🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

926. ذِكْرُ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6680
أخبرني أبو جعفر محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا محمد بن عمرو ابن خالد الحرَّاني، حدثني أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، عن صالح بن أبي عَريب، عن خلَّاد بن السائب قال: دخلتُ على أسامةَ بن زيد فمَدَحني في وجهي، فقال: إنه حَمَلني أن أمدحَك في وجهك، أنِّي سمعتُ النبيَّ ﷺ يقول:"إذا مُدِحَ المُؤمِنُ في وجهِه، رَبَا الإيمانُ في قلبه" (1) . ذكرُ أبي رافع مولى رسول الله ﵁-
سیدنا خلاد بن سائب فرماتے ہیں: میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے میرے منہ پر میری تعریف کی، اور فرمایا: میں تمہاری تعریف تمہارے منہ پر اس لئے کر رہا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب مومن کے سامنے اس کی تعریف کی جائے تو اس کے دل کے اندر ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6680]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6681
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي (2) ، قال: كان أبو رافع مولى رسول الله ﷺ للعبّاس بن عبد المُطَّلب، فلمّا أسلم العباس وَهَبَه للنبيِّ ﷺ، وكان اسمُه أسلمَ، ويقال: إبراهيم، وأسلمَ قبلَ بدر، ولكنَّه كان مقيمًا بمكةَ مع العبّاس، ومات بعدَ مَقتَل عثمان سنةَ خمسٍ وثلاثين.
ابراہیم بن اسحاق حربی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابورافع، سیدنا عباس بن عبدالمطلب کے غلام تھے، جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو انہوں نے یہ غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں دے دیا، ان کا اصل نام اسلم ہے۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ ان کا نام ابراہیم ہے۔ آپ جنگ بدر سے پہلے اسلام لائے تھے، لیکن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مکہ شریف میں ہی مقیم تھے، سیدنا عثمان کی شہادت کے بعد سن 35 ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6681]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6682
أخبرني أبو عبد الله محمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا أحمد بن نَجْدة، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا قيس بن الرَّبيع، عن أبي خالد يزيدَ بن عبد الرحمن، عن عبد الرحمن بن عبد الله مولى عليٍّ، عن أبي رافع قال: بَعَث النبيُّ ﷺ عليًّا إلى، اليمن، فعَقَدَ له لِواءً، فلمّا مضى قال:"يا أبا رافع، الحَقْه ولا تَدْعُه مِن (3) خلفِه، وليَقِفْ ولا يَلتفتْ حتى أَجيئَه" فأتاه فأوصاه بأشياءَ، فقال:"يا عليُّ، لَأن يهديَ الله على يديك رجلًا، خيرٌ لك ممّا طَلَعَت عليه الشمسُ" (4) .
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب روانہ فرمایا اور علم بھی ان کو عطا فرمایا۔ جب آپ روانہ ہوئے تو (مجھے) فرمایا: اے ابورافع! اس کے ساتھ شامل ہو جا اور اس کو چھوڑ کر الگ نہ ہونا، اسی کے ساتھ رہنا، ادھر ادھر متوجہ نہیں ہونا، یہاں تک کہ میں ان کے پاس آ جاؤں، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور ان کو بھی کچھ نصیحتیں فرمائیں، پھر فرمایا: اے علی! تمہارے ذریعے اللہ تعالیٰ کسی شخص کو ہدایت عطا فرما دے، یہ تیرے لئے دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6682]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں