المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
661. ذكر مناقب المنكدر بن عبد الله أبى محمد القرشي
سیدنا منذر بن عبد الله ابو محمد قرشی کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6035
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد (2) البغدادي، حَدَّثَنَا أبو الزِّنْباع رَوْح بن الفَرَج، حَدَّثَنَا يحيى بن بُكَير، حَدَّثَنَا رِشْدِين بن سعْد وابنُ لَهِيعة، عن زُهْرة بن مَعبَد، عن جدِّه عبد الله بن هشام، قال: كنا مع رسول الله ﷺ، وهو آخِذٌ بِيَدِ عُمر بن الخطّاب، فقال عمرُ: واللهِ يا رسولَ الله، إنَّكَ لأَحَبُّ إليَّ من كل شيءٍ إِلَّا نفْسي، فقال النَّبِيُّ ﷺ:"لا والذي نَفْسي بيده، حتَّى أكونَ أحبَّ إليك من نَفْسِك" قال عمر: فأنتَ الآن أحبُّ إليَّ من نَفْسي، فقال رسول الله ﷺ:"الآنَ يا عمرُ" (3) . ذكرُ مناقب المُنكَدِر بن عبد الله أبي مُحمدٍ القُرَشي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5922 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5922 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
زہرہ بن معبد اپنے دادا عبداللہ بن ہشام کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ (وہ فرماتے ہیں کہ) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی قسم! آپ مجھے کائنات کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں، سوائے میری جان کے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر اب ٹھیک ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6035]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6035 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: أحمد، والمثبت على الصواب من سائر المواضع الكثيرة التي روى بها المصنِّف أخبارًا بهذا الإسناد.
🔍 فنی نکتہ: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "احمد" ہو گیا تھا۔ درست نام وہ ہے جسے ہم نے یہاں ثبت کیا ہے، جیسا کہ مصنف نے دیگر بہت سے مقامات پر اسی سند سے روایات لی ہیں۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسنٌ إن شاء الله، فرِشدين وابن لهيعة - وإن كان فيهما مقال - تابع أحدهما الآخَر، وقد تابعهما حَيْوة بن شُريح، وهو ثقة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس کی سند ان شاء اللہ "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: اگرچہ راوی "رشدین" اور "ابن لہیعہ" دونوں میں کچھ کلام (جرح) ہے، لیکن ان دونوں نے ایک دوسرے کی متابعت کی ہے (یعنی دونوں سے مروی ہے)۔ مزید برآں، "حیوۃ بن شریح" نے بھی ان کی متابعت کی ہے اور وہ "ثقہ" راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 29/ (18047) و 31/ (18961) عن قتيبة بن سعيد، و 37/ (22503) عن حسن بن موسى، كلاهما عن ابن لَهِيعة وحده، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (29/ 18047 اور 31/ 18961) قتیبہ بن سعید سے، اور (37/ 22503) حسن بن موسیٰ سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں حضرات اسے تنہا "ابن لہیعہ" سے روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه البخاري (3694) و (6264) و (6632) من طريق حَيْوة بن شُريح، عن أبي عَقيل زُهْرة بن مَعْبَد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (رقم 3694، 6264، 6632) حیوۃ بن شریح کے طریق سے ابو عقیل زہرہ بن معبد سے روایت کیا ہے۔