🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. أَحَادِيثُ صِلَةِ الرَّحِمِ
صلہ رحمی (رشتہ داروں سے حسنِ سلوک) کی احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7451
...... (1) حدثنا أبو أحمد الزُّبيري، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: كانوا يكرهون أن يَرْضَخوا لأنسبائهم (2) وهم مشركون، فنزلت: ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ﴾ حتى بلغ: ﴿وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ﴾ [البقرة: 272 - 273] ، فرُخِّص لهم (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7264 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کو اپنے غیر مسلم رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک ناگوار گزرتا تھا، تب یہ آیت نازل ہوئی: لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (البقرہ: 272) انہیں راہ دینا تمہارے ذمہ لازم نہیں ہاں اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو اچھی چیز دو تو تمہارا ہی بھلا ہے اور تمہیں خرچ کرنا مناسب نہیں مگر اللہ کی مرضی چاہنے کے لئے اور جو مال دو تمہیں پورا ملے گا اور نقصان نہ دیئے جاؤ گے۔ (ترجمہ: کنزالایمان، امام احمد رضا) چنانچہ اس آیت کی وجہ سے ان کو (اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کی) رخصت دے دی گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7451]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7452
حدثنا أبو بكر أحمد بن....... (4) يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال:"قال الله ﷿: أنا الرحمنُ، وهي الرَّحِم، فمَن وَصَلَها وصلتُه، ومن قَطَعَها قطعتُه" (5) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رُوِيَ بأسانيد واضحة عن عبد الرحمن بن عَوف وسعيد بن زيد بن عمرو ابن نُفيل وعائشة وعبد الله (1) بن عمرو (2) . أما حديثُ سعيد بن زيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7265 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں رحمن ہوں، اور اس سے مراد رحم ہے۔ جس نے اس کو ملایا، میں اس کو ملاؤں گا، اور جس نے اسے توڑا، میں اسے توڑ دوں گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو واضح اسانید کے ہمراہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سعید بن زید بن عمرو بن نفیل، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا گیا ہے۔ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث درج ذیل ہے [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7452]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7453
فأخبرَناه أبو جعفر أحمد بن عُبيدٍ (3) الحافظ، أخبرنا إبراهيم بن الحسين. وأخبرني أبو محمد المُزَني، حدثنا علي بن محمد الجَكّاني (4) ؛ قالا: حدثنا أبو اليَمَان، حدثنا شعيب بن أبي حمزة، حدثنا عبد الله بن أبي الحسين، حدثنا نوفل بن مُساحِق، عن سعيد [بن زيد] (5) بن عمرو بن نُفيل، قال: قال رسول الله ﷺ:"الرَّحِمُ شُجْنةٌ من الرحمن، فمن وَصَلَها وصلَه الله، ومن قَطَعَها قطعَه اللهُ ﷿" (6) . أما حديث عبد الرحمن بن عَوف:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7266 - صحيح
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رحم اللہ تعالیٰ کا شجنہ (ٹہنی) ہے، جس نے اس کو ملایا، اللہ تعالیٰ اس کو ملائے گا اور جس نے اس کو توڑا، اللہ تعالیٰ اس کو توڑے گا۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث درج ذیل ہے [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7453]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7454
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا هشام الدَّستُوائي، عن يحيى بن أبي كثير، عن إبراهيم بن عبد الله بن قارِظ، أن أباه أخبره أنه دخل على عبد الرحمن بن عَوْف وهو مريضٌ، فقال له عبدُ الرحمن: وَصَلَتْك رَحِمٌ، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"قال الله ﷿: أنا الرحمنُ، وهي الرَّحِمُ، شَفَقتُ لها من اسمى، فمن وَصَلَها وصلتُه، ومن قَطَعَها قطعتُه، ومن يَبُتُّها أَبُتُّه" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7267 - صحيح
ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد محترم، سیدنا عبدالرحمن بن عوف کی عیادت کرنے کے لئے گئے، تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں رحمن ہوں، اور یہ رحم (رشتہ داریاں) ہیں۔ میں نے اسی سے اپنا نام نکالا ہے، لہٰذا جس نے اس (رشتہ داری) کو ملایا میں اس سے ملوں گا اور جس نے اس (رشتہ داری) کو توڑا میں اس کو (خود سے) دور کر دوں گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7454]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7455
