المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. النهي عن أكل الشريطة
شریطہ (ناقص طریقے سے ذبح شدہ جانور) کھانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 7280
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا إسماعيل، أخبرنا عبد الرحمن بن إسحاق، حدثنا عبد الرحمن بن معاوية، عن عثمان بن أبي سليمان، عن صفوان بن أُمية (2) ، قال: رآني رسولُ الله ﷺ وأنا آخُذُ اللحمَ عن العَظْم بيدي، فقال لي:"يا صفوانُ" قلتُ: لبيك، قال:"قَرِّبِ اللحمَ من فيك، فإنه أهنأُ وأمرأُ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7103 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7103 - صحيح
صفوان بن امیہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا، میں ہاتھ کے ساتھ ہڈی سے گوشت توڑ توڑ کر کھا رہا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے صفوان! میں نے کہا: لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بوٹی اپنے منہ سے توڑ کر کھاؤ۔ کیونکہ اس طرح بوٹی لذیذ لگتی ہے، اور کھانا صحیح فائدہ دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7280]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7280 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: صفوان بن أبي أمية.
📌 اہم نکتہ: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "صفوان بن ابی امیہ" ہو گیا ہے۔
(3) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الرحمن بن معاوية - وهو الزُّرقي - ولانقطاعه، فعثمان بن أبي سليمان لم يسمع من صفوان بن أمية. وله طريقان آخران ضعيفان، كذلك، ولكن بمجموعها يحسن الحديث إن شاء الله كما قال الحافظ ابن حجر في "الفتح" 16/ 430.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "حسن لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ مخصوص سند عبد الرحمن بن معاویہ الزرقی کے ضعف اور "انقطاع" کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ عثمان بن ابی سلیمان کا صفوان بن امیہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ اس کے دو مزید ضعیف طرق بھی ہیں، مگر حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (16/ 430) میں فرمایا ہے کہ ان تمام طرق کے مجموعے سے یہ حدیث "حسن" ہو جاتی ہے۔
وأخرجه أحمد 24/ (15309) و 45/ (27634) من طريق عبد الرحمن بن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (24 / 15309 اور 45 / 27634) نے عبد الرحمن بن اسحاق کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 24/ (15300) و 45/ (27634)، والترمذي (1835) من طريق عبد الكريم بن أبي المخارق، عن عبد الله بن الحارث، عن صفوان بن أمية. بلفظ: "انهسوا اللحم نهسًا، فإنه أهنأ وأمرأ". وابن أبي المخارق ضعيف الحديث. وأخرجه الطبراني في "الكبير" (7331) من طريق يوسف بن حماد المعني، عن عثمان بن عبد الرحمن، عن محمد بن الفضل بن العباس، عن صفوان بن أمية به. ولفظه كسابقه، وعثمان بن عبد الرحمن وشيخه محمد بن الفضل ضعيفان.
🧾 تفصیلِ روایت: اسے امام احمد (24/ 15300)، ترمذی (1835) اور طبرانی (7331) نے روایت کیا ہے جس کے الفاظ ہیں: "گوشت کو نوچ کر کھایا کرو کیونکہ یہ زیادہ خوشگوار اور ہضم ہونے والا ہے"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ان طرق میں عبد الکریم بن ابی المخارق، عثمان بن عبد الرحمن اور محمد بن الفضل سب کے سب ضعیف راوی ہیں۔
وله شاهد من حديث عائشة عند أبي داود (3778)، وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی ایک شاہد روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابو داؤد (3778) میں مروی ہے، مگر اس کی سند بھی ضعیف ہے۔
ويشهد له من فعله ﷺ ما رواه البخاري (3340)، ومسلم (194) من حديث أبي هريرة: كنا مع النبي ﷺ في دعوة، فرُفعت إليه ذراع - وكانت تعجبه - فنهس منها نهسة.
🧩 متابعات و شواہد: آپ ﷺ کے عمل سے اس کی تائید حضرت ابوہریرہ کی حدیث سے ہوتی ہے جو بخاری (3340) اور مسلم (194) میں ہے: "ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک دعوت میں تھے، آپ ﷺ کی خدمت میں دستی کا گوشت پیش کیا گیا جو آپ کو پسند تھا، تو آپ ﷺ نے اس سے ایک بار نوچ کر کھایا"۔
ومن حديث ضُباعة بنت الزبير، سلف عند المصنف برقم (7095).
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح حضرت ضُباعہ بنت زبیر کی حدیث بھی شاہد ہے جو رقم (7095) پر گزر چکی ہے۔