المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. النَّهْيُ عَنْ أَكْلِ الشَّرِيطَةِ
شریطہ (ناقص طریقے سے ذبح شدہ جانور) کھانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 7281
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا نُعَيم بن حمّاد، حدثنا ابن المبارك، أخبرنا مَعمَر، عن عمرو، عن عِكْرمة، عن أبي هريرة وابن عباس، عن النبيِّ ﷺ قال:"لا تأكلِ الشَّريطةَ، فإنها ذَبيحةُ الشيطان" (1) . قال ابن المبارك: والشَّريطةُ: أن تُخرِجَ الروحَ منه بشَرطٍ من غير قطعِ حُلقومٍ.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7104 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7104 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شریطہ (ذبیحہ) مت کھاؤ، کیونکہ وہ شیطان کا ذبیحہ ہے۔“ ابن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”شریطہ“ سے مراد یہ ہے کہ جانور کے حلقوم (سانس اور کھانے کی نالی) کو مکمل طور پر کاٹے بغیر محض کھال پر کٹ لگا کر اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ اسی زخم سے اس کی جان نکل جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7281]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7281]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عمرو» [ترقيم الرساله 7281] [ترقيم الشركة 7199] [ترقيم العلميه 7104]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7281 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف عمرو - وهو ابن عبد الله بن الأسوار اليماني - ونعيم بن حماد متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عمرو بن عبد اللہ الیمانی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، البتہ نعیم بن حماد کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2618)، وأبو داود (2826)، وابن حبان (5888) من طرق عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد. ولم يذكر ابن حبان في روايته ابنَ عباس، ونقل عن عكرمة تفسيره للشريطة: أنهم كانوا يقطعون منها الشيء اليسير، ثم يدعونها حتى تموت ولا يقطعون الوَدَجَ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (4/ 2618)، ابو داؤد (2826) اور ابن حبان (5888) نے عبد اللہ بن المبارک کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابن حبان نے اپنی روایت میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا، اور عکرمہ سے "شریطہ" کی تفسیر نقل کی ہے کہ: "لوگ جانور کا تھوڑا سا حصہ کاٹ کر اسے مرنے کے لیے چھوڑ دیتے تھے اور گردن کی رگیں (ودج) مکمل نہیں کاٹتے تھے"۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7281 in Urdu