المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ
اللہ کے نزدیک بہترین دوست وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے بہتر ہو
حدیث نمبر: 7481
حدّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدّثنا إبراهيم بن عبد الله، حدّثنا أبو عاصم، أخبرنا جعفر بن يحيى بن ثَوْبان، عن عمِّه عُمَارة بن ثَوْبان، عن أبي الطُّفيل قال: رأيتُ رسول الله ﷺ بالجِعْرانة، فجاءته امْرأةٌ وأنا يومئذٍ غلامٌ، فلما دَنَتْ من النبيّ ﷺ بَسَطَ لها رِداءَه، فجلست عليه، فقلت: مَن هذه؟ فقالوا: هذه أُمُّه التي أرضَعَتْه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7294 - حذفه الذهبي من التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7294 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جعرانہ میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خاتون آئی، میں ان دنوں چھوٹا بچہ تھا، وہ خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے چادر بچھا دی، اور وہ اس پر تشریف فرما ہوئی، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی والدہ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7481]
حدیث نمبر: 7482
أخبرني الحسن بن حَليم (1) المَروَزيّ، حدّثنا أبو الموجَّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا حَيْوة بن شُريح، حدَّثني شُرَحبيل بن شَريك، عن أبي عبد الرحمن الحُبُليّ، عن عبد الله بن عَمرو (2) قال: قال رسول الله ﷺ:"خيرُ الأصحاب عند الله خيرُهم لصاحبِه، وخيرُ الجِيران عند الله خيرُهم لجارِه" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7295 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7295 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے اچھا وہ شخص ہے جو اپنے دوستوں کے حق میں اچھا ہو، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے اچھا پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے حق میں اچھا ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7482]
حدیث نمبر: 7483
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرنا مالك بن أنس. وأخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدّثنا إسحاق بن أحمد بن مِهْران، حدّثنا إسحاق بن سليمان قال: سمعتُ مالكَ بن أنس يحدِّث عن سعيد المَقبُريّ، عن أبي شُريح الكَعْبيّ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن كان يؤمنُ بالله واليوم الآخر فليُكرِمْ ضَيْفَه، جائزتُه يومٌ وليلةٌ، والضِّيافة ثلاثةُ أيام، وما بعدَها فهو صَدَقَةٌ، ولا يَحِلُّ له أن يَنوِيَ عندَه حتى يُحرِجَه" (4) . زاد ابنُ وهب في حديثه:"وجائزته أن يُتحِفَه في اليوم أفضلَ ما يَجِدُ"، وقال: يَثْوي: يُقيم عنده.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه! وقد صحَّت الرواية فيه أيضًا عن أبي هريرة، وأظنُّهما قد خرَّجاه، والذي عندي أن الشيخين ﵄ أهمَلا حديثَ أبي شُريح لرواية عبد الرحمن بن إسحاق عن سعيد المقبُري عن أبي هريرة ﵁ (1) :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7296 - وصح من طريق أبي هريرة وأظن أخرجاه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه! وقد صحَّت الرواية فيه أيضًا عن أبي هريرة، وأظنُّهما قد خرَّجاه، والذي عندي أن الشيخين ﵄ أهمَلا حديثَ أبي شُريح لرواية عبد الرحمن بن إسحاق عن سعيد المقبُري عن أبي هريرة ﵁ (1) :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7296 - وصح من طريق أبي هريرة وأظن أخرجاه
ابوشریح الکعبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، ایک دن، رات تو انعام کے طور پر خدمت کرے، تین دن رات مہمانی ہے اور اس کے بعد صدقہ ہے۔ اور مہمان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرنا چاہیے کہ مہمان تنگ آ کر خود ہی گھر سے چلا جائے۔ ابن وہب نے اپنی حدیث میں یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ ” جائزہ “ کا مطلب یہ ہے کہ ایک دن اس کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق اچھے سے اچھا کھانا کھلائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس موضوع پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث بھی صحیح ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل کیا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابوشریح والی حدیث کو اس لئے چھوڑا ہے کہ اس کو عبدالرحمن بن اسحاق نے سعید المقبری کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7483]
حدیث نمبر: 7484
كما أخبرَناه أبو عبد الله الشَّيبانيّ، حدّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدّثنا مُسدَّد، حدّثنا بِشر بن مُفضَّل، حدّثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن سعيد المَقبُريّ، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"من كان يُؤْمِنُ بالله واليوم الآخرِ، فليُكرِمْ جارَه"، وذكر الحديث إلى آخره (2) . قال الحاكم ﵀: فسمعت عليَّ بن عيسى يقول: سمعت أبا بكر محمد بن إسحاق (1) يقول: مالكُ بن أنس أحفظُ في هذا الإسناد مِن عَدَدٍ مثلِ عبد الرحمن بن إسحاق، وقد تابع عبدُ الحميد بن جعفر مالكَ بن أنس في روايته:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اس کے بعد آخر تک حدیث بیان کی۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: علی بن عیسیٰ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر محمد بن اسحاق فرماتے ہیں: سیدنا مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے اس اسناد میں متعدد راویوں کا ذکر کیا ہے مثلاً عبدالرحمن بن اسحاق۔ اور اس حدیث کو روایت کرنے میں عبدالحمید بن جعفر نے مالک بن انس کی متابعت کی ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7484]
حدیث نمبر: 7485
حدَّثَناه بُندارٌ، حدّثنا أبو بكر الحنفيّ، حدّثنا عبد الحميد (2) بن جعفر، حدّثنا سعيد المَقبُري، أنه سمع أبا شُريح يقول: سمعَتْه أُذنايّ، وبَصُرَ عَينيّ، ووَعَاه قلبي حين تكلَّم به رسولُ الله ﷺ، ثم ذكر الحديث مثلَ حديث مالكٍ سَواءً (3) . فأما الشيخان ﵄، فإنهما لم يحتجّا ولا واحدٌ منهما بعبد الرحمن بن إسحاق (4) .
ابوشریح کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے تب میرے کانوں نے سنا ہے، میری آنکھوں نے دیکھا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے۔ اس کے بعد بالکل سیدنا مالک بن انس کی روایت کردہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اور نہ ان میں سے ایک نے اس حدیث کو عبدالرحمن بن اسحاق کے واسطے سے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7485]