🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

600. ذِكْرُ مَنَاقِبِ مُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ -
سیدنا معاذ بن عمرو بن الجموح رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5907
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني عطاء بن أبي رَبَاح، عن صفوان بن عبد الله بن صفوان، عن عَمَّيه يعلى وسَلَمة ابنيّ أُميّة، قالا: خَرَجْنا مع رسول الله ﷺ في غزوة تَبوكَ ومعنا صاحبٌ لنا، فقاتَلَه رجلٌ فعضَّ ذِراعَه، فاجتذَبَها من فيه، [فسقَطَتْ ثَنِيَّتاهُ] (1) فذهب إلى رسولِ الله ﷺ يَلتمِسُ العَقْلَ، فقال رسول الله ﷺ:"ينطلقُ أحدُكم إلى أخيه فيَعَضُّه كعَضِيض الفَحْل، ثم يأتي بعدَ ذلك يلتمِسُ العَقْلَ؟! انطَلِقُ، فلا عَقْلَ لك"، فأبطَلَها رسولُ الله ﷺ (2) . ذكرُ مناقب معاذ بن عَمرو بن الجَمُوح ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5791 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
امیہ کے بیٹے یعلیٰ اور سلمہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوئے، ہمارے ساتھ ہمارا ساتھی بھی تھا۔ ایک آدمی کے ساتھ اس کی مڈبھیڑ ہو گئی، اس نے دوسرے آدمی کی زرہ کو دانتوں کے ساتھ پکڑ لیا، اس نے زرہ کھینچی تو اس کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے، یہ شخص دیت کا مطالبہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک آدمی اپنے بھائی کے پاس جاتا ہے جانوروں کی طرح اس کو کاٹتا ہے، پھر ہمارے پاس دیت لینے کے لئے چلا آتا ہے، تو یہاں سے چلا جا، تیرے لئے دیت نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کالعدم قرار دے دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5907]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5908
حدثنا أبو بكر بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبَيري قال: ومن بني جُشَم بن الخَزْرج، ثم من بني سَلَمة بن سعد بن سارِدةَ بن تَزِيدَ بن جُشَمَ: معاذٌ ومُعوذٌ وخلّادٌ بنو عَمرو بن الجَمُوح بن زيد بن حَرَام بن كعب، وشَهِدَ بدرًا، وقَتَلَ أبا جَهْل، وقَطَع (1) عِكرمةُ بن أبي جهل يدَه، فعاشَ إلى زمن عثمان، وأمُّه هندُ بنت عَمرو بن ثَعْلبة بن حَرَام، وعمُّه جابر بن عبد الله الأنصاري، عَقَبيٌّ بَدْري (2) .
مصعب بن عبداللہ زبیری کہتے ہیں: بنی جشم بن خزرج میں سے پھر بنی سلمہ بن سعد بن ساردہ بن یزید بن جشم میں سے عمرو بن جموح بن زید بن حرام بن کعب کے بیٹے معاذ، معوذ اور خلاد تھے، یہ لوگ جنگ بدر میں شریک ہوئے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کو قتل کیا، اور سیدنا عکرمہ بن ابی جہل نے ان کا ہاتھ کاٹ دیا تھا، یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت تک زندہ رہے۔ ان کی والدہ ہند بنت عمر بن ثعلبہ بن حرام ہیں، ان کے چچا سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری عقبی، بدری صحابی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5908]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5909
أخبرنا أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خليفة بن خيّاط، قال: ومعاذ بن عمرو بن الجَمُوح أصابتْه نَكْبةٌ يوم بدرٍ، فبقي عَلِيلًا إلى عهد عثمان، ثم توفي بالمدينة سنة أربعٍ وعشرين (1) ، وصلَّى عليه عثمان بن عفّان، ودُفن بالبَقِيع.
خلیفہ بن خیاط بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کو جنگ بدر میں ایک زخم لگا تھا، اس کی وجہ سے آپ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے تک مسلسل علیل رہے، 14 ہجری کو آپ کا وصال ہوا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5909]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں