🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. النَّهْيُ عَنْ أَكْلِ الشَّرِيطَةِ
شریطہ (ناقص طریقے سے ذبح شدہ جانور) کھانے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7280
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا إسماعيل، أخبرنا عبد الرحمن بن إسحاق، حدثنا عبد الرحمن بن معاوية، عن عثمان بن أبي سليمان، عن صفوان بن أُمية (2) ، قال: رآني رسولُ الله ﷺ وأنا آخُذُ اللحمَ عن العَظْم بيدي، فقال لي:"يا صفوانُ" قلتُ: لبيك، قال:"قَرِّبِ اللحمَ من فيك، فإنه أهنأُ وأمرأُ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7103 - صحيح
صفوان بن امیہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا، میں ہاتھ کے ساتھ ہڈی سے گوشت توڑ توڑ کر کھا رہا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے صفوان! میں نے کہا: لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بوٹی اپنے منہ سے توڑ کر کھاؤ۔ کیونکہ اس طرح بوٹی لذیذ لگتی ہے، اور کھانا صحیح فائدہ دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7280]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7281
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا نُعَيم بن حمّاد، حدثنا ابن المبارك، أخبرنا مَعمَر، عن عمرو، عن عِكْرمة، عن أبي هريرة وابن عباس، عن النبيِّ ﷺ قال:"لا تأكلِ الشَّريطةَ، فإنها ذَبيحةُ الشيطان" (1) . قال ابن المبارك: والشَّريطةُ: أن تُخرِجَ الروحَ منه بشَرطٍ من غير قطعِ حُلقومٍ.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7104 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شریطہ مت کھاؤ، کیونکہ یہ شیطان کا ذبیحہ ہے۔ ابن مبارک کہتے ہیں: شریطہ یہ ہے کہ جانور کا حلقوم کاٹے بغیر کسی اور طریقے سے اس کی جان نکل جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 7281]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں