المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. كُلُّ الذُّنُوبِ يُؤَخِّرُ اللَّهُ مَا شَاءَ مِنْهَا إِلَّا عُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ
اللہ تمام گناہوں کی سزا میں جس قدر چاہے تاخیر فرما دیتا ہے سوائے والدین کی نافرمانی کے
حدیث نمبر: 7449
[حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني] (2) عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه عن عائشة أنها قالت: قدمت امرأةٌ من أهل دُومةِ الجَندَل عليَّ، جاءت تبتغي رسولَ الله ﷺ بعد موته حَدَاثَةَ ذلك، تسألُه عن شيء دخلَتْ فيه من أمر السَّحَرة لم تَعمَلْ به. قالت عائشة لعُرْوة: يا ابنَ أختي، فرأيتُها تبكي حين لم تَجِدْ رسولَ الله ﷺ فيَشفِيها، تَبْكي حتى إنِّي لأَرحمُها وتقول: إني لأخافُ أن أكون قد هلكتُ، كان لي زوجٌ فغاب عنِّي فدخلَتْ عليَّ عجوزٌ فشكوتُ إليها، فقالت: إن فعلتِ ما آمرُكِ، فأجعلُه يأتيك، فلمّا كان الليلُ جاءتني بكلبينِ أسودين، فركبتُ أحدُهما وركبَتِ الآخرَ، فلم يكن لُبْثي حتى وقفنا ببابلُ، فإذا أنا برجلين مُعلَّقَين بأرجلهما، فقالا: ما جاء بكِ؟ فقلتُ: أتعلَّمُ السِّحر؟ فقالا: إنما نحن فتنةٌ، فلا تَكفُري وارجعي، فأبيتُ وقلتُ: لا، قالا: فاذهبي إلى ذلك التَّنُّور فبُولِي فيه، فذهبت وفزعتُ، فلم أفعل، فرجعتُ إليهما فقالا لي فعلتِ؟ قلتُ: نعم، قالا: هل رأيتِ شيئًا؟ قلتُ: لم أَرَ شيئًا، فقالا: لم تفعلي ارجِعي إلى بلادِك ولا تَكفُري، فأبَيتُ، فقالا: اذهبي إلى ذلك التَّنُّور فبُولِي فيه، فذهبتُ فاقشعرَّ جلدي وخفتُ، ثم رجعتُ إليهما فقلتُ: قد فعلتُ، فقالا: فما رأيتِ؟ فقلتُ: لم أرَ شيئًا، فقالا: كذبتِ، لم تفعلي، ارجِعي إلى بلادك ولا تَكفُري، فإنَّكِ على رأسِ أمرِك فأبَيتُ، فقالا: اذهبي إلى ذلك التَّنُّور فبُولِي فيه، فذهبتُ فبُلْتُ فيه، فرأيتُ فارسًا متقنِّعًا بحديد، خرج منِّي حتى ذهب في السماء، فغابَ عني حتى ما أَراه فأتيتُهما، فقلتُ: قد فعلتُ، فقالا: فما رأيتِ؟ قلتُ: رأيتُ فارسًا متقنِّعًا بحديد خرج مني فذهب في السماء، فغاب عني حتى ما أَرى شيئًا، قالا: صدقتِ، ذلك إيمانُك خرج منكِ، اذهبي. فقلتُ للمرأة: والله ما أعلمُ شيئًا، وما قالا لي شيئًا، فقالا (1) : بلى إن تريديَن شيئًا إلَّا كان، خُذي هذا القمحَ فابذُري، فبَذَرتُ، فقلتُ: اطلَعِي، فَطَلَعَتْ، وقلتُ: أَحقِلي، فأحقَلَتْ (2) ، ثم قلتُ: أفرِخي، فأفرَخَتْ، ثم قلتُ: أيبِسي، فأيبسَتْ (3) ، ثم قلتُ: اطَّحِني، فاطَّحَنَتْ، ثم قلتُ: أَخبِزي، فأخبَزَت. فلمَّا رأيتُ أَنِّي لا أريدُ شيئًا إلَّا كان، سُقِطَ في يدي ونَدِمتُ واللهِ يا أمَّ المؤمنين ما فعلتُ شيئًا قطُّ، ولا أفعلُه أبدًا. فسألتُ أصحابَ رسولِ الله ﷺ حداثة وفاةِ رسولِ الله ﷺ، وهم يومئذ متوافرون، فما دَرَوْا ما يقولون لها، وكلُّهم هابَ وخاف أن يُفتيَها بما لا يعلم، إلَّا أنهم قالوا لها: لو كان أبواكِ حيَّيْن أو أحدُهما، لكانا يكفيانِكِ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والغرضُ في إخراجه في هذا الموضع إجماعُ الصحابة حِدثْانَ وفاةِ رسول الله ﷺ أن الأبوين يَكفِيانِها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7262 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والغرضُ في إخراجه في هذا الموضع إجماعُ الصحابة حِدثْانَ وفاةِ رسول الله ﷺ أن الأبوين يَكفِيانِها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7262 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے کہ دومۃ الجندل کی ایک خاتون حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لئے میرے پاس آئی، اس پر جادو کے کچھ اثرات تھے اور وہ اسی بارے میں آپ سے پوچھنے آئی تھی، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عروہ سے کہا: اے میرے بھانجے! جب اس کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو حیات نہیں ہیں جہاں سے اس کو شفا ملنا تھی، اس وقت اس کے رونے کی کیفیت کو میں نے دیکھا ہے، مجھے اس پر بہت رحم آ رہا تھا، وہ کہہ رہی تھی: مجھے خدشہ ہے کہ میں ہلاک ہو گئی ہوں، میرا شوہر کافی عرصہ سے غائب تھا، ایک بوڑھی خاتون میرے پاس آئی تو میں نے اس کو اپنی پریشانی بتائی، اس نے کہا: اگر تم میری بات مانو گی تو تیرا شوہر واپس آ جائے گا۔ (اس وقت تو وہ خاتون چلی گئی) اور رات کے وقت دوبارہ آ گئی وہ اپنے ساتھ کالے رنگ کے دو کتے لے کر آئی، ایک پر میں سوار ہو گئی اور دوسرے پر وہ۔ یہ کتے چلتے چلتے بابل میں پہنچ گئے، وہاں دو آدمی الٹے لٹکائے ہوئے تھے: وہ پوچھنے لگے: تم کیا کرنے آئی ہو؟ میں نے کہا: جادو سیکھنے کے لئے، انہوں نے کہا: ہم تو آزمائش ہیں، تم کفر مت کرو اور واپس چلی جاؤ، میں نہ مانی، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، اس تنور کے پاس جاؤ اور اس میں پیشاب کر کے آؤ، میں وہاں گئی، مجھے ڈر لگنے لگا، میں گھبرا کر واپس آ گئی، انہوں نے پوچھا: تو نے پیشاب کر دیا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے پوچھا: تجھے کوئی چیز دکھائی دی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: تو نے پیشاب ہی نہیں کیا۔ تو واپس اپنے وطن چلی جا اور کفر مت کر۔ لیکن میں پھر نہ مانی، انہوں نے پھر کہا: کہ اس تنور میں پیشاب کر کے آؤ، میں پھر گئی، لیکن خوف کی وجہ سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، (اب بھی میں پیشاب کئے بغیر) واپس چلی گئی۔ انہوں نے پوچھا: تو نے کچھ دیکھا؟ میں نے کہا: میں نے تو کچھ نہیں دیکھا، انہوں نے کہا: تو جھوٹ بول رہی ہے، تو نے پیشاب نہیں کیا، تو اپنے وطن واپس چلی جا اور کفر مت کر۔ یہ تیرے بس کی بات نہیں ہے۔ میں پھر نہ مانی، انہوں نے کہا: جا اس تنور میں پیشاب کر کے آ، میں گئی اور اس کنویں میں پیشاب کر دیا۔ میں نے دیکھا کہ لوہے میں لپٹا ہوا ایک گھڑ سوار شخص میرے اندر سے نکلا اور آسمانوں کی جانب پرواز کر گیا اور میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا، میں لوٹ کر ان لوگوں کے پاس آئی، اور ان کو بتایا کہ میں نے پیشاب کر دیا ہے، انہوں نے پوچھا: تو پھر تو نے کیا دیکھا؟ میں نے کہا: میں نے لوہے میں ڈوبا ہوا، ایک گھڑ سوار دیکھا ہے، جو میرے اندر سے نکلا ہے اور آسمانوں کی طرف جا کر غائب ہو گیا، انہوں نے کہا: اب تو سچ کہہ رہی ہے۔ وہ تیرا ایمان تھا جو تجھ سے روانہ ہو گیا، اب تو چلی جا، میں نے اس عورت سے کہا: اللہ کی قسم! مجھے کسی چیز کا پتا نہیں چلا اور نہ ہی انہوں نے مجھے کچھ بتایا ہے۔ ان لوگوں نے کہا: کیوں نہیں؟ اب جو چاہے گی وہی ہو گا، (تجربے کے طور پر) یہ گندم کا دانہ لے اور اس کو کاشت کر دے، میں نے اس کو کاشت کیا اور اس کو کہا: اگ۔ تو وہ اگ آیا۔ میں نے کہا: بالی نکال، اس نے بالی نکال لیا، میں نے کہا: بڑا ہو جا، وہ بڑا ہو گیا، میں نے کہا: پھل نکال، اس نے پھل نکال لئے، میں نے کہا: پھل بڑھا، اس نے پھل بڑھا دیئے، میں نے کہا: پک جا، وہ پک گئے، میں نے کہا: آٹا بن جا، وہ آٹا بن گیا، میں نے کہا: روٹی بن جا، تو وہ روٹی بن گئی۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ میں جس چیز کا ارادہ کرتی ہوں وہ ہو جاتی ہے، تو میں بہت نادم ہوئی۔ اللہ کی قسم! اے ام المومنین! میں نے اس میں سے کچھ بھی نہیں کیا اور نہ کبھی کروں گی، میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے واقعہ کے بارے میں پوچھا، اس وقت صحابہ کرام کی تعداد بہت زیادہ تھی، لیکن کسی کو سمجھ نہ آئی کہ وہ میرے معاملے میں کیا فتویٰ دیں۔ اور وہ لوگ بغیر علم کے فتویٰ دینے سے بہت گھبراتے تھے، البتہ انہوں نے یہ کہا کہ اگر تیرے ماں باپ یا ان دونوں میں سے کوئی ایک زندہ ہوتا تو تیرا مسئلہ حل ہو جاتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ (امام حاکم کہتے ہیں) اس حدیث کو اس مقام پر ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت صحابہ کرام کا اس بات پر اجماع تھا کہ اس خاتون کو اس کے ماں باپ کافی تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7449]
حدیث نمبر: 7450
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العدل - رحمه الله تعالى - وعبد الله بن الحسين القاضي، قالا: حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا محمد بن عيسى بن الطبّاع، حدثنا بكّار بن عبد العزيز بن أبي بَكْرة، قال: سمعتُ أبي يُحدِّث عن أبي بَكْرة قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"كلُّ الذنوب يُؤخِّرُ اللهُ ما شاءَ منها إلى يوم القيامة، إلَّا عُقوق الوالدين، فإنَّ الله تعالى يُعجِّلُه لصاحبِه في الحياة قبلَ المَمَات (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7263 - بكار بن عبد العزيز ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7263 - بكار بن عبد العزيز ضعيف
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر گناہ (کی سزا کو) قیامت تک کے لئے موخر کیا جا سکتا ہے لیکن ماں باپ کے نافرمان کی سزا اس کے مرنے سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7450]