۔ راوی کہتے ہیں۔ وہ سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ تھے۔ اس دن سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ مسلسل جنگ کرتے رہے حتی کہ شہید ہو گئے۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: اس بارے میں امیرالمومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5823]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5823 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده تالفٌ، الأصبغ بن نُباتة وسعد بن طريق متروكان، وإسماعيل بن عمرو البَجَلي وحِبّان بن علي العَنَزي مُختلف فيهما وهما إلى الضعف أقرب. وقد ضعّف إسناده الذهبيُّ في "تلخيصه". وأخرجه ابن العَديم في "بُغية الطلب في تاريخ حلب" 1/ 312 من طريق محمد بن عيسى الأنصاري وهو ابن السكن الواسطي - عن عبيد الله بن محمد التيمي، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند یکسر تباہ حال (تالف) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں اصبغ بن نباتہ اور سعد بن طریف "متروک" (چھوڑے ہوئے) راوی ہیں۔ اسماعیل بن عمرو البجلی اور حبان بن علی العنزی کے بارے میں اختلاف ہے، لیکن یہ دونوں بھی ضعف (کمزوری) کے زیادہ قریب ہیں۔ ذہبی نے بھی "تلخیص" میں اس سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن العدیم نے "بُغية الطلب في تاريخ حلب" (1/ 312) میں محمد بن عیسیٰ الانصاری (ابن السکن الواسطی) کے واسطے سے عبیداللہ بن محمد التیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