المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
623. ذِكْرُ مَقْتَلِ مَرْحَبٍ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں مرحب کے قتل کا بیان
حدیث نمبر: 5954
حدثني علي بن عيسى الحِيري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، أخبرنا ابن أبي عُمر، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، سمعتُ جابر بن عبد الله الأنصاري يقول: بَعَثَني عثمانُ في خمسين فارسًا إلى ذي خُشُب، وأميرُنا محمد بن مَسلَمة الأنصاري، قال: فجاء رجلٌ في عُنقِه مُصحفٌ، وفي يده سيفٌ وعيناهُ تَذْرِفان، فقال: إنَّ هذا يأمُرُنا أن نَضْرِبَ بهذا على ما في هذا! فقال له محمد بن مَسلَمة: اجلِسْ؛ قد ضَرَبْنا بهذا على ما في هذا قبل أن تُولَد، فلم يَزَلْ يُكلِّمه حتى رَجَع (1) . صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5842 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5842 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے پچاس شہسواروں کے ہمراہ ذی خشب کی جانب بھیجا، اس موقع پر محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے امیر تھے۔ ایک آدمی آیا، اس کے گلے میں قرآن کریم تھا اور اس کے ہاتھ میں تلوار تھی، اور آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ وہ کہنے لگا: بے شک یہ (قرآن کریم) ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم اس کے احکام پر عمل کریں۔ محمد بن مسلمہ نے اس سے کہا: بیٹھ جا، ہم تیرے پیدا ہونے سے بھی پہلے سے اس پر عمل کر رہے ہیں: آپ یہ بات مسلسل دہراتے رہے حتی کہ وہ شخص واپس چلا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5954]
حدیث نمبر: 5955
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني أبو ليلى عبد الله بن سهل أحدُ بني حارثة، عن جابر بن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن لِهذا الخَبِيثِ مَرحَبٍ؟" فقال محمد بن مَسلَمة: أنا يا رسول الله، فقال:"قُمْ إليه، اللهم أعِنْهُ" فقام محمد بن مَسلَمة. قال: جابرٌ: فواللهِ ما رأيت حَرْبًا بين رجُلَين شهدتُه مثلَها؛ لما دَنَا أحدُهما من صاحِبِهِ وَقَعَت بينهما شَجَرةٌ، فجعَل أحدُهما يَلُوذُ بها من صاحبِه، فإذا استَتَر منها بشيءٍ، وجَدَّ صاحِبُه ما يَلِيه منها حتى يَخلُصَ إليه، فما زالا يَتحَرّفانِه بأسيافِهما، فضربَ محمدُ بن مَسْلَمة سيفَه بالدَّرَقة، فوقع فيها سيفُه ولم يَقدِر مَرحَبٌ أَن يَنزِعَ سيفَه، فضربَه محمدٌ فقتَلَه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، على أنَّ الأخبارَ مُتواترةٌ بأسانيدَ كثيرةٍ أنَّ قاتلَ مَرحَبٍ أميرُ المؤمنين عليُّ بن أبي طالب ﵁، فمنها:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، على أنَّ الأخبارَ مُتواترةٌ بأسانيدَ كثيرةٍ أنَّ قاتلَ مَرحَبٍ أميرُ المؤمنين عليُّ بن أبي طالب ﵁، فمنها:
سیدنا جابر بن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس مرحب خبیث کا قصہ کون تمام کرے گا؟ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی طرف پیش قدمی کرو، یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا دی ” اے اللہ! اس کی مدد فرما “ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس کی جانب بڑھے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خدا کی قسم! میں نے ان دونوں جیسی لڑائی کبھی نہیں دیکھی، ان دونوں میں سے کوئی بھی جب دوسرے کے قریب آتا تو ان کے درمیان جھڑپ ہو جاتی، ایک، دوسرے پر حملہ کرتا اور دوسرا اس کے حملے سے اپنا بچاؤ کرتا، کافی دیر تک ان دونوں کی تلواریں آپس میں ٹکراتی رہیں اور چھنچھناہٹ کی آوازیں آتی رہیں، پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ڈھال پر ایک زور دار ضرب لگائی جو زرہ کو چیرتی ہوئی اس کے سر کو کاٹ گئی، مرحب اس سے اپنا بچاؤ نہ کر سکا اور محمد بن مسلمہ کے ہاتھوں واصل جہنم ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور کثیر اسناد کے ہمراہ ایسی احادیث حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں جن میں یہ تصریح ہے کہ مرحب کو امیرالمومنین سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ ان میں سے ایک حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5955]