وأخبرني محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، أخبرني الزُّهْري، حدثني أبو سَلَمة بن عبد الرحمن، أن ردَّادًا الليثيَّ أخبره عن عبد الرحمن بن عَوْف، أنه سمع رسولَ الله ﷺ يقول:"قال الله ﵎: أنا الرحمنُ، خلقتُ الرَّحِمَ وشَقَقتُ لها من اسمي، فمن وَصَلَها وصلتُه، ومن قَطَعَها بَتَتُّه" (2) . هذا أبو الردَّاد اللّيثي قد أضاف فيه (3) سفيان بن عُيينة ومحمد بن أبي عَتيق (4) وشعيب بن أبي حمزة وسفيان بن حسين. أما حديث ابن عيينة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7268 - صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں رحمن ہوں، میں نے رحم کو پیدا کیا، اور اپنے نام سے اس کا نام رکھا، لہٰذا جس نے اس کو ملایا، میں اس سے ملوں گا، اور جس نے اس کو توڑا، میں اس کو (اپنی رحمت سے) دور کر دوں گا۔ ٭٭ یہ ابورداد لیثی ہیں، انہوں نے اس اسناد میں سفیان بن عیینہ کا، محمد بن ابی عتیق کا، شعیب بن ابی حمزہ کا اور سفیان بن حسین کا اضافہ کیا ہے۔ ابن عیینہ سے مروی حدیث [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7455]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7456
فحدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق الإمام وعلي بن حمشاذ العدل، قالا: حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن أبي سَلَمة، قال: اشتكى أبو الردَّاد فجاءه عبدُ الرحمن عائدًا، فقال: خيرُهم وأَوصلُهم - ما علمتُ - أبو محمد، فقال عبدُ الرحمن: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"قال الله ﷿: أنا الله وأنا الرحمنُ، خلقتُ الرَّحِمَ، وشَقَقتُ لها من اسمي، فمَن وَصَلَها وصلتُه، ومن قَطَعَها قطعتُه (1) . وأمّا حديث محمد بن أبي عَتيق:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7269 - صحيح
سیدنا ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالرداد بیمار ہو گئے، سیدنا عبدالرحمن ان کی عیادت کے لئے آئے، ابوالرداد نے کہا: اے ابومحمد! سب سے بہتر اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا کون ہے؟ سیدنا عبدالرحمن نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اللہ ہوں اور میں رحمن ہوں، میں نے اس (رحم یعنی رشتہ داری) کے لئے اپنے نام سے نام رکھا، لہٰذا جس نے اس کو ملایا، میں اس سے ملوں گا، اور جس نے اس کو کاٹا، میں اس کو (جنت کے راستے سے) کاٹوں گا۔ محمد بن ابی عتیق رضی اللہ عنہ کی حدیث [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7456]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7457
فأخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا العباس بن الفضل الأَسْفاطي والحسن بن علي بن زياد، قالا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني أخي أبو بكر، عن سليمان بن بلال، عن محمد بن أبي عَتيق، عن ابن شهاب، عن أبي سَلَمة، أنَّ أبا ردَّاد اللَّيثي أخبره عن عبد الرحمن بن عَوف، أنه سمع رسولّ الله ﷺ يقول:"قال الله ﵎: أنا الرحمنُ، خلقتُ الرَّحِمَ، وشَقَقْتُ لها من اسمي، فمَن وَصَلَها وصلته، ومن قَطَعَها أَبَتَتُّه" (2) . وأما حديث شعيب بن أبي حمزة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7270 - صحيح
سیدنا ابوسلمہ فرماتے ہیں: ابورداد لیثی سے مروی ہے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں رحمن ہوں، میں نے رحم کو پیدا کیا ہے، اور اس کے لئے اپنے نام سے نام رکھا ہے، جس نے اس کو ملایا، میں اس سے ملوں گا اور جس نے اس کو توڑا، میں اس کو (اپنی رحمت سے) الگ کر دوں گا۔ شعیب ابن ابی حمزہ سے مروی حدیث [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7457]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7458
فأخبرني أبو سهل بن زياد النَّحْوي ببغداد، حدثنا عبد الكريم بن الهيثم، حدثنا أبو اليمان، أخبرنا شعيب (ح) وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، واللفظُ له، حدثنا محمد بن خالد بن خَلِيّ، حدثنا بِشْر بن شعيب، حدثني أبي، عن الزُّهْري، حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن، أنَّ أبا الردَّاد الليثي أخبره، قال: سمعتُ عبد الرحمن بن عوف يذكر أنه سمع رسولَ الله ﷺ يقول:"قال الله ﵎: أنا الرحمنُ، خلقتُ الرَّحِمَ، وشَقَقَتُ لها من اسمي، فمَن وَصَلَها وصلتُه، ومن قَطَعَها قطعته" (1) . وأمّا حديث سفيان بن حسين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7271 - صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں رحمن ہوں، میں نے رحم (رشتہ داری) کو پیدا کیا اور اپنے نام سے اس کا نام رکھا، لہٰذا جس نے اس کو ملایا، میں اس کو ملاؤں گا اور جس نے اس کو توڑا، میں اس کو توڑوں گا۔ سیدنا سفیان بن حسین سے مروی حدیث [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7458]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7459
فأخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حسين، عن الزُّهْري، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: عادَ عبدُ الرحمن بن عوف أبا الردَّاد الليثي فقال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"قال الله: أنا الله، أنا الرحمنُ، خلقتُ الرَّحِمَ، وشَقَقتُ لها شُعبةً من اسمي، فمَن وَصَلَها وصلتُه، ومن قَطَعَها قطعتُه" (2) رجعتُ إلى ذكر الصحابة رضوان الله عليهم أجمعين: وأّما حديث عائشة ﵂:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7272 - صحيح
سفیان بن حسین اپنی سند کے ہمراہ سیدنا ابورداد لیثی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں رحمن ہوں، میں نے رحم کو پیدا کیا، اور اپنے نام سے اس کا نام رکھا، لہٰذا جس نے اس کو ملایا، میں اس کو ملاؤں گا اور جس نے اس کو توڑا، میں اس کو توڑوں گا۔ اب ہم ذکر صحابہ کی جانب لوٹ کر آتے ہیں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7459]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں