المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
24. إِنَّ اللَّهَ لَا يُعْطِي الْإِيمَانَ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ
بے شک اللہ تعالیٰ ایمان صرف اسے عطا فرماتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے
حدیث نمبر: 7487
وحدثنا أبو العباس على أَثَره، قال: وحدثنا بحر بن نصر، حدّثنا ابن وهب، أخبرني سعيد بن أبي أيوب، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن سِنان بن سعد الكِنْديّ، عن أنس بن مالك، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ليس بمُؤْمِنٍ مَن لا يأمنُ جارُه غَوائلَه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7300 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7300 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص (کامل) مومن نہیں ہے، جس کی بری عادتوں سے اس کے پڑوسی پریشان ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7487]
حدیث نمبر: 7488
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدّثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْريّ، حدّثنا يعلى ومحمد ابنا عُبيد، حدّثنا أبَان بن إسحاق، عن الصَّبَّاح بن محمد (3) البَجَليّ، عن مُرّة الهَمْداني، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله قَسَمَ بينَكم أخلاقَكم كما قَسَمَ بينَكم أرزاقَكم، وإِنَّ الله يُعطي المالَ من يُحِبُّ ومن لا يُحبُّ، ولا يُعطي الإيمانَ إلَّا من يُحبُّ، فمن أعطاه الله الإيمانَ فقده أحبَّه، والذي نفسُ محمدٍ بيده، لا يُسلِمُ عبدٌ حتى يُسلِمَ قلبُه، ولا يؤمنُ عبدٌ حتى يَأمَنَ جارُه بَوائِقَه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7301 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7301 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس طرح تمہارے رزق تقسیم کر دیئے ہیں اسی طرح تمہارے اخلاق بھی بانٹ دیئے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ دنیا کا مال ہر شخص کو دے دیتا ہے خواہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہو یا نہ کرتا ہو، جبکہ ایمان صرف ان لوگوں کو عطا کرتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے۔ لہٰذا جس کو اس نے ایمان کی دولت سے نوازا ہے، اس سے وہ محبت بھی کرتا ہے، اور اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل مسلمان نہ ہو، اور بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ (خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل، دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7488]
حدیث نمبر: 7489
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا أبو بَكْرة القاضيّ، حدّثنا صفوان بن عيسى القاضيّ، أخبرنا ابن عَجلان، عن أبيه، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا أتى النبيَّ ﷺ فشَكَا إليه جارَه، فقال: يا رسولَ الله، إنَّ جاري يُؤذيني، فقال:"أَخرِجْ مَتاعَك فضَعْه على الطريق"، فأخرجَ متاعَه فوضعه على الطريق، فجعل كلُّ مَن مَرَّ عليه قال: ما شأنُك؟ قال: إنِّي شكوتُ جاري إلى رسول الله ﷺ، فأمَرني أن أُخْرِجَ متاعي فأضَعَه على الطريق، فجعلوا يقولون: اللهم العَنْه، اللهم أَخزِهِ، قال: فبلغ ذلك الرجلَ، فأتاه فقال: ارجِعْ، فوالله لا أُؤذيكَ أبدًا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ آخر صحيح أيضًا على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7302 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ آخر صحيح أيضًا على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7302 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور اپنے پڑوسی کی شکایت کی۔ اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا پڑوسی مجھے بہت ستاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا سامان نکال کر باہر گلی میں رکھ دو، اس نے سارا سامان نکال کر راستے میں رکھ دیا، جو شخص بھی وہاں سے گزرتا، وہ (اس طرح سامان گلی میں رکھنے کی وجہ) پوچھتا، تو وہ کہتا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اپنے پڑوسی کی شکایت کی تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں گھر کا سامان نکال کر باہر رکھ دوں، تو میں نے سامان نکال کر باہر رکھ دیا ہے۔ لوگ اس (کے پڑوسی) کے بارے میں کہنے لگ گئے،” اے اللہ اس پر لعنت کر، اے اللہ اس کو رسوا کر۔ اس (پڑوسی) تک اس بات کی خبر پہنچ گئی، وہ وہاں آیا اور کہنے لگا: تم اپنا سامان واپس گھر لے جاؤ، اللہ کی قسم! میں آئندہ سے تمہیں کبھی تنگ نہیں کروں گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی ایک اور بھی شاہد حدیث موجود ہے وہ بھی امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7489]
حدیث نمبر: 7490
أخبرَناه محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدّثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدّثنا علي بن حكيم، حدّثنا شَرِيك، عن أبي عمر الأزديّ، عن أبي جُحَيفة قال: جاء رجلٌ إلى النبيِّ ﷺ يشكو جارَه، فقال له النبيُّ ﷺ:"اطرَحْ مَتاعَك في الطريق"، قال: فجعل الناسُ يَمُرُّون به فيَلعَنونه، فجاء إلى النبيِّ ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، ما لَقِيتُ من الناس؟! قال:"وما لَقِيتَه منهم؟" قال: يلعنونيّ، قال:"فقد لَعَنَك اللهُ قبلَ الناس" قال يا رسولَ الله، فإنِّي لا أعودُ، قال: فجاء الذي شَكَا إلى النبيِّ ﷺ، فقال له النبيُّ ﷺ:"قد أَمِنتَ" أو"قد كُفِيتَ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7303 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7303 - على شرط مسلم
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اپنے پڑوسی کی شکایت لے کر آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر کا سامان نکال کر گلی میں رکھ دو، (اس نے ایسا ہی کیا) اب لوگ وہاں سے گزرتے اور اس (پڑوسی) پر لعنتیں بھیجتے، وہ آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگ مجھ پر لعنتیں بھیجتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انہوں نے تو بعد میں تجھ پر لعنت کی ہے،) ان سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تجھ پر لعنت کی ہے، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آئندہ سے ایسی حرکت نہیں کروں گا۔ راوی کہتے ہیں: جس نے شکایت کی تھی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو امن میں ہو گیا ہے یا (شاید یہ) فرمایا کہ تو نے بھی لعنت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7490]
حدیث نمبر: 7491
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدّثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن أبي يحيى مولى جَعْدة، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قيل لرسول الله ﷺ: إنَّ فلانةَ تُصلِّي الليل وتصوم النهار، وفي لسانها شيءٌ يُؤذي جيرانَها؛ سَلِيطةٌ، قال:"لا خيرَ فيها، هي في النَّار"، وقيل له: إنَّ فلانة تُصلِّي المكتوبةَ، وتصومُ رمضان، وتتصدَّقُ بالأثْوار، وليس لها شيءٌ غيرُه، ولا تُؤذي أحدًا، قال:"هي في الجنَّة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7304 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7304 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں عورت رات کو قیام کرتی ہے اور دن کو روزہ رکھتی ہے، جبکہ وہ گفتگو سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف دیتی ہے، بہت زبان دراز ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے، وہ دوزخی ہے۔ یونہی ایک دوسری عورت کے بارے میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں عورت صرف فرض نمازیں پڑھتی ہے، صرف رمضان کے روزے رکھتی ہے اور پنیر کے ٹکڑے صدقہ کرتی ہے، اس کے علاوہ اس کی کوئی خاص عبادت نہیں ہے۔ اور وہ اپنی زبان سے کسی کو تکلیف نہیں دیتی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7491]
حدیث نمبر: 7492
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمدان الجلَّاب بهَمَذان، حدّثنا هلال بن العلاء الرَّقّي، حدّثنا عمرو بن عثمان الرَّقيّ، حدّثنا موسى بن أَعيَن، عن الأعمش، عن أبي يحيى مولى جَعْدة بن (1) هُبيرة، عن أبي هريرة، قال: قيل للنبي ﷺ: إِنَّ فلانةَ تصومُ النهار، وتقومُ الليل، وتُؤذي جيرانَها بلسانها، فقال:"لا خيرَ فيها، هي في النار"، قيل: فإنَّ فلانةَ تُصلِّي المكتوبة، وتصومُ رمضان، وتتصدَّقُ بأثوارٍ من أَقِطٍ، ولا تُؤذي أحدًا بلسانها، قال:"هي في الجنَّة" (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں عورت دن بھر روزہ رکھتی ہے ساری ساری رات عبادت کرتی ہے، لیکن اپنی زبان سے پڑوسیوں کو تکلیف دیتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے، وہ دوزخی ہے۔ اور آپ سے عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں عورت صرف فرض نمازیں پڑھتی ہے، صرف رمضان کے روزے رکھتی ہے اور پنیر کے ٹکڑے، صدقہ کرتی ہے، لیکن وہ اپنی زبان کے ساتھ کسی کو تکلیف نہیں دیتی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7492]