المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ
والد جنت کے دروازوں میں سے بہترین (درمیان والا) دروازہ ہے
حدیث نمبر: 7437
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد القَنطَري، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم، عن سفيان. وأخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو قال: جاء رجلٌ إلى النبيِّ ﷺ فقال: إنِّي جئتُ أبايعُك على الهجرة وتركتُ أبوَيَّ يبكيان، قال:"فارجعْ إليهما، فأَضحِكْهما كما أبكَيتَهما" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7250 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7250 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی: میں آپ کے پاس ہجرت پر بیعت کرنے کے لئے آیا ہوں اور میں اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑ کر آ گیا ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو واپس لوٹ جا، اور جیسے تو نے ان کو رلایا ہے اسی طرح ان کو خوش کر۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7437]
حدیث نمبر: 7438
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن قال: تزوَّج رجلٌ، فكَرِهَت أُمُّه ذلك، فجاء يسأل أبا الدرداء، فقال: أطِعِ المرأة، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الوالدةُ أوسَطُ أبوابِ الجنَّة"، فأضِعْ ذلك أو احفَظْ (1) . رواه شُعْبةُ عن عطاء بن السائب مفسَّرًا بالشرح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7251 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7251 - صحيح
ابوعبدالرحمن فرماتے ہیں: ایک آدمی کی شادی ہوئی، لیکن اس کی والدہ کو یہ شادی پسند نہ تھی، وہ سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لئے گیا، سیدنا ابوالدرداء نے فرمایا: اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اپنی ماں کی فرمانبرداری کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرمائے ہوئے سنا ہے کہ ” والدہ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، چاہے تو اس کو ضائع کر لے اور چاہے تو اس کی حفاظت کر لے “۔ ٭٭ شعبہ نے عطاء بن سائب سے یہ حدیث تفصیل کے ساتھ روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7438]
حدیث نمبر: 7439
أخبَرناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن: أنَّ رجلًا أمَرَه أبَوَاه - أو أحدُهما - أن يُطلِّقَ امرأتَه، فجعل ألفَ محرَّر - أو قال: مئة محرَّر (2) - وماله هَدْيًا إن فَعَلَ، فأتى أبا الدرداء، فذكر أنه صلَّى الضُّحى ثم سأله فقال: أَوْفِ بنَذْرك، وبِرَّ والدَيكَ، فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الوالدُ أوسَطُ أبواب الجنَّة"، فإن شئتَ فحافِظْ على الباب أو اترُكْ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7252 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7252 - صحيح
ابوعبدالرحمن کہتے ہیں: ایک آدمی کو اس کے ماں باپ نے یا ان میں سے کسی ایک نے حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے، اور کہا کہ اگر وہ اس کو طلاق دے گا تو اس کو ایک ہزار یا ایک سو غلام اور بہت سارا مال ہدیہ دیا جائے گا۔ وہ شخص سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لئے آیا، انہوں نے کہا: انہوں نے چاشت کی نماز پڑھ کر ان سے مسئلہ پوچھا: سیدنا ابولدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنی قسم کو پورا کر اور اپنے ماں باپ کی بات مان۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے چاہے تو اس کی حفاظت کر لے یا چھوڑ دے “۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7439]