المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. لَعَنَ اللَّهُ الْعَاقَّ لِوَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مُنْتَقِصَ مَنَارِ الْأَرْضِ
اللہ نے والدین کے نافرمان پر اور زمین کی حدود مٹانے والے پر لعنت فرمائی ہے
حدیث نمبر: 7440
أخبرني الحسن بن حَليم (4) المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرني ابن أبي ذئب، حدثني خالي الحارث بن عبد الرحمن، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن أبيه قال: كانت تحتي امرأةٌ تُعجبني، وكان عمرُ يكرهُها، فقال لي: طلِّقْها، فأَبيتُ، فأتى عمرُ رسولَ الله ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، إنَّ عند عبد الله بن عمر امرأةً قد كرهتُها، فأمرتُه أن يُطلِّقَها فأَبى، فقال لي رسول الله ﷺ:"يا عبدَ الله بنَ عمر، طلِّقِ امرأتَك، وأطِعْ أباك"، قال عبدُ الله: فطلَّقتُها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7253 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7253 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے نکاح میں تھی، مجھے اس سے بہت پیار تھا، جبکہ میرے والد محترم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو بہت ناپسند کرتے تھے، والد صاحب نے مجھے فرمایا: تو اس کو طلاق دے دے۔ میں نے انکار کر دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن عمر کے پاس ایک عورت ہے (جو کہ اس کی بیوی ہے) وہ مجھے اچھی نہیں لگتی، میں نے اسے طلاق دینے کو کہا تو عبداللہ نے انکار کر دیا۔ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اپنے والد کی اطاعت کر۔ سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں: میں نے اس کو طلاق دے دی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7440]
حدیث نمبر: 7441
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا أحمد بن يحيى بن إسحاق الحُلْواني، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن العلاء، عن أبيه، عن هانئ مولى عليِّ بن أبي طالب، أنَّ عليًّا قال: يا هانئ، ماذا يقول الناسُ؟ قال: يَزعمون أنَّ عندك علمًا من رسول الله ﷺ لا تُظهِرُه، قال: دون الناس؟ قال: نعم، قال: أَرِني السيفَ، فأعطيتُه (2) السيفَ، فاستخرج منه صحيفةً فيها كتابٌ، قال: هذا ما سمعتُ من رسول الله ﷺ قال: قال رسول الله ﷺ:"لَعَنَ اللهُ مَن ذَبَحَ لغير الله، ومن تولَّى غير مَواليهِ ولعنَ اللهُ العاقَّ لوالديه، ولعنَ الله مُنتقِصَ مَنارِ الأرض" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7254 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7254 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سیدنا ہانی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ہانی! لوگ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا علم ہے جس کو آپ ظاہر نہیں کرتے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سبھی لوگ کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے میری تلوار دو، میں نے ان کو تلوار دی، آپ نے اس میں سے ایک صحیفہ نکالا جس کے اندر کوئی تحریر موجود تھی۔ پھر فرمایا: یہ ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اس شخص پر جو ذبح کے وقت جانور پر غیراللہ کا نام لے، اور جو اپنے موالی کو چھوڑ کر دوسروں کو والی بنائے، اور اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے ماں باپ کے نافرمان پر اور اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اس پر جو زمین کی حدود کو توڑے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7441]
حدیث نمبر: 7442
أخبرني أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّي، حدثنا محمد بن الفَرَج، حدثنا حجَّاج بن محمد، حدثنا شُعبة، عن عطاء عطاء بن السائب، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو قال: جاء رجلٌ إلى النبيِّ ﷺ يُبايعُه على الهجرة [فقال: إنِّي جئت أبايعُك على الهجرة] (1) وتركتُ أبويَّ يبكيانِ، فقال:"ارجِعْ إليهما، فأضحِكْهما كما أبكيتَهما" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ہجرت پر بیعت کرنے کے لئے آیا اور کہا: میں آپ کی خدمت میں ہجرت پر بیعت کرنے کے لئے آیا ہوں۔ اور اپنے ماں باپ کو روتا ہوا چھوڑ آیا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو واپس چلا جا، اور جیسے ان کو رلایا ہے ویسے ہی ان کو ہنسا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7442]